میرٹ ، ایمانداری اور گڈ گورننس - خالد مسعود خان

ہمارے ہاں حکومتی اتحادیوں کا حکمران پارٹی کے ساتھ انہی شرائط پر گزارہ ہو رہا ہوتا ہے‘ جن شرائط پر دو مختلف الخیال صاحب ِاولاد میاں بیوی کا گزارہ ہو رہا ہوتا ہے۔ لاکھ اختلافات کے باوجود میاں بیوی صرف اور صرف اپنے بچوں کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی جوت پیزار کے باوجود بچوں کی خاطر ایک گھر میں گزارہ کرتے رہتے ہیں۔

بالکل اسی طرح ہمارے ہاں حکومتی اتحادی جماعتیں اندر خانے مسلسل ''چوں چوں‘‘ کرنے کے باوجود اپنے ''سیاسی نکاح‘‘ کو گھسیٹتے رہتے ہیں‘ تاہم میاں بیوی اس سلسلے میں زیادہ ایماندار اور راست گو ہوتے ہیں۔ وہ اس تعلق کا سارا کریڈٹ اپنے بچوں کو دیتے ہیں اور ہر چوتھے روز ایک دوسرے کو یاد کرواتے رہتے ہیں کہ وہ صرف ان بچوں کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں‘ وگرنہ وہ کبھی کے ایک دوسرے کو چھوڑ چکے ہوتے ‘تاہم حکومتی اتحادی سیاسی جماعتیں ایسی صاف گوئی اور سچائی کے قریب سے بھی نہیں گزریں اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کی اکلوتی وجہ ''اقتدار‘‘ کو کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی وجہ بیان نہیں کرتیں‘ بلکہ اسے اصولی بنیادوں پر حکومت کا ساتھ دینا بیان کرتی ہیں۔جس طرح ایک دوسرے سے بالکل مختلف خیالات کے حامل میاں بیوی اپنے بچوں کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے جھگڑنے کے باوجود زندگی گزارتے رہتے ہیں ‘اسی طرح ہمارے ہاں حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹنے کی خاطر ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں .

اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ محض بچوں کی خاطر گزارہ کرنے والے میاں بیوی کو اکٹھا رکھنے کا سبب بچے ہر سال بڑھتے رہتے ہیں اور ماں باپ کو ایک ساتھ رکھنے کی وجہ کو مزید مضبوط بناتے رہتے ہیں‘ اسی طرح حکومتی اتحادی پارٹیاں ہر تھوڑے دن بعد اقتدار میں سے مزید حصے داری کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں اور جوں جوں ان کے درمیان اقتدار سے وابستہ مفادات کا حصہ بڑھتا رہتا ہے‘ ان کی اقتدار سے محبت بھی بڑھتی رہتی ہے اور حکومتی پارٹی کے ساتھ روٹھنا اور مان جانا بھی بڑھتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کے طور پر ایم کیو ایم کا گراف سب سے بلند ہے اور انفرادی طور پر مولانا فضل الرحمان کا مقابلہ کم از کم برصغیر پاک و ہند میں اور کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ اس وقت پنجاب میں سب سے اہم حکومتی اتحادی پارٹی مسلم لیگ ق ہے‘ بلکہ پارٹی کو چھوڑیں‘ یوں کہہ لیں کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت چودھری پرویز الٰہی کی مرہون منت ہے۔ چودھری پرویز الٰہی کو اپنی اس اہمیت کا پوری طرح ادراک بھی ہے اور وہ اپنی اس کلیدی حیثیت کو پوری طرح کیش کروانے کا حق بھی بخوبی جانتے ہیں‘

تاہم وہ ایک بامروت اور وضع دار آدمی ہیں ‘اس لیے ایم کیو ایم یا مولانا فضل الرحمان کی طرح کھلی کھلی سیاسی بلیک میلنگ کرنے کو نہایت ہی غیر اخلاقی اور نامناسب تصور کرتے ہیں اور ڈھکے چھپے انداز میں اپنی ناراضی اور گلہ شکوہ ادھر اُدھر کے ذرائع سے حکومت تک پہنچاتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے اعزازیے میں اضافہ کرواتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ عموماً طارق بشیر چیمہ کو بطور توپ خانہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ بہاولپوری جاٹ اس معاملے میں چودھری برادران کی بٹالین کے میمنہ و میسرہ کے فریضہ سرانجام دیتا رہتا ہے۔ الفاظ کی گولہ باری عموماً طارق بشیر چیمہ کے ذمے ہوتی ہے اور پیار کا ہاتھ پھیرنے کے لیے چودھری خود کافی تجربہ کار ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ بھی چودھری صاحب نے پنجاب حکومت کو ادھر اُدھر سے شکوے شکایات پہنچا کر اپنی ناراضی سے آگاہ کرتے گزار دیا ‘اوپر سے بیس ممبران اسمبلی کے فارورڈ بلاک نے (جو خود تحریک انصاف کے مفاد پرست گروہ کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ تھا) حکومت کا پیچ ٹائٹ کیا تو حکومت کو چودھری پرویز الٰہی سے بات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

مرکز میں خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ ایم کیو ایم کی روایتی بلیک میلنگ کا منظر پیش کر رہا تھا‘ اوپر سے پنجاب میں یہ معاملہ آن پڑا‘ کیونکہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کا سو فیصد دارو مدار مسلم لیگ ق کے دس ممبران صوبائی اسمبلی کے ہاتھ میں ہے اس لیے تحریک انصاف نے بھی اپنے روایتی لیت و لعل والے رویے کے برعکس تھوڑی سی ''ہل جُل‘‘ دکھائی ‘مگر چودھری صاحب نے پریشر بڑھانے کی خاطر اپنے ڈپٹی کمانڈر انچیف مونس الٰہی سے بیان بازی کرواتے ہوئے نئی کمیٹی پر اعتراض کر دیا اور اس سے بات چیت سے انکار کر کے سیاسی پارہ بلند کر دیا‘ تاہم بعد ازاں اسی کمیٹی سے معاملات سیدھے کر لیے۔ اب راوی کم از کم تھوڑے دن کے لیے تو چین ہی چین لکھتا ہے۔مسلم لیگ ق کو ایک تو اس بات پر ''تپ‘‘ چڑھی ہوئی ہے کہ مونس الٰہی کو وزارت کا تمغہ عطا نہیں ہوا اور ان کے نشان زدہ چار اضلاع میں انہیں وہ موج میلہ کرنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی‘ جسے عام زبان میں ''سیاہ سفید‘‘ کی ملکیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بیان کردہ گلے تو دو عدد ہیں‘ تاہم تیسرا گلہ وہی مونس الٰہی کی وزارت سے تاحال محرومی ہے‘

جسے وہ گول مول انداز میں یہ کہہ کر یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں کہ ہمیں معاہدے کے مطابق طے شدہ وزارتوں سے ایک وزارت کم دی گئی ہے۔ دیگر دو معاملات میں ایک تو چار اضلاع میں افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے کلی اختیار کا معاملہ ہے اور دوسرا یہ کہ ان کے وزراء کو مکمل اختیارات نہیں دیے گئے۔
یہ عاجز نہ تو کبھی خود وزیر رہا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جگری یار کبھی وزیر وغیرہ رہا ہے‘ اس لیے اس عاجز کو قطعاً علم نہیں کہ وزیر کے اختیارات کیا ہوتے ہیں؟ تاہم اس بارے میں کامن سینس سے جو بات سمجھی جا سکتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ وزیر اپنے محکمے کی کارکردگی کا نگران ہوتا ہے۔ اپنے محکمے کو وژن عطا کرتا ہے۔
اپنے محکمے کی ورکنگ پر نظر رکھتا ہے۔ اسے بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتا ہے اور اپنے محکمے کے حوالے سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتا ہے اور اپنے محکمے کی خرابیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان خرابیوں کو دور نہ کر سکنے کی صورت میں ان کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اب میں حیران ہوں کہ آخر ان میں سے کون سا اختیار ہے ‘جو مسلم لیگ ق کے وزراء کو حاصل نہیں؟ کیا وزراء کو ان کے محکمہ کی کارکردگی بہتر کرنے سے روکا گیا ہے؟ کیا انہیں عوامی فلاح و بہبود سے منع کیا جاتا رہا ہے؟ کیا وزراء کو ان کے متعلقہ محکمے کی خرابیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے روکا گیا ہے؟ ویسے پاکستان میں وزراء کی ذمہ داریوں اور اختیارات کا سارا معاملہ ان کو حاصل سہولیات اور اپنے محکمے میں ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

مسلم لیگ ق کے وزراء کو الحمد للہ وہ ساری سہولیات میسر ہیں ‘جو وزیر کو حاصل ہیں۔ گاڑی‘ بنگلہ‘ نوکر چاکر‘ پٹرول‘ جھنڈا اور ہوٹر والا پولیس سکارٹ۔ اب سارا مسئلہ ٹرانسفر پوسٹنگ کا ہے۔ طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ ان کے کہنے پر ان کے علاقے میں افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کی جا رہی ‘جبکہ پنجاب کے بڑے افسر کا کہنا تھا کہ ضلع کے آدھے افسر ان کے کہنے پر تبدیل ہوئے ہیں۔ پڑتال کرنے پر پتا چلا کہ صرف دو افسران کی مرضی سے لگائے گئے ہیں۔ اب ‘پنجاب حکومت نے اچھے بچوں کی طرح وعدہ کیا ہے کہ وہ وعدہ کیے گئے چاروں اضلاع میں سرکاری افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ مسلم لیگ ق کے وزراء اور ارکان اسمبلی کی مرضی اور فرمائش پر کرے گی۔ یہ وہ معاملہ ہے ‘جس پر عمران خان سابقہ حکومت کے لتے لیتے تھے اور اس معاملے میں مغربی ممالک کی بڑی مثالیں دیتے تھے۔ میں نے بہت یاد کرنے کی کوشش کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کوئی ایسا خراب کام نہ کیا ہو ‘جو گزشتہ حکومتوں سے وابستہ ہو۔ مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کم از کم مجھے تو بالکل یاد نہیں آیا۔ کہاں کا میرٹ؟ کہاں گڈ گورننس اور کہاں کی ایمانداری؟ سب کا جنازہ نکل گیا ہے۔