ڈومینیکن ریپبلک میں چند دن - مدثر محمود

ایک طویل سفر نے مجھے اتنا تھکا دیا کہ میں سات گھنٹے گہری نیند سویا رہا۔ میری آنکھ کھلی تو فلائٹ پنتاکانا شہر کے ائرپورٹ پر اتر رہی تھی۔ ہر طرف سبزہ دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ ایسا لگ رہا تھا صدیوں بعد سبزہ اور زمین دیکھی ہے۔

دراصل مسلسل لمبی فلائٹس سمندر کے اوپر تھیں اور فلائٹ سے نیچے بس پانی ہی پانی دیکھ دیکھ کر ایسا لگتا تھا کبھی خشکی نظر بھی نہیں آئے گی۔ ائیرپورٹ پر اترا، امیگریشن کاونٹر پہ پہنچا تو خاتون نے سرسری سا پاسپورٹ کو الٹ پلٹ کردیکھا ، اور کچھ کہے یا پوچھے بنا انٹری کی مہر لگادی۔

بیگ لے کر پہلی حماقت یہ کی کہ ائیرپورٹ سے ڈالرز ایکسچینج کرالیے اور سوچے سمجھے بنا ضرورت سے زیادہ ڈالرز چینج کرا لیے۔ ائیرپورٹ پر حسبِ معمول ریٹ کم ہی ملنا تھا اور میں نے لوکل کرنسی کے حساب سے دو اڑھائی ہزار پیسوں کا نقصان کرالیا۔

ڈومینیکن ریپبلک کی کرنسی کو پیسو کہتے ہیں۔ ائرپورٹ سے نکلا ایک ٹیکسی والے سے زیادہ مول تول کیے بنا بس سٹیشن کا مبلغ پچیس ڈالر کرایہ طے کیا اور ٹیکسی والا بھی پچھلے جنم میں کوئی پاکستانی رہا ہوگا اس لیے وہ بھی بولا کہ کرایہ یو ایس ڈالرز میں ہی لوں گا۔ہم مان گئے کیونکہ ڈالرز ہوں یا پیسو ہم نے کونسا قبر میں لے کے جانے تھے۔ ائیرپورٹ سے بس سٹیشن اچھا خاصا فاصلہ تھا۔تقریبا تیس منٹ بعد بس سٹیشن پہنچ کر ٹکٹ کاونٹر سے ڈومینیکن ریپبلک کے دارالخلافہ جانے والی آخری بس کا ٹکٹ لیا۔ غالبا پانچ سو پیسو(دس ڈالر) کا ٹکٹ تھا۔ٹکٹ لے کر سب سے پہلے وائی فائی کنیکٹ کیا، اپنے آفس والوں کو بعد میں میسج کیا اور حسبِ فیشن پہلے فیس بک سٹیٹس لگایا۔

بس آرام دہ اور تیزرفتار تھی نیز پہلی بار بس میں ٹوائلٹ سے بھی آشنائی ہوئی۔ ڈومینیکن ریپبلک کے دارالخلافہ کا نام سینتو ڈومینیگو ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک کو مختصرا ڈی آر بھی کہتے ہیں۔ مگر یہ اصطلاح عموما کیریبین ملکوں میں عام ہے اور عرفِ عام میں پورا نام ہی پکارا جاتا ہے۔ ڈی آر رقبہ کے لحاظ سے کیوبا کے بعد بڑا کیریبئین ملک ہے۔ یہاں کی مشہوری خوبصورت ساحل، ریزارٹس اور گالف کے خوبصورت میدانوں میں پوشیدہ ہے۔

یہاں سپینش زبان بولی جاتی ہے۔ لاطینی امریکہ میں یہ معیشت کے لحاظ سے نوواں بڑا ملک ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ڈی آر نے معاشی طور پر بہت تیزی سے ترقی کی ہے۔ یہاں کی معیشت کا انحصار مختلف اجناس اور سیاحتی آمدن پر ہے۔ یہ کیریبئن میں کافی کے بیج، گنا، چقندر، تازہ اور خشک کیلا، سگار، الکوحل مشروبات، میڈیکل آلات ، جوتے اور جیولری کی بڑی مارکیٹ ہے۔کئی مشہور ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلموں کی شوٹنگ یہاں ہوتی رہی ہے نیز یہ دیگر چھوٹی فلم انڈسٹریز کے لیے بھی مناسب بجٹ میں بہترین لوکیشن والی پرکشش جگہ ہے۔
میں سینٹو ڈومنیگو پہنچا تو میرے میزبان طیب بھائی ابھی تک بس سٹاپ پہ نہیں پہنچے تھے۔

پندرہ بیس منٹ انتظار کے بعد طیب بھائی آئے، ملنے کے بعد ان کی گاڑی میں بیٹھے ،میں بات چیت کے ساتھ ساتھ باہر کا نظارہ بھی کرتا رہا اور لوگوں کا طرزِ زندگی دیکھتا رہا۔ دکانیں اور ٹریفک کا نظام میرے لیے نیا تھا، عجیب و غریب سٹائل کی گاڑیاں، لباس ، بالوں کا سٹائل حتی کے روڈ کے ساتھ کوئی ریڑھی بھی کھڑی تھی تو مابدولت نے ان کا پورا معائینہ کیا۔ طیب بھائی کا حلال ریسٹورنٹ ہے وہاں جاکر روٹی کھائی اور پھر وہ مجھے ایک مناسب سے ہوٹل میں لے گئے۔ کمرہ لیا اور مجھے آرام کرنے کا کہہ کر خود وہ واپس اپنے ریسٹورنٹ چلے گئے۔ میں نے گرم پانی سے غسل فرمایا اور لمبی تان کر سوگیا۔

مغرب کے وقت وہ لینے آئے مسجد النور میں نماز پڑھی پھر وہ ساتھ اپنے گھر لے گئے۔ چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں میاں بیوی دو بیٹے اور جہیز میں ملا سالا رہتے تھے۔ طیب بھائی اپنی زوجہ کو پنکی پنکی کہہ رہے تھے اور آخر تک میں نے بھی نہیں پوچھا کہ پنکی بھابھی کا اصل نام کیا ہے۔ پنکی بھابھی کے ہاتھ کا کھانا بہت لذیذ تھا اور وہ دونوں میاں بیوی ہی اپنے ریسٹورنٹ پہ خود کھانا بناتے تھے۔ رات کا کھانا کھا کر انکے بیٹوں نے سامان گاڑی میں رکھنا شروع کیا۔

میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ دن کو ریسٹورنٹ کھلا ہوتا ہے اور رات کو عشاء کے بعد وہ مسجد کے سامنے برگرز اور فرائیز کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ طیب بھائی کی گاڑی بھی میرے لیے حیرت کا باعث تھی کیونکہ مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ سام سنگ کی کاریں بھی ہوتی ہیں۔ ان کے پاس بڑی کھلی کار تھی اور میری حیرت کودور کرنے کے لیے گاڑی کا بونٹ اٹھا کر انجن بھی دکھایا جس پہ سام سنگ لکھا ہوا تھا۔

ہم مسجد گئے نمازِ عشاء کے بعد انہوں نے ریڑھی پہ سامان لگایا ساتھ انکے بیٹے انکی مدد کررہے تھے۔ آہستہ آہستہ لوگ آنے لگے۔ کالے ، گورے، پاکستانی ، انڈین، عرب مختلف النسل لوگ حلال برگرز کے لیے آرہے تھے، کئی پاکستانی وہیں بیٹھ کر کھانے لگے۔ بینچ اور پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے سٹول بیٹھنے کے لیے موجود تھے۔ ایک صاحب نے مرچوں والا برگر مانگا اور طیب صاحب نے میرے لیے بھی بنایا ، طیب صاحب اور دیگر افراد کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کی تیزترین مرچ ہے اور آپ پورا کیا بلکہ آدھا برگر بھی نہیں کھاسکتے۔

وہ بیف برگر میکسیکو کی کوئی مخصوص تیز مرچ سے بھرا ہوا تھا۔ اور صرف ایک نوالہ لینے کے بعد میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور آنکھوں سے پانی جاری۔ بلاشبہ وہ مرچ سب سے تیز نہیں تو بھی تیز ترین مرچوں میں سے ایک تھی۔ میں ایک سے زیادہ نوالہ نہیں لے سکا۔ طیب بھائی مسکرا رہے تھے اور میں دیکھ رہا تھا ایک گجراتی بابو آدھے سے زیادہ وہ برگر کھاچکے تھے۔

ڈی آر میں پاکستانی اور عرب کمیونٹی خاصی خوشحال لگ رہی تھی۔ کاروں کی امپورٹ، دکانوں ، گیس سٹیشنوں اور ہوٹلز کے کاروبار سے اچھے خاصے دیسی لوگ منسلک تھے۔رات گیارہ بجے کے بعد انہوں نے ریڑھی بند کی سامان گاڑی میں رکھا اور مجھے میرے ہوٹل ڈراپ کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا میں فجر کی نماز میں اکیلا مسجد چلاجاوں؟ انہوں نے منع کیا کہ صبح اندھیرا ہوگا آپ کو زبان بھی نہیں آتی اس لیے بہتر ہے نہ جاو۔ صبح نماز ہوٹل کے کمرے میں ہی پڑھی اور تھوڑی روشنی ہوئی تو واک کرنے نکل پڑا۔ بچے سکول جارہے تھے، سائیکل اور سکوٹر کثرت سے نظر آرہے تھے۔ خواتین بھی سکوٹر چلارہی تھیں۔

ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور رات کو شاید بارش ہوئی تھی اس لیے ہر شے دھلی دھلی سی لگ رہی تھی۔ اکا دکا گھروں کے لان میں کیلے کے درخت بھی لگے ہوئے تھے۔ ایک ریڑھی والے سے تازہ ناریل کی چند قاشیں لیں۔ ناریل کھاتا کھاتا واپس کمرے میں آیا۔ تقریبا نو بجے طیب بھائی آئے اور مجھے اپنے ساتھ اپارٹمنٹ لے گئے۔ پنکی بھابھی نے ناشتہ بنارکھا تھا اور ساتھ چائے دی۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ پہلی بار ہوا کہ پانچ دن بعد چائے پی ورنہ چائے تو آکسیجن کی طرح زندگی کا اہم ترین حصہ رہی ہے۔

ناشتہ کرکے طیب بھائی سے راستے وغیرہ سمجھے اور ہوٹل آکر تیار ہوکر آوارہ گردی کے لیے نکل پڑا۔ طیب بھائی کو ریسٹورنٹ کھولنا تھا اس لیے خود ہی سیر سپاٹے کا پلان کیا۔ ہوٹل کے وائی فائی کی بدولت شیخ گوگل سے اچھی طرح راستے دیکھ کر ذہن میں نقش کیے اور خراماں خراماں چل پڑا۔ صبح کے گیارہ بجے ہونگے جب میں نکلا۔ ہوٹل سے نکل کر ایک بڑی سڑک پہ آیا وہاں چند دکانیں تھیں انکا تفصیلی معائنہ کیا۔ مختلف اقسام اور سائز کے جوس کی بوتلیں اور سوڈے میرے لیے نئے تھے۔ پہلی بار فرائی کیا ہوا کیلا پیکٹوں میں بکتا دیکھا۔ یہ عام کیلا نہیں بلکہ مخصوص پکانے والا کیلا ہوتا ہے۔اسے پلانٹین کہتے ہیں۔

لوگ زیادہ تر کالے تھے مگر سپینش بول رہے تھے۔ بڑی سڑک سے اتر کر ایک کشادہ گلی میں گیا جہاں بڑے بڑے جدید طرز کے گھر بنے ہوئے تھے۔ وہاں کی خاص بات یہ کہ ہر گھر کے سامنے اور اطراف میں درخت لگے ہوئے تھے۔ ایک صاحب سوزوکی ٹائپ گاڑی کے پچھلے حصے میں فروٹ رکھ کر درختوں کے سائے میں کھڑے سگار پھونک رہے تھے۔ ان سے ایک کیلا خریدا، کیلا سائز میں ہمارے ہاں کے تین چار کیلوں کے برابر ہوگا۔ کچھ آگے جاکر ایک ریڑھی سے گنڈیریاں خریدیں۔ گنڈیریاں چھوٹے ٹکڑے نہیں کٹے ہوئے تھے بلکہ لمبے ٹکڑے کاٹ کر پلاسٹک کے لفافوں میں بیچے جارہے تھے۔ گنڈیریاں بہت رسیلی تھیں۔

پانی کا شور اپنی طرف کھینچ رہا تھا اور آخری موڑ مڑا تو سامنے سمندر تھا۔ زندگی میں پہلی بار سمندر دیکھنا بھی ایک یادگار موقع ہوتا ہے۔ میری رفتار کم ہوگئی اور سڑک کے کنارے مبہوت کھڑا سمندر کو دیکھے جارہا تھا۔ سامنے پانی اور آسمان تھا اور تاحدِّ نگاہ کچھ نہیں تھا۔ ایک طرف اونچا سا چبوترہ تھا جہاں دو خواتینِ ہسپانیہ بینچ پہ بیٹھی کچھ کھا رہی تھیں۔ میں اس سنگی چبوترے پہ جاکر کنارے پہ کھڑا ہوگیا اور نیچے چبوترے کی تہہ میں سمندر کی لہریں آکر ٹکرا رہی تھیں۔ تھوڑا دائیں طرف تقریبا سو فٹ کے فاصلے پر سمندر کی طرف راستہ جارہا تھا جہاں درخت لگے ہوئے تھے۔ ناریل کے درخت تھے یا اسی قسم کے لمبے درخت۔

آہستہ آہستہ نیچے چلا گیا اور سینڈل اتار کر سائڈ پہ رکھ کے موٹی بھورے رنگ کی ریت پہ چلنے لگا۔ آہستہ آہستہ آگے گیا اور پانی میرے پاوں سے ٹکرانے لگا۔ زندگی میں پہلی بار سمندر کے پانی سے ملاقات کا عجیب ہی نشہ تھا۔ میرے آس پاس ساری دنیا جیسے فنا ہوگئی ہو، گزشتہ کئی دنوں کے سفر کی تھکاوٹ اور کوفت سب بھول گئی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ بس یہی زندگی ہے۔ کچھ یاد نہیں رہا کہ کون ہوں کہاں ہوں کیوں ہوں؟ آگے کا سفر بھی یاد نہیں رہا۔ بس وہیں کھڑے کھڑے جیسے پتھر کا ہوگیا تھا۔ دور ایک چھوٹا سا نقطہ سمندر میں نظر آرہا تھا۔ کئی منٹ بعد دوبارہ توجہ کی تو وہ نقطہ بڑا ہوتا جارہا تھا۔

میں اسے دیکھتا رہا حتی کہ تیس چالیس منٹ گزر گئے میں دیکھتا رہا اور پھر واضح ہونے لگا وہ ایک بڑا بحری جہاز تھا۔ اپنی آنکھوں سے سمندر میں بحری جہاز دیکھنے کا موقع بھی مل رہا تھا۔ جیسے جیسے جہاز قریب آرہا تھا اس کا ڈیل ڈول حیران کیے جارہا تھا۔ فلموں یا ٹی وی پہ کہاں اندازہ ہوسکتا ہے کہ بحری جہاز کتنا بڑا ہوتا ہے۔ میں بچوں کی طرح جہاز کو دیکھتا رہا۔ پھر ایک خشک پتھر پہ بیٹھ کر بس سمندر کو ہی تکتا رہا۔ کوئی دیکھ لیتا تو ضرور کہتا پاغل ای اوئے۔

سورج ڈھلنے لگا تو میں نے واپسی کی راہ لی تاکہ اندھیرا ہونے سے پہلے مسجد پہنچ جاوں۔ مسجد میں نماز مغرب میں اتنا رش تھا جتنا ہمارے ہاں جمعے کے دن ہوتا ہے۔ نماز کے بعد پنکی بھابھی کے ہاتھ سے بنا لذیذ کھانا کھایا۔ عشا کے بعد طیب بھائی نے مجھے ہوٹل اتار دیا اور ہدایت کی کہ آرام کرنے کی کوشش کرو کیونکہ کل آپ کو دوبارہ لمبے سفر پہ نکلنا ہے۔ اسی رات تقریبا گیارہ بجے کے بعد ایسا طوفان آیا کہ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

صبح طیب بھائی نے ناشتہ کروایا اور ساتھ دو پراٹھے مع آملیٹ ایک فوائل میں پیک کرکے راستے کے لیے دیے۔ گھر سے نکلتے ہوئے پنکی بھابھی کا شکریہ ادا کیا اتنے دن مہمانداری کا۔ پنکی بھابھی کی آنکھوں میں آنسو صاف دیکھے جاسکتے تھے۔ شاید انہیں پاکستان یاد آرہا ہوگا۔ یا عرصے بعد کوئی پاکستان سے گیا ہوگا تو ساتھ جانے والی پاکستان کی خوشبو انہیں رلارہی تھی۔ میں نے گھر سے نکلتے ہوئے خیرو برکت کی دعا دی اور چند لمحے کی اداسی سارے ماحول میں محسوس کرتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا۔

پندرہ بیس منٹ میں ہم بس سٹیشن پہنچے وہاں سے پورٹ او پرنس کی ٹکٹ لی اور کنڈکٹر ظالم نے ایک بیگ فری اور ایک کی علیحدہ ٹکٹ لینے پر مجبور کیا۔ میں نے بھی سوچا ٹھیک بھائی تمہارا بھی حق ہے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی اتار لو۔ بس اپنے وقت سے ٹھیک ایک گھنٹہ لیٹ نکلی اور ہم نے آنکھوں آنکھوں میں ڈومینیکن ریپبلک کو خدا حافظ کہہ دیا۔