ادبی دنیا کی بہترین لکھاری .. سمیرا امام سے اک تحریری ملاقات

1-آپ کا تعارف اپنے بارے میں کچھ بتائیے ؟
جواب : میرا نام سمیرا امام ہے ۔ میرا تعلق ایک پختون قبائلی گھرانے سے ہے جو اپنے اقدار سے سختی سے جڑے ہوئے لوگ ہیں ۔ میری شادی ایک اردو اسپیکنگ مہاجر گھرانے میں ہوئی ۔ میاں ادب سے شغف رکھتے ہیں اور خود ایک بہترین شاعر اور ادیب ہیں ۔ میں نے اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے ایل ایل بی اینڈ شریعہ ( آنرز) کیا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کیا ۔

س. 2- قلم سے دوستی کیوں اور کیسے ہوئی ؟ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیابی ملی ؟
جواب : قلم سے دوستی کی کہانی بہت بچپن سے شروع ہوتی ہے ۔ جب میں فقط چار سال کی تھی اور اپنا نام بھی ڈھنگ سے لکھنا نہیں آتا تھا ۔تب حروف جوڑ کے لفظ بنانے کی کوشش کرتی ۔ مجھے کہانیاں پڑھنے کا از حد شوق تھا ۔ اسی شوق کے باعث میں خود کو اپنی کہانیاں سنایا کرتی تھی ۔ پہلی جماعت سے ڈائری لکھنا شروع کی جس میں اپنے پورے دن کی روداد لکھا کرتی ۔ اور جماعت دہم تک یہ روٹین برقرار رہی ۔ آج بھی بچپن میں لکھی گئی ڈائری پڑھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میرے خیالات تب بھی بچوں والے نہیں تھے ۔ مقصد میں کامیابی شاید ابھی تک نہیں ملی ۔ مجھے بہت سی کہانیاں لکھنی ہیں جو میرے اپنے اندر ایک طوفان بپا رکھتی ہیں لیکن وقت کی قلت کےباعث وہ سب کہانیاں ابھی فقط دماغ میں ہی ہیں ۔

3-آپکی تحریریں ہمارے معاشرے میں شہرت پانے والے لغو اور نقل شدہ ادب سے بالکل مختلف ہیں ۔ کیا آپ کو نہیں لگتا اس طرح نام اور مقام بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا ؟
جواب : مجھے نہیں لگتا کہ میری تحریریں کچھ زیادہ انفرادیت لیے ہوئے ہیں ۔ باقی نام اور مقام کی بات مجھے بہت عجیب لگتی ہے ۔ لکھنا شاید اپنے دل کی تسلی اور اپنے ضمیر کے اطمینان کا نام ہے ۔ لکھنے سے مجھے نہ تو کوئی شہرت درکار ہے نہ ہی میری خواہش ہے کہ لوگوں کی زبان پہ میرے چرچے ہوں ۔ مجھے ہجوم سے وحشت ہوتی ہے ۔ مجھے شاید معاشرے کے سدھار میں اپنا حصہ شامل کرنے کے لیے لکھنے کے علاوہ کوئی کام آتا نہیں اس لیے آپ اسے میری مجبوری اور نا اہلی سمجھ لیجیے ۔
جو کچھ نہیں کرتے وہ بیٹھ کے باتیں بگھارتے ہیں اور ہم بھی یہی کر رہے ہیں ۔

4-آپ کی کاوشوں اور اس مقام تک پہنچنے میں آپ کے اہل خانہ خصوصاً شوہر, باپ, بھائی اور بیٹوں کا کیا اور کیسا کردار رہا ؟
جواب: میری زندگی کی ہر کامیابی میں فقط دومردوں کااہم ترین کردار رہا ہے ۔ جومکمل طور پہ میری زندگی کے ہر پہلو پہ چھائے ہوئے ہیں ۔
میرے والد اور میرے میاں ۔والد صاحب وہ گھنی اور مضبوط چھاؤں تھے کہ انکے ہوتے ہوئے مجھے اپنا آپ ایک آہنی قلعہ لگتا ۔ جسے کوئی توڑ نہیں سکتا ۔ میاں وہ شفیق ہستی ہیں جنہوں نے میرے لکھے پہ کبھی تنقیدنہیں کی ۔مجھ پہ اپنے خیالات کبھی نہیں تھوپے ۔ کبھی لکھنے سے نہیں روکا ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ مجھے لکھنے پہ انھوں نے ہی آمادہ کیا ۔ میرے بھائی مجھے بہن کی بجائےماں سمجھتے ہیں اور میرے ہر فیصلے میں انکی رضا اور سپورٹ شامل رہتی ہے ۔

5-آپ کس معاشرے کی نمائندگی کرتی ہیں ؟
نیز آپ آج کی عورت کو کیا دلوانا چاہتی ہیں ؟ عزت ، شہرت ، دولت ؟ میں شاید ایک قبائلی معاشرے ہی کی نمائندہ ہوں۔مجھے دیکھ کر آپکو احساس ہوگا کہ قبائلیوں کی بیٹیاں خود کو کبھی جھکنے اور ٹوٹنے نہیں دیتیں ۔کیونکہ وہ اپنے قبیلے کا مان ہوتی ہیں ۔ آج کی عورت کو فقط عقل سلیم کی ضرورت ہے ۔
عاجزی 'انکساری اور ایثار کی ضرورت ہے ۔ آج کی عورت عجز کو بزدلی خیال کرتی ہے ۔ کام اور محنت کو توہین سمجھتی ہے ۔ آج کی عورت گھر کی ملکہ بننے کی بجائے شمع محفل بننے کی آرزومند ہے ۔ اور نہیں جانتی کہ شمع کی قسمت میں فقط پگھل کے بہہ جانا لکھا ہے ۔ اسےشاہین بننا نہیں آتا کہ جان لے اسکا نشیمن قصر سلطانی کا گنبد نہیں ہے ۔ آج کی عورت نے معاشرے کو جس عظیم نقصان سے دوچار کروادیا ہے اپنی کم عقلی اوربے وقوفی کے ہاتھوں اسکا خمیازہ ہمیں بہت صدیوں تک بھگتنا ہے ۔ میں نہیں کہتی کہ عورت پہ ظلم نہیں ہوتا لیکن اس ظلم کا تناسب وہ نہیں ہے جس کاشور ہے ۔عورت ظلم سے نجات نہیں چاہ رہی وہ گھر سےذمے داریوں سے بچوں سے انکی تربیت سے نجات مانگ رہی ہے ۔ وہ تتلی بن کے ڈال ڈال منڈلاناچاہتی ہے اور بھول گئی ہے کہ بھنورے گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔
عزت کے معیار بدل گئے ہیں ۔ مجھے آج کی عورت کے لیے وہی سادگی درکار ہے جو ہماری ماؤں میں تھی ۔

6-کتنی مرتبہ آپکو یہ احساس ہوا کہ کاش میں حجابی نہ ہوتی ؟
جواب : زندگی میں ایک مرتبہ بھی نہیں ۔الحمد للہ
7- کون سے رویے ، مزاج ، مطالبات آپ کو بہت زیادہ تکلیف دیتے ہیں ؟
جواب : مادہ پرستی اورمفاد پرستی مجھے اندر تک گھائل کر دیتے ہیں ۔ دوسروں کودھکا دے کر آگےبڑھ جاؤ۔ دوسرے کے کندھے پہ پیر رکھ کر اوپرچڑھ جاؤ ۔
اخلاقیات 'سچائی ایمانداری جیسے الفاظ گالی بن چکے ہیں ۔ ہر شخص صرف اپنےمتعلق سوچتا ہے ۔ اسےنہ تو کسی دوسرے کی فکرہے نہ احساس۔
بس اسکے لیے آسانی ہوباقی سب جائیں بھاڑ میں یہ سب تکلیف دیتا ہے .

8- آپ آج کی عورت سے کیا چاہتی ہیں, اس کو کہاں اور کیسے دیکھنا چاہتی ہیں ؟
جواب: میں آج کی عورت سے تن آسانی دور کر دیناچاہتی ہوں۔میں آج کی عورت سے احساس چاہتی ہوں ۔دیدہ بینا چاہتی ہوں . کپڑے لتے کوزندگی کا محور سمجھنے برانڈز کےششکوں سے اس کی سوچ کو آزاددیکھنا چاہتی ہوں۔نمود ونمائش سے اس ماحول اورفضا کو پاک دیکھنا چاہتی ہوں۔مجھے نفرت ہوتی ہے جب لوگ کھانا کھانے سے پہلے اسکی تصویر بنائیں۔ جب اچھا لباس پہن کے سیلفی لی جائے ۔ ہم یہاں نمود کے جھوٹ کے پر تعفن فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔ میں آج کی عورت سے چاہتی ہوں کہ وہ معاشرے کو تصنع سے پاک کر دے ۔

9-آپ کو اپنے عورت ہونے پر فخر ہے کیونکہ...... ؟
جواب : مجھے اپنے عورت ہونے پہ کوئی فخر نہیں ۔ اپنے ملک میں رہتے ہوئے اپنےعورت ہونے پہ شکر ادا کرتی ہوںکہ میں عورت ہوں اپنےمعاشرے کا مردنہیں ۔
ورنہ بے روزگار ہوتی ۔پردیس میں مزدوری کرنے اپنوں سے دور ہوتی ۔ درندہ ہوتی بچوں کو چیر پھاڑ کے مار ڈالتی ۔ حیوان ہوتی ہر ایک پہ بری نگاہ ڈالنااپناحق سمجھتی ۔ معاشرہ مجھے گناہ کرنے کا سرٹیفیکیٹ دیے رکھتا کہ جی یہ ایک مرد ہے ۔الحمد للہ میں اپنے معاشرے کا مرد نہیں ۔الحمد للہ میں ایک عورت ہوں جس کی ذمے داریاں کم ہیں ۔ قیامت کے روزشاید سوال جواب بھی کم ہونگے ۔
10- وہ پیغام جو آپ اپنی تحریروں سے دوسروں تک پہنچانا چاہتی ہیں ؟
جواب : کاہلی 'سستی 'تن آسانی واویلا کرنے سے نکل آئیں ۔ دوسروں کوکوسنے کی بجائے اپنی توانائی کام میں لگائیں اور کام کیےجائیں۔
11- اے کاش.... ؟
اے کاش میرے ملک میں سرمایہ دار غریبوں کا خون نہ چوستا ۔
اےکاش میرے وطن میں ہنرمند نوجوان کو اپناحق ملتا
اےکاش میرے وطن کےبچے تعلیم و تربیت سے کے نام پہ پرائیویٹ اسکولز سےدھوکہ نہ کھا رہے ہوتے۔
اےکاش ہم ایک غریب لیکن غیرت مند قوم ہوتے۔
اےکاش ہمارے حکمران اس قدربے غیرت نہ ہوتے

حریم ادب پاکستان

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عمدہ !
    ایک سچی ، اریجنل عورت سے ملاقات کرکے سچ مچ بہت اچھا لگا ۔ کاش ہماری عورت کو اپنے عورت ہونے کا احساس اور ذمہ داری یاد رہے اور اس پر عمل کی کوشش اپنے ہی گھر سے کر دے کیونکہ گھروں کے سنورنے سے ہی معاشرہ سنور تا ہے ۔ایک گھر ہی معاشرے کی اکائی ہے جب اکائی مضبوط ہوگی تب ہی معاشرہ مضبوط ہوگا ۔

  • بہن سمیرا کی تحریریں وٹس ایپ پہ "مکاتیب امام" کے عنوان سے گلستان ادب گروپ میں شئر ہوتی ہیں- بہت توجہ سے باربار پڑھتی ہوں اپنی اصلاح کے لیے اور ادبی ذوق رکھنے والے دوست احباب میں شئر بھی کرتی ہوں -ماشاؑ اللہ بہت ستھری سوچ کی عکاسی اور درد دل رکھنے کے ساتھ ساتھ رہنمائی کے لیے بہت تحریکی تحریروں کی شان نظر آتی ہے----اللہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی گواہی بن جائیں ایسی سب تحریریں----آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */