فضیلت ِ علم - شیخ اشتیاق احمد

علم کے لغوی معنی دانش، دانائی، واقفیت اور آگاہی کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سماعت و بصارت زبان اور عقل و فہم عطا کرکے علم کی اس بیش بہا نعمت سے اُس وقت نوازا جب خلیفہ ارض بنا کر ’’ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے(البقرہ:۳۱)۔

بعد ازاں جب فرشتوں سے اُن چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے نہ صرف اپنی کم علمی کا اعتراف کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انسان کی عظمت کے بھی معترف ہوئے۔اِسی علم کی بنیاد پر انسان کو فرشتوں کے ساتھ ساتھ باقی تمام مخلوقات پر شرف حاصل ہوا اور اشرف المخلوقات کہلایا۔

علم و حکمت کا یہ سلسلہ آدم ؑ سے محمد عربیؑ تک اور بعد میں صحابہ تابعین اور اولیاء اللہ اور علمائے کرام کے توسط سے تا ایں دم جاری ہے۔ اسی عدیم المثال دولت سے تقریباً تمام انبیاء و رُسل کو سرفراز کرکے اپنے اپنے مشن پر روانہ کیا گیا۔ کسی کو صحیفوں تو کسی کو براہِ راست کلام کے ذریعے تو کسی کو جبریل امین کے توسط سے یہ نعمت بخشی گئی اور یہی وہ نور ہے جو جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکے ہوئے بے شمار راہ گیروں کو راہِ راست پر گامزن کرکے اپنی اپنی منزلوں تک پہنچا دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پہلا لفظ ’’ اقراء‘‘(العلق:۱) یعنی پڑھو نازل کیا۔ظاہر ہے جس اُمت کے لیے پہلا ہی حکم علم حاصل کرنے سے متعلق ہو اس میں علم، عالم اور طالب علم کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے کلامِ پاک کے ذریعے انسانیت بالخصوص امت مسلمہ کو نہ صرف علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بلکہ ’’انسان کو وہ علم سکھایا گیا جو وہ نہ جانتا تھا‘‘(العلق:۵)۔ یہ علم اب قرآن کریم کی صورت میں محفوظ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے علم کی ابلاغ و ترسیل ، تعلیم و تعلم اور تفہیم و تفسیر کی راہیں ہموار کرنے کے لیے انسان کو فنِ خطابت (علمہ البیان: الرحمن:۴) اور فنِ کتابت(الذی بالقلم: العلق:۴) سکھایا۔علم کی اہمیت و افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی رسول اللہؐ نے علم کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر مرد اور عورت پر فرض ہے۔‘‘(صحیح حدیث)
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہاں بلا امتیاز رنگ و نسل اور ذات و جنس ہر فرد پر حصولِ علم کولازم قرار دیا گیا ہے۔

یہاں پرکسی خاص علم(دینی یا مادی) کی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ اِس ضمرے میںہر وہ علم آتا ہے جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہو۔ حضرت زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ ’’ رسول اللہؐ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہودیوں کی تحریر سیکھ لوں۔‘‘(سنن ابودائود :3645)

اس کے علاوہ جنگِ بدر میں کچھ غیر مسلم قیدیوں کو فدیہ ادا کرنے کے بجائے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت پر مامور کیا گیا تھا۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ قرآنی علم کے ماسوا کوئی اور ہی علم تھا جسے ہم عصری علوم سے موسوم کر سکتے ہیں۔عالم و طالب علم کی فضیلت کے حوالے سے بھی متعدد احادیث کا ذکر احادیث کی کُتب میں ہوا ہے۔

حضرت ابی ہریرہؓفر ماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:’’ جو شخص حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔(سنن ابو دائود:643)

اس حوالے سے اجمالاً مزید ایک حدیث کے چند نکات پیش کیے جاتے ہیں کہ:

۱۔ فرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔

۲۔ عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔

۳۔ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسیچاند کی فضیلت تاروں پر۔

۴۔ عالم کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ (جامع ترمذی:3682)

طالب علم کی عظمت سے متعلق آپؐ فرماتے ہیں کہ’’ تم میں سے سب سے بہترین شخص وہ ہے جو علم سیکھے(طالب علم) اور سکھائے(عالم)‘‘(بخاری شریف)۔یہی نہیں بلکہ رسول اللہ خود اپنے لیے فرماتے ہیں کہ’’ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ‘‘اور علم سیکھنے اور سکھانے کے حوالے سے مختلف مجالس کا انعقاد کیا کرتے تھے اور صحابہؓ کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات بھی دیا کرتے تھے۔

’’ عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ ہمیں نصیحت فرمانے کے لیے کچھ دن مقرر کر دیتے تھے۔۔۔(بخاری شریف)اُمید قوی ہے کہ اسلام میں فضیلت علم کے حوالے سے کافی حد تک آشنا ہوچُکی ہو گی۔ مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بالخصوص جن لوگوں (امت مسلمہ)کو اس نعمتِ عظمیٰ سے نوازا گیا تھا۔

وہ اس سے روگردانی کرتے دکھائے دیتے ہیں اور اس نعمت سے دوری ان کے لیے خدا اور خدائی تعلیمات سے بُعد کا سبب بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ (امت مسلمہ) دنیا کے ہر گوشے میں زوال پذیر معلوم ہوتے ہیں۔ حکیم الامت اقبالؒ کا یہ شعر اس تلخ حقیقت پر صادق آتا ہے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر