وائلڈر بمقابلہ فیوری - احسن سرفراز

کھیلوں میں باکسنگ کا کھیل طاقت، مہارت، خونریزی اور سنسنی خیزی کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے اور جب بھی باکسنگ کا ذکر ہوتا ہے تو اسکی سب سے بڑے وزن کی کلاس یعنی ہیوی ویٹ ڈویثرن کی مقبولیت اولین ہے۔ ہیوی ویٹ ڈویثرن کا عالمی چیمپئن "کائنات کا خطرناک ترین انسان" کہلاتا ہے ۔

اور ویسے بھی اس کہاوت پر موجودہ عالمی WBC ہیوی ویٹ چیمپئن ڈیونٹے وائلڈر سو فیصد پورا اترتا ہے، جو پاکستانی وقت کے مطابق اس اتوار کو صبح دس بجے امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں ٹائیسن فیوری کے خلاف اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی گیارہویں کوشش کرے گا۔

امریکہ کی ریاست الاباما کے علاقے ٹسکا لوسا سے تعلق رکھنے والا چھ فٹ سات انچ قد کا حامل چونتیس سالہ وائلڈر اپنے اعزاز کا مسلسل دس بار کامیابی سے دفاع کر چکا ہے اور تینتالیس مقابلوں کے بعد بھی اب تک ناقابل تسخیر ہے۔ برونز بومبر کے لقب سے معروف ڈیونٹے وائلڈر تینتالیس میں سے بیالیس مقابلوں میں کامیاب رہا اور اسکا ایک مقابلہ برابر رہا، ان بیالیس مقابلوں میں سے اسکے اکتالیس حریفوں کو ناک آؤٹ ہار کا مزا چکھنا پڑا۔ وائلڈر کی ناک آؤٹ کی شرح اب تک ہیوی ویٹ باکسنگ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے اور اسکے مکے کو آج تک باکسنگ کی سب سے خطرناک ضرب قرار دیا جاتا ہے۔

وائلڈر کو صرف ایک مقابلے میں کامیابی سے دور رکھنے والے ہیوی ویٹ باکسر کا نام ٹائیسن فیوری ہے جو سابق یونیفائیڈ اور موجودہ لینئل عالمی چیمپئن ہے۔ آئر لینڈ کے خانہ بدوش قبیلے کا خاندانی پس منظر رکھنے والا اکتیس سالہ ٹائی سن فیوری مانچسٹر انگلینڈ سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے خانہ بدوش پس منظر کی وجہ سے فیوری "جپسی کنگ" کے نام سے معروف ہے، ٹائیسن فیوری کی پیدائش پر اسکے والد جان فیوری نے اسکا نام اس وقت کے عالمی چیمپئن اور اپنے ہیرو مائیک ٹائیسن کے نام پر رکھا۔

ٹائیسن فیوری بھی اپنے انتیس میں سے بیس حریفوں کو ناک آؤٹ ہار سے دو چار کر چکا ہے۔ جہاں وائلڈر اپنے فولادی مکے کے ذریعے اپنے ہر حریف کو رنگ میں دھول چٹانے کیلیے معروف ہے وہیں ٹائسن فیوری کا کھیل عظیم محمد علی کے بعد پھرتی اور مہارت کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ وائلڈر اور فیوری کا یہ دوسرا مقابلہ دو ناقابل تسخیر چیمپئنز محمد علی اور "جو فریزئر" کے مقابلے کے بعد گذشتہ پچاس سالوں میں باکسنگ کا سب سے بڑا مقابلہ کہلایا جا رہا ہے۔

نومبر 2015 میں ٹائیسن فیوری اس وقت کے عظیم عالمی چیمپئن ولادی میر کلچکوو کو ایک اپ سیٹ شکست دے کر عالمی چیمپئن بنا تھا لیکن پہلے ہی سے خاندانی طور پر ڈپریشن اور انگزائٹی سے متاثرہ ٹائیسن فیوری اپنے عالمی چیمپئن بننے کے ہدف کے بعد باکسنگ کے کھیل میں کشش کھو بیٹھا اور ڈھائی برس تک کھیل سے نہ صرف دور رہا بلکہ ذہنی امراض اور نشے کی لت کا شکار ہو کر ڈھائی سو پاؤنڈ سے اپنا وزن بڑھا کر چار سو پاؤنڈ کروا بیٹھا۔ ایک وقت میں خودکشی کا فیصلہ کر چکا ٹائیسن فیوری اللہ سے دعا کی بدولت اپنی اس حالت میں سدھار کا جذبہ لے کر دوبارہ باکسنگ رنگ میں متحرک ہوا اور ڈھائی سال بعد اپنا وزن ڈیڑھ سو پاؤنڈ کم کر کے صرف دو ہلکے مقابلوں میں جیت کے بعد دہشت اور خوف کی علامت سمجھے جانے والے ڈیونٹے وائلڈر کے خلاف دسمبر 2018 میں رنگ میں اترا اور اکثر ناقدین کی نظر میں اس مقابلے میں زیادہ راؤنڈز میں کامیاب رہا لیکن آفیشل ججز کی نظر میں وہ مقابلہ برابری پر ختم ہوا۔

ذہنی امراض، موٹاپے اور نشے کی لت سے لڑ کر چھٹکارا پانے والا ٹائیسن فیوری پچھلے مقابلے کے آخری راؤنڈ میں وائلڈر کے خوفناک دائیں اور بائیں خوفناک مکوں کے کمبی نیشن کا شکار بن کر رنگ پر بے سدھ ہو کر گر گیا لیکن ریفری کے دس تک گنتی مکمل کرنے سے پہلے ہی یوں اٹھ کھڑا ہوا جیسے کسی مردے میں دوبارہ روح پھونک دی گئی ہو۔ ٹائیسن اس اٹھنے کو آج بھی یہ کہہ کر یاد کرتا ہے کہ چونکہ میں ذہنی امراض کے شکار لوگوں کیلیے ہمت اور حوصلے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہوں لہذا مجھے ان لوگوں کا حوصلہ قائم رکھنے کیلیے اٹھنا ہی تھا۔

فیوری کا کہنا ہے کہ کسی بھی حریف کو اگر اسے شکست دینا ہے تو اسے رنگ میں کیلوں کے ذریعے گاڑنا پڑے گا، جبکہ وائلڈر کا کہنا ہے کہ اس بار اس نے فیوری کو ہرانے کیلیے چھ فٹ لمبے کیل اور الاباما کا ہتھوڑا کہلانے والا اپنا مکہ تیار کر رکھا ہے اور اس بار فیوری گرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھ پائے گا۔ جبکہ دوسری طرف فیوری اس بار وائلڈر کو ناک آؤٹ کرنے کی دھمکی سنا چکا ہے اور اسکے مطابق اس بار وہ فیصلہ امریکی ججوں کے ہاتھ میں چھوڑنے کی بجائے وائلڈر کو ہی ناک آؤٹ کر کے واضح شکست سے دوچار کرے گا۔

ٹائیسن فیوری نے اپنے سٹائل میں پھرتی اور مہارت کے ساتھ طاقت کا استعمال بھی بڑھانے کیلیے اپنا پرانا کوچ بھی بدل ڈالا ہے اور امریکہ میں ناک آؤٹ کے ماہر چیمپئنز کی تربیت کرنے والے کرانک جم سے تعلق رکھنے والے عظیم کوچ مرحوم ایمانوئئل سٹیورٹ کے بھتیجے شوگرہل سٹورٹ کو اپنا کوچ مقرر کیا ہے۔

مرحوم ایمانوئیل سٹورٹ عظیم چیمپئن ولادی میر کلچکوو کو بھی دو مقابلے ہارنے کے بعد دوبارہ جیت کیلیے تیار کرنے میں کامیاب رہے تھے اور پھر ایمانوئیل کی کوچنگ کی بدولت ولادی میر اپنے وقت کی ناقابل تسخیر قوت میں ڈھل گیا، جسکی جیت کے تسلسل کا خاتمہ بالآخر ٹائیسن فیوری کے ہاتھوں ہوا۔ ایک وقت میں جب ٹائیسن فیوری اور ڈیونٹے وائلڈر دونوں ہی نوجوان تھے اور ابھی کھیل میں نووارد ہی تھے تو عظیم ایمانوئیل سٹیورٹ نے اسی وقت پیشین گوئی کر دی تھی کہ یہ دونوں نوجوان آگے چل کر نہ صرف عالمی چیمپئن بنیں گے بلکہ ان کا شمار باکسنگ کی تاریخ کے عظیم کھلاڑیوں میں بھی ہو گا اور آج سٹورٹ کی عقابی نگاہوں میں آنے والے اس وقت کے ناتراشیدہ ہیروں کی چمک دمک سے دنیائے باکسنگ کی آنکھیں خیرہ ہیں اور یہ دونوں حریف ایک دوسرے سے برتری لے جانے کیلیے پوری طرح تیار ہیں۔

ڈیونٹے وائلڈر اور ٹائسن فیوری کے بلند و بانگ دعوؤں کا نتھارا اس اتوار کو ہو ہی جائے گا اور وقت ثابت کرے گا کہ اس وقت کون دنیا کا خطرناک ترین انسان کہلانے کا حقدار ہے؟ دونوں ہی حریف ایک دوسرے کے خطرے سے خائف نظر نہیں آتے اور دونوں کی جیت کیلیے بلا کی خوداعتمادی اس مقابلے کو مزید سنسنی خیز اور ڈرامائی بنانے کیلیے کافی ہے۔ باکسنگ کی تاریخ کے اس اہم ترین مقابلوں میں سے ایک کے بارے میں ناقدین کسی کی بھی فتح کی پیشین گوئی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

جہاں وائلڈر اپنے فولادی دائیں مکے کی وجہ سے فیوری کیلیے مقابلے کے ہر سیکنڈ کیلیے مسلہ ہے وہیں اپنی مہارت اور پھرتی کی وجہ سے معروف، فیوری کی ہار نہ ماننے والی سرشت بھی وائلڈر کے عالمی اعزاز کیلیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔

باکسنگ کے ماہرین ناک آؤٹ کیلیے وائلڈر کو اور پوائینٹس کی فتح کیلیے فیوری کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ اس مقابلے میں WBC, لینئل اور رنگ میگزین عالمی چیمپئن شپ اعزاز کیلیے میری حمایت اور دعائیں ذہنی امراض، موٹاپے اور نشے کے خلاف مزاحمت، حوصلے اور ہمت کی علامت "جپسی کنگ" ٹائیسن فیوری کے ساتھ ہیں۔

فیوری کی فتح دراصل انسانی عزم کی فتح ہو گی کہ جب انسان اپنے آپ کو بدلنے کی ٹھان لے تو قدرت بھی اسکی ساتھی بن جاتی ہے اور پھر وہ مشکل ترین حالات اور بڑے سے بڑے خطرے کو بھی مردانہ وار لڑ کر شکست دے سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */