کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے- ارشاد احمد عارف

پنجابی میں کہتے ہیں ڈگی کھوتی توں ‘غصہ کمہار تے‘ (گرا گدھے سے غصہ کمہار پر) نریندر مودی کو تنگ‘ آسام سے لے کر دہلی تک ناراض عوام نے کر رکھا ہے غصّہ مگر وہ کبھی پاکستان پر اتارتے ہیں اور کبھی کشمیری عوام پر۔پاگل پن اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ نے ترکی کے سفیر کو بلا کر صدر رجب طیب اردوان کے پاکستانی پارلیمنٹ میں خطاب پر احتجاج کیا جس میں عالم اسلام کے ابھرتے ہوئے قائد نے کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کی مذمت کی اور مقبوضہ کشمیر کو چناکلے سے تشبیہ دی‘ چناکلے میں متحدہ یورپ کی فوجوں نے ترک افواج کا محاصرہ کیا اور فوجی طاقت کے زور پر ترک عوام و افواج کے حوصلے پست کرنے چاہے مگر کمال اتاترک کی قیادت میں ترک افواج نے دست بدست لڑائی میں متحدہ یورپی فوج کو شکست دے کر نہ صرف اپنے وطن کی آزادی کا دفاع کیا‘ بلکہ فتح و کامرانی کی نئی تاریخ مرتب کی۔ چناکلے (گیلی پولی) کا نام سن کر آج بھی یورپی اقوام کے پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔ طیب اردوان نے پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب میں معرکہ چناکلے کا ذکر کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبالؒ کو یادکیا اور اُن کی نظم ’’حضور رسالت مآب ﷺ میں‘‘ کا ایک بند پڑھ ڈالا۔

طیب اردوان نے تو ایک بند ہی پڑھا لیکن عاشقان مصطفی ﷺ کے لئے یہ پوری نظم ارمغان حجاز ہے ؎ گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا جہاں سے باندھ کے رخت سفر روانہ ہوا قیود شام وسحر میں بسرتو کی لیکن نظامِ کہنہ ٔعالم سے آشنا نہ ہوا فرشتے بزم رسالتؐ میں لے گئے مجھ کو حضور آیہ رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو کہا حضورؐ نے اے عندلیب باغ حجاز کلی کلی ہے تیری گرمیٔ نوا سے گداز ہمیشہ سرخوشِ جامِ ولا ہے تیرا فتادگی ہے تری غیرت سجودِ نیاز اڑا جو پستیِ دنیا سے تُو سوئے گردوں سکھائی تجھ کو ملائک نے رفعت پرواز نکل کے باغ جہاں سے برنگِ بو آیا ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تُو آیا ’’حضورؐ دہر میں آسودگی نہیں ملتی تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں وفا کی جس میں ہو بو‘ وہ کلی نہیں ملتی مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی جھلکتی ہے تریؐ امت کی آبرو اس میں طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو‘ اس میں‘‘ نریندر مودی اور بھارتی حکومت کو یہ گفتگو ناگوار گزری اور اس نے احتجاج کر ڈالا‘ ایک آزاد و خود مختار ریاست کے سربراہ کے خطاب پر احتجاج مودی حکومت کے پاگل پن اور بدتہذیبی کا شاہکار ہے ۔مقبوضہ کشمیر پر سات لاکھ بھارتی فوج کا قبضہ ہے اور اپنے تئیں بھارتی حکومت نے 5اگست کے اقدام سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لئے حل کر دیاہے مگر پاکستان‘ ترکی اور ملائشیا جب بھارتی مظالم پر احتجاج کرتے ہیں تو بھارتی حکومت پر لرزہ طاری ہونے لگتا ہے۔ ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے آواز بلند کی تو بھارت نے تجارت ختم کرنے کی دھمکی دی‘ صرف دھمکی نہ دی پام آئل کی درآمد میں کمی بھی کی جبکہ ترکی کو بھی مسلسل سندیسے بھیجے جا رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہامز کے ساتھ ایئر پورٹ پر جو سلوک کیا وہ بھارتی حکمرانوں کی اندرونی کمزوری اور خوف کا مظہر ہے‘ بھارت کے رقبے‘ معاشی و جمہوری چمک دمک اور آبادی سے مسحور عالمی برادری بالخصوص ہمارے دوست عرب ممالک کی بے حسی بلکہ سنگدلی کے سبب صرف کشمیری عوام نہیں دیگر اقلیتیں بھی تاحال آزادی کی منزل سے دور ہیں وگرنہ بھارت کا حوصلہ جواب دے چکا ہے اور صرف عالم اسلام کے اتحاد و اتفاق اور کشمیری عوام کی خلوص نیت کے ساتھ پشت پناہی کا نتیجہ بھارتی شکست وریخت کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ فلموں اور ڈراموں میں بھارتی چکا چوند سے مرعوب بھائی اگر طیب اردوان اور مہاتیر محمد کی چشم بصیرت سے بھارت کا مشاہدہ کریں تو انہیں پتہ چلے کہ ٭ دنیا میں سب سے زیادہ غریب بے روزگار اور ان پڑھ بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ ٭ کم ازکم دو کروڑ انسان چوہے کھا کر گزارا کرتے ہیں۔ ٭ سب سے زیادہ جسم فروشی بھارت میں ہوتی ہے۔ ٭ ستر فیصد آبادی بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہے۔ ٭ سب سے زیادہ جسمانی اعضا بھارتی شہری بیچتے ہیں۔ اسی بنا پر گردوں کی پیوندکاری سستی ہے۔ ٭ فٹ پاتھ پر سونے والوں کی تعداد حیران کن ہے فٹ پاتھ پر پورا پورا خاندان بستا ہے۔ ٭ غربت کے ہاتھوں دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں بھارت میں ہوتی ہیں۔ ٭ بھارت کے بائیس صوبے آزادی اور خود مختاری مانگ رہے ہیں۔ ٭ بھارت کے مختلف صوبوں میں پاکستانی پرچم لہرانا معمول کی بات ہے۔ ٭ سب سے زیادہ ایڈز بھارت میں پھیل رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کا چرچا ہے اور اسے نریندر مودی حکومت اپنا سفارتی کارنامہ قرار دے رہی ہے لیکن بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٹرمپ کے راستے کے اردگرد اونچی دیواریں تعمیر کرکے غربت‘ گندگی اور بے ہنگم آبادکاری کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔کروڑوں روپے لاگت سے تعمیر کی جانے والی ان طویل اور اونچی دیواروں کی ویڈیوز وائرل ہیں اور عوام ان دیواروں کی تعمیر پر احتجاج کررہے ہیں ۔ان کا کہنا یہ ہے کہ مودی حکومت کروڑوں روپے کے وسائل غربت کے خاتمے پر خرچ کیوں نہیں کرتی؟ دیوار تعمیر کرنے کا ایک مقصد احتجاجی ہجوم سے امریکی صدر ٹرمپ کو بچانا بھی ہے ۔ کئی ریاستوں میں قانون شہریت کے خلاف ہنگامے جاری ہیں اور یہ مشتعل ہجوم ٹرمپ کو اپنی جھلک دکھا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اور نریندر مودی میں اس لحاظ سے مشابہت ہے کہ دونوں نسلی تعصبات کو ہوا دے کر اقتدارمیں آئے اور ایک جموں و کشمیر اور دوسرا فلسطین کے مظلوم عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے‘ افسوس مگر یہ ہے کہ ہمارے عرب بھائی اسرائیل کے ہمنوا اور نیتن یاہو کے حلیف ٹرمپ اور نریندر مودی کی زلف گرہ گیر کے اسیر اور فلسطینی و کشمیری عوام کے قاتلوں کے ممدو معاون ہیں سوویت یونین کی طرح بھارت ڈوبتا ہوا بحری بیڑا ہے جبکہ امریکہ بھی زیادہ دیر تک عرب ملوکیت کو برقرار رکھنے کا متحمل نہیں‘ مسلمانوں کو ’’نگاہ بلند‘‘ سخن دلنوازجان پرسوز‘ ایسا رخت سفر رکھنے والا میر کارواں درکار ہے جو امریکہ سے خائف ہو نہ بھارت سے مسحور‘ اقبالؒ نے اسلامیان برصغیر کو امامت و قیادت کی پہچان عطا کی‘ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی صورت میں ایک لیڈر ملا مگر دیگر مسلم ریاستوں کی طرح ہم بھی روباہ صفت ‘ حریص ‘مرعوب اور اقربا پرور سیاستدانوں‘ فوجی حکمرانوں کے چنگل میں پھنس گئے ‘نتیجہ معلوم۔کاش ایک بار پھر ہم اقبالؒ سے رجوع کریں‘ اس کا عطا کردہ سبق دہرائیں: تونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اس کی جو مسلماں کو سلاطیںکا پرستار کرے بھارت کے عوام برہم ہیں اور نریندر مودی مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے خائف ہے اور ہم ؟؟؟فی الحال تو ہم دو کشتیوں کے سوار ہیں۔کوالالمپورکانفرنس کے موقع پر ہم نے یہی ثابت کیا ع کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے