ہماری پہچان اردو - افشاں نوید

وہ سڈنی کی مسجد تھی،شدید سردی تھی اور عید کا دن تھا۔عید کی گرمجوشی نے سرد موسم ہی گویا تبدیل کر دیا۔ہم بھول گئے کہ چھتری لے کر ٹھٹھرتے ہوئے مسجد میں داخل ہونے تھے۔
کوئی دیس ہو کوئی زبان،وہاں دوسرے کے مسلمان اور کلمہ گو ہونے کا احساس ہی وجود میں مٹھاس گھول دیتا ہے۔

ہم ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔اس سانولی من موہنی سی لڑکی کی گود میں چند ماہ کابچہ تھا۔مجھے یقین تھا یہ انڈیا سے ہے۔میں نے اپنا تعارف بے جھجک اردو میں کرایا تو اس کی گلابی اردو نے ہمارے بیچ سب فاصلے مٹادئے۔زبان صرف الفاظ نہیں ہے یہ دلوں اور جذبوں کی ترجمانی کرتی ہے۔میں نے کہا لڑکی! تم اچھی اردو بولتی ہو۔بولی نہیں باجی ہم انڈینز بہت متاثر ہیں کہ ہم پاکستانیوں جیسی اردو نہیں بول سکتے۔آپ کے لہجوں جیسی مٹھاس ہم نہیں لا سکتے۔

اصل اردو تو آپ کے ہاں رہتی ہے۔میں نے اسے کڑھا ہوا رومال دیا تو اسکی خوشی دیدنی تھی۔اس کی اردو بہت دیر سماعتوں رس گھولتی رہی . زبان کی کیا اہمیت ہے؟ ان سے پوچھیں جو ہم زبانوں کے بیچ نہیں رہتے۔وہاں زبان ہی "اپنے" ہونے کااحساس دلاتی ہے۔آپ ڈھونڈنے نکلتے ہیں ان مجلسوں کو،ان صحبتوں کو جو ہم زبان ہوں۔ دنیا کی تاریخ کہتی ہے کہ جو آپ کی شناخت مٹانا چاہتے ہیں وہ پہلے زبان چھین لیتے ہیں۔

ہمارے رشتہ دار جو ہجرت کرکے پاکستان نہ آسکے۔وہ رومن اردو تو لکھ پڑھ سکتے ہیں لیکن اردو رسم الخط سے بالکل ناواقف ہیں۔پچھلے ہفتہ غلطی سے اردو میں کسی کا پتا بھیج دیا تو دھلی سے ہم نشیں کا جواب آیا کہ" میں صرف ہندی اور انگلش لکھ پڑھ سکتی ہوں۔

رومن اردو میں پیغام بھیجیں پلیز ۔ وہ کتنے عشروں بعد اردو سے محروم ہوئے۔ کیا یہ صرف زبان سے محرومی ہے یا اور بھی بہت سے ناتے ٹوٹ گئے . مگر ہماری نسلیں جس تیزی سے رومن اردو کی طرف بڑھ رہی ہیں اس تناظر میں اردو کا مستقبل آپ کی نظر میں کیا ہے؟؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */