کیا عورت اتنی حقیر ہے - ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

گزشتہ دنوں ریاست گجرات کے بُھج علاقے میں واقع شری ساہ جانند گرلس انسٹی ٹیوٹ (SSGI) کا ایک واقعہ میڈیا میں بہت چرچے میں آیا تھا ، جہاں رہائش پذیر 66 لڑکیوں کی جامہ تلاشی کرکے یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان میں سے کون کون ماہ واری (MC) سے ہے؟

اس گندی حرکت پر انسٹی ٹیوٹ کے ذمے داروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی _ اب یہ انسٹی ٹیوٹ جس سوامی نارائن مندر کے زیرِ انتظام ہے اس کے دھارمک گرو (Preacher) کا یہ بیان سامنے آیا ہے : " ماہ واری کی حالت میں جو عورت اپنے شوہر کے لیے کھانا بنائے گی وہ اگلے جنم میں کُتیا (Female Dog) کی شکل میں پیدا ہوگی اور جو مرد یہ کھانا کھائے گا وہ بھینسا / بیل کی شکل میں پیدا ہوگا _" انھوں نے یہ بھی کہا ہے : " میری یہ باتیں چاہے آپ کو ناپسند ہوں ، لیکن یہ ہمارے شاستروں (مذہبی کتابوں) میں لکھی ہوئی ہیں _"

یہ خبر میری نظر سے گزری تو بہت زیادہ افسوس ہوا _ کیسے بے بنیاد اور توہمات پر مبنی ہیں یہ عقائد ؟ 'پُنَر جنم' کا عقیدہ یوں بھی گورکھ دھندہ ہے ، جس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان اسی دنیا میں مرتا اور دوبارہ جنم لیتا رہتا ہے اور اپنے اچھے یا برے 'کرموں'(کاموں) کے مطابق اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں ، وہ برے کام کرتا ہے تو اگلے جنم میں کتّا ، بلّی ، خنزیز ، گدھا ، درخت یا کچھ اور بن جائے گا _ ساتھ ہی یہ تصوّر کتنا عجیب ہے کہ ماہ واری کے دوران اگر عورت کھانا پکائے گی تو اگلے جنم میں وہ کُتیا بن جائے گی _ عورت کے بارے میں کتنا حقارت آمیز ہے یہ واہمہ ؟!!

اس کے مقابلے میں اسلام کا تصوّر عورت کے بارے میں کتنا پاکیزہ اور اعلیٰ و ارفع ہے؟!عورتوں میں ماہ واری ایک طبیعیاتی مظہر (Physiological phenomenon) ہے _ اس سے ہر عورت بلوغت کے بعد سے سنِ یاس (Menopause) تک ہر ماہ گزرتی ہے _ یہ ایسی حالت ہوتی ہے جس میں عورتیں غیر طبیعی کیفیات میں مبتلا رہتی ہیں ، جو بیماری سے مشابہ ہوتی ہیں _ اس دوران ان سے جنسی تعلق قائم کرنا طبّی اعتبار سے عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے ضرر رساں ہوسکتا ہے _

اسی لیے قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ ماہ واری کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہا جائے ، یعنی ان سے جنسی تعلق نہ قائم کیا جائے _(البقرة:222) لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دنوں میں انھیں بالکل اچھوت بنا کر رکھا جائے ، انھیں کوٹھریوں میں قید کردیا جائے ، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے ، ایک جگہ کھانے پینے یا ان کا پکایا ہوا کھانا کھانے سے احتراز کیا جائے _

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے بتایا گیا کہ یہود عورتوں کو ان کی ماہ واری کے دنوں میں بالکل الگ تھلگ کردیتے ہیں تو آپ نے اسے غلط قرار دیا اور قرآن کے اس حکم کی توضیح کرتے ہوئے فرمایا :

اصنعوا كل شيء إلا النكاح

(مسلم :302)

" جنسی تعلق کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہو _"اس طرح آپ نے واضح کردیاکہ ماہ واری کی حالت میں صرف فعلِ مباشرت (Intercourse ) سے پرہیز کرنا چاہیے ، باقی تمام تعلقات بدستور برقرار رکھے جاسکتے ہیں ۔

ایک صحابی نے دریافت کیا : " میری بیوی ماہ واری کی حالت میں ہو تو میرے لیے کیا جائز ہے؟" آپ نے فرمایا : " جسم کے اوپری حصے میں سب جائز ہے _" انھوں نے دریافت کیا : " کیا اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جاسکتا ہے؟" آپ نے فرمایا : "ہاں _" (ابو داؤد : 212)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب کے سامنے ہی یہ باتیں واضح نہیں کیں ، بلکہ خود بھی ان پر عمل کرکے دکھایا _ ایک مرتبہ آپ مسجد میں تھے ، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں تھیں _ آپ نے ایک کپڑا اٹھا کر دینے کو فرمایا _ انھوں نے جواب دیا : "میں ماہ واری ہے ہوں _" آپ نے ارشاد فرمایا : " تمھاری ماہ واری تمھارے ہاتھ میں تھوڑے ہی ہے _" (مسلم:299)

اسلام کی تعلیمات کتنی فطری ہیں؟!

ان میں بے جا پابندیاں اور سختیاں نہیں ہیں

اسلام نے عورتوں کو تمام بنیادی انسانی حقوق سے نوازا ہے

ہم جاننے کی کوشش تو کریں