پاکستان کے ایوانِ بالا کے ما تھے کا جُھومر - محمد عبدالشکور

18فروری بروز منگل پاکستان کی سینٹ میں ایک قرار داد پیش کی گئی اور اسے ہاؤس نے اتفاقِ رائے سے منظوربھی کر لیا۔ قرارداد کا خلاصہ یہ ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے بچے کھُچے علاقے پر مزید غاصبانہ قبضے کے لئے صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو جو کھُلی چھُٹی دی ہے۔

اور جسے وہ ”صدی کی ڈیل“ قرار دیتا ہے، اسے پاکستان کی سینٹ ”صدی کا فریب“ قرار دیتی ہے اور مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔امریکی صدر کے اس اعلان پر مسلم عرب دنیا دانتوں میں انگلی دبائے، خاموشی سے خلا میں گھُور رہی ہے۔ ترکی اور ملائیشیا کے سوا کوئی ملک کھل کر اس کھُلی جارحیت کی مذمت نہیں کر رہا۔

جن ملکوں کو امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی پر اختلاف بھی ہے، وہ بھی بھرپور مذمت سے ہچکچا رہے ہیں۔ایسے میں پاکستان کی سینیٹ کی طرف سے، ایسے وقت میں جب ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کا شکنجہ ہمارے سروں پہ کسا جا رہا ہے، امریکی حکومت کے خلاف قرارداد پیش کرنا اور کامیابی سے پاس کروا لینا آسان کام نہیں۔

جب آپ سعودی عرب جیسے ملک کے پریشر کے باعث کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے بھی گھبرا جاتے ہوں، وہاں ٹرمپ کے ”صدی کے فریب“ کو مسترد کر دینا کتنا مشکل اور رِسکی ہو سکتا ہے۔ احباب نظر اسے بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں۔یہ قرارداد سینیٹر مشتاق احمد خان نے پیش کی تھی۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ وقت کی نزاکت کو جانتے ہوئے سوچتے ہیں، اچھی منصوبہ بندی کرتے ہیں، سرپرائز دیتے ہیں اور نتائج حاصل کرتے ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا دو سال قبل جب مصر کے منتخب صدر محمد مرُسی ڈکٹیٹر سیسی کی قید میں شہید ہوئے اور عرب دنیا بے غیرتی اور بے حسی کی چادر تانے سو رہی تھی، خود نام نہاد جمہوری ملک بھی اس ظلم کے خلاف زبان کھولنے پہ آمادہ نہ تھے۔ پاکستان کی سینٹ نے جنرل سیسی کے ظلم کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کی تھی۔ اُس قرارداد میں پاکستان کی مقتدر عسکری قوتوں کو بھی غیر جمہوری طور طریقوں سے باز رہنے کی نصیحت کی گئی تھی۔ یہ آسان کام نہ تھا۔ عرب ملکوں کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر اس پر بہت نالاں تھے۔ یہ قرارداد بھی سینیٹر مشتاق احمد خان نے پیش کی تھی۔

کھیل کے میدان میں اہم یہ نہیں کہ آپ فٹ بال کے پیچھے کتنی دیر اور دُور تک بھاگتے ہیں، اہم یہ ہے کہ آپ کب اور کس موقع پر اسے ڈی کے پاس لاتے اور گول کیپر کو سرپرائز دیتے ہوئے گول کر لیتے ہیں۔

سینیٹر مشتاق احمد اجلاسوں میں ہمیشہ تیاری کے ساتھ جاتے ہیں، حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ بات کرتے ہیں، بات کو دیے گئے وقت میں سمیٹ لیتے ہیں اور مواقع کو نتائج میں ڈھال لینے کے فن سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے

یہ سلیقہ ہو، تو ہر بات سُنی جاتی ہے

سینیٹر مشتاق احمد خان سینیٹ آف پاکستان کے ماتھے کا جھوُمر ہیں، ایوانِ بالا میں تازہ ہوا کا جھونکا۔ اللہ انہیں سلامت رکھے