کٹ پیس اور مہنگائی کا رونا - ذیشان نور خلجی

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے "غیر قانونی سوسائٹیوں کا حقہ پانی بند کرنا ہوگا۔" گو ہم نے پوری قوم کا ہی حقہ پانی بند کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ اس لئے کبھی کسی چیز کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی کسی چیز کا۔ اور امید ہے ہم اس معاملے میں سرخ رو بھی ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے "سرسبز پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔" اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے یہ بلین ٹریز والا خواب ہمیں ہی شرمندہ نہ کرا دے۔ گو کہ شرمندہ ہونے کے لئے، ہم اور بھی بہت سے نمایاں کارنامے سر انجام دے رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زردای کو مخاطب کرتے ہوئے، ان کا مزید کہنا تھا " عوام کا بس چلے تو تھر کے معصوم بچوں کے قاتلوں کو عبرت کا نشان بنا دیں۔" عوام کا بس چلے تو آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کا جنازہ نکال دیں۔ عوام کا بس چلے تو مہنگائی کا عذاب مسلط کرنے والوں پر قبر کا عذاب مسلط کر دیں۔ عوام کا بس چلے تو جھوٹے دعووں اور جھوٹی تقریریں کرنے والوں کا جینا دو بھر کر دیں جیسے ہم نے عوام کا کر رکھا ہے۔ لیکن ہم اسی لئے تو عوام کی بس، چلنے نہیں دے رہے الٹا ان کے سینوں پر اپنا ٹرک چلائے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے "اگر اس بار مولانا فضل الرحمان نے دھرنا دیا تو دھر لیے جائیں گے۔" اور اب تو عمران خان نے آرٹیکل 6 کا شوشہ بھی چھوڑ رکھا ہے۔ بالکل جیسے مولانا خادم حسین رضوی بھارت کو ' آیا جے غوری ' کہہ کے ڈرایا کرتے تھے ہم اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو ' آیا جے آرٹیکل 6 ' کہہ کے دبایا کریں گے۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے " آٹا گندم بحران میں حکومت ذمہ دار نہیں۔" بلکہ وہ لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے اس حکومت کو منتخب کرنے کے لئے ووٹ دیا تھا۔ اس لئے اب اپنے کئے کی سزا بھی وہی بھگتیں۔

خبر ہے دال ماش اور دال چنا بیس سے تیس روپے، آٹا پانچ سے دس روپے، چینی دس روپے، بناسپتی گھی بیس روپے فی کلو سستا ہو گیا ہے۔ اور تین سو روپے کلو بکنے والے ٹماٹر اب صرف تیس روپے کلو رہ گئے ہیں۔ ایسے میں مجھے ایک انڈین فلم یاد آنے لگی ہے جس میں ایک منتری جی کے پاس مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے لوگ عرضی لے کے آتے ہیں۔ جیسا کہ نان بائی ایسوسی ایشن کا عہدیدار کہتا ہے ہم پانچ روپے کی روٹی بیچتے ہیں لیکن یہ ہمیں مہنگی پڑتی ہے اس لئے اس کی قیمت بڑھا کے سات روپے کی جائے۔

غلے کا تاجر کہتا ہے ہم چاول ساٹھ روپے کلو بیچ رہے ہیں لیکن اس سے ہمارے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے سو چاول کا ریٹ اسی روپے فی کلو مقرر کیا جائے۔ گو اسی طرح تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے مختلف عہدیداران اپنی اپنی گذارشات منتری جی کے حضور پیش کرتے ہیں۔ اور یقین دلاتے ہیں کہ اگر آپ ہماری خواہشاٹ کا احترام کریں گے تو تاجر برادری بھی آپ کی حمایت جاری رکھے گے۔

کچھ سوچ و بچار کے بعد منتری جی کہتے ہیں تم صبح سے روٹی دس روپے اور چاول سو روپے فی کلو فروخت کرنے شروع کر دو۔ دو چار دن میں جب اس کے خلاف آوازیں بلند ہوں گی تو ہم میدان میں کود پڑیں گے اور روٹی سات کی اور چاول اسی روپے فی کلو مقرر کرنے کا پروانہ جاری کر دیں گے۔ایسے میں جنتا بھی راضی ہو جائے گی۔ تم لوگوں کا کام بھی ہو جائے گا۔ ہمیں بھی عوامی حمایت حاصل ہو جائے گی۔

یعنی سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی۔قارئین ! یہ تو سلور سکرین کا قصہ تھا ورنہ گمان غالب ہے کہ جنہیں ہم نے اپنے سر پہ بٹھایا ہے اور اقتدار کی مسند سونپی ہے ان کے دل تو ایسے کالے نہ ہوں گے۔ ویسے سننے میں آیا ہے کہ حکومت ایک دفعہ پھر سے بجلی مہنگی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اللہ خیر ہی کرے !