سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی شخصیت پر ایک نظر - ابوذر رحیمی

نام مبارک: عبداللہ

کنیت: ابوبکر

لقب: صدیق اور عتیق

یہ دونوں لقب رسول اللہﷺ نے عطا فرمائے تھےـ

(تاریخ الخلفا، ازالۃ الخفا)

والدِ محترم کا نام: آپ رضی اللہ عنہ کے والدِ محترم کا نام عثمان اور کنیت ابو قحافہ بن عامر ہےـوالدہ محترمہ کا نام: آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سلمٰی اور کنیت اُم الخیر ہےـ
اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اُم رومان کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہےـ

نسب مبارک: آپ رضی اللہ عنہ کا نسب آٹھویں پشت میں رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے آنحضرتﷺ کی آٹھویں پشت میں ایک نام مُرّہ ہے ان کے دو فرزند تھےـ کلاب اور تیم ـ آنحضرتﷺ کلاب کی اولاد میں ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ تیم کی اولاد میں ہیں ـ

ولادت مبارک: آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت عام فیل سے تین سال بعد ۵۷۳ میں ہوئی آپ رضی اللہ عنہ رسولِ خداﷺ کی ولادت باسعادت سے دو برس اور کچھ مہینے بعد پیدا ہوئےـ
آپ رضی اللہ عنہ کا رنگ سفید تھا جسم لاغر، رخساروں پر گوشت کم تھا پیشانی ابھری ہوئی اور بال سفید ہوگئے تھے، مہندی اور نیل کا خضاب لگایا کرتے تھے، بڑے رحم دل اور نہایت بردبار تھےـ

آپ رضی اللہ عنہ رسولِ خداﷺ کی رفاقت میں سب سے سابق وفائق تھے حیات میں آپﷺ کے وزیر اور آپﷺ کے بعد آپ کے جانشین ہوئےـ

اولاد: آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں تین لڑکے تھے 1:حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جو کہ غزوہ طائف میں بمعیت رسولِ خداﷺ زخمی ہوئے اور اسی زخم کی وجہ سے اپنے والدِ گرامی کی شروع خلافت میں وفات پائی، 2:حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ 3:حضرت محمد رضی اللہ عنہ ـ

اور آپ رضی اللہ عنہ کی تین ہی بیٹیاں تھیں ـ 1:حضرت اسماء والدہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما 2:اُم المومنین سیدۂ کائنات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ 3:اُم کلثوم جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت شکمِ مادر میں تھیں ـ

حالات قبل از اسلام:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام سے پہلے قبائل و اقارب میں راست گوئی، امانت ودیانت میں مشہور تھےـ اشرافِ قریش میں سے تھےـ تمام اہلِ مکہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس قدر مانتے تھے کہ دیت و تاوان کے مقدمات کا فیصلہ انھیں کے متلعق تھا جب کسی کی ضمانت کر لیتے تھے تو قابلِ اعتبار سمجھی جاتی تھی ـ اہلِ عرب کے نسب کا علم سب سے زیادہ رکھتے تھے علم الانساب اور اخبار عرب کے ماہر تھےـ (اس زمانہ کی یہ علمی فوقیت مسلّم تھی) آپ رضی اللہ عنہ طبعاً برائیوں اور کمینہ خصلتوں سے محتزر رہتے تھے آپ نے زمانہ جاہلیت ہی میں شراب اپنے اوپر حرام کر رکھی تھی اور شراب نوشی میں انسانی آبرو کا نقصان کہتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی بُت پرستی بھی نہیں کی ـ

آنحضرتﷺ سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ابتداء ہی سے خاص اُنس و خلوص تھا اور آپﷺ کے حلقہ احباب میں داخل تھےـ چنانچہ تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا ـ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ صغر سنی میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کو جانے لگے تو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال کو کرایہ پر لیکر آپﷺ کی خدمت کے لیے ساتھ بھیج دیا اور ایک خاص قسم کی روٹی اور روغن زیتون ناشتہ کیلئے آپ کے ہمراہ کیاـ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا جو نکاح رسولِ خداﷺ کے ساتھ ہوا اس میں آپ رضی اللہ عنہ کی کوشش بھی شریک تھی ـ

اسلام قبول کرنا:
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سلیم الطبع، حق پسند اور حق پرست انسان تھے یہی وجہ تھی کہ رسولِ خداﷺ کے مبعوث ہوتے ہی جب آنحضرتﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو دعوتِ اسلام دی تو آپ رضی اللہ عنہ بغیر سے کوئی معجزہ طلب کیے بغیر اسلام لے آئے اور یوں آپ رضی اللہ عنہ آزاد مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے بن گئے اور اپنی طرف سے امداد ونصرت کا وعدہ کیا جس کو نہایت خوبی کے ساتھ پورا کیاـ

اشاعتِ دین:
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے اسلام لاتے ہی دینِ حنیف کی نشرو اشاعت کی جد وجہد شروع کردی تھی جس روز اسلام لائے تو مالِ تجارت کے علاوہ چالیس ہزار (40،000) درھم نقد بھی پاس تھا وہ سب انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت اور اسلام کی اشاعت میں صَرف کردیاـ کثیر تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو نور اسلام سے منور ہو چکی تھی لیکن اپنے اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہ استبداد میں گرفتار ہونے کے باعث طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا تھے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان تمام بندگانِ توحید کو ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کرایا، چنانچہ بلال ابن رباح حبشی، عامر بن فہیرہ، نہدیہ، زنیرہ ام حبس، بنو مومل کی ایک کنیز وغیرہ نے صدیقی جود وکرم سے نجات پائی۔

ایک جماعت اشرافِ قریش کی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں کے وعظ و تبلیغ سے مشرف بہ اسلام ہوئی حضرت عثمان بن عفان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص، فاتح ایران حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم صرف انھیں کی ہدایت سے مسلمان ہوئے اور کفر کی تیز چھری ذرا کُند ہوگی کیونکہ یہ حضرات مکہ کے چار ذی اثر قبائل میں سے تھے اور ہر ایک اپنے قبیلے میں با وجاہت تھا حضرت عثمان بنو اُمیہ میں حضرت زبیر بنو اسد میں حضرت سعد اور حضرت عبدالرحمن بنو زہرہ میں تھےـ یہ آسمانِ اسلام کے نجومِ تاباں ہیں ان تمام درخشندہ ستاروں کا مرکزِ شمسی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی ہےـ

مکی زندگی اور ماحول کی مشکلات:
حضور نبی کریمﷺ نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ (13) برس تک مکہ میں دینی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اس مشکل ترین اوقات میں جان، مال، رائے، مشورہ غرض ہر حیثیت سے پورے متعاون اور کامل دست بازو رہے چنانچہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضورﷺ ہر روز صبح وشام ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے ایک دوسرے سے حالات لیے دیے جاتے، دیر تک یہ ہمدردانہ مجلسِ راز قائم رہتی جب رسول اللہﷺ کہیں تبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ضرور آپ کے ساتھ ہوتے اور ہر مصیبت و آفت میں سینہ سپر رہتے جب قبائلِ عرب اور عام مجمعوں میں حضورﷺ تبلیغ و ہدایت کے لئے تشریف لے جاتے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی ہمرکاب ہوتے اور اپنی نسب دانی اور کثرتِ ملاقات کے باعث لوگوں سے آپ کا تعارف کرواتےـ

کئی بار مکہ میں رسول اللہﷺ کو کافروں کے نرغے سے بچایا ایک بار کا واقعہ ہے کہ کفارِ قریش صحنِ کعبہ میں بیٹھے ہوئے رسول اللہﷺ کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ ہمارے معبودوں کی مذمت کیا کرتے ہیں اتنے میں رسول اللہﷺ وہاں تشریف لے آئے سب نے آپﷺ کو گھیر لیا اور چادر آپﷺ کے گلے میں ڈال کر کھینچنا شروع کی تو کسی نے جاکر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خبردی تو آپ رضی اللہ عنہ بے تاب ہو کر پہنچے اور کہنے لگے تمہاری خرابی ہو کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جس کا فرمان ہے میرا رب صرف ایک اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس معجزات لے کر آیا ہے؟ یہ سن کر کافروں نے رسول اللہﷺ کو چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر جھپٹ پڑے اتنا مارا کے آپ رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو گئے اور کئی دن تک بے ہوش رہے درمیان درمیان میں تھوڑی دیر کے لیے ہوش آتا تو رسول اللہﷺ کی خیریت دریافت کرتے اور جب پوری طرح ہوش آیا تو پہلا سوال یہ تھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو چنانچہ لوگ پکڑ کر لے گئے جب رسول اللہﷺ کے سامنے پہنچتے ہیں تو اس وقت کی حالت بیان میں نہیں آسکتی۔

جب اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی اور آنحضرتﷺ کو بہت مغموم دیکھا تو اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو اس وقت بہت کم سن یعنی صرف چھ برس کی تھیں بڑے ادب و اخلاص کے ساتھ آپﷺ کے نکاح میں دے دیا اور مہر کی رقم بھی اپنے پاس سے ادا کی۔

جب آنحضرتﷺ کو معراج ہوئی تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تصدیق کی۔ کفارِ مکہ نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم محمدﷺ کی اس بات کو بھی سچ مانو گے کہ وہ بیت المقدس گئے اور وہاں سے آسمان پر تشریف لے گئے اور وہاں عجائب وغرائب کی سیر کی اور پھر لوٹ آئے اور اتنا بڑا سفر رات کے ایک قلیل حصہ میں طے ہوگیا؟

تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا خوب جواب دیا فرمایا کہ ہم تو ان کی اس سے بھی زیادہ بعید ازعقل بات مان چکے ہیں وہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام آسمان کے اوپر سے ابھی آئے اور ابھی گئے مطلب یہ ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام کی آمد ورفت چشم زدن میں ہم مان چکے تو آنحضرتﷺ کے جسم مبارک کی لطافت ونورانیت تو جبرائیل علیہ السلام سے بھی فائق ہے لہذٰا آپﷺ کی آمد ورفت میں ہم کو کیا شک ہو سکتا ہے؟ اسی تصدیقِ معراج کے صلے میں آپ رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب ملا تھا۔

سفر ہجرت:
جب تیرہ (13) برس تک مکہ کے کافروں کی طرف سے ہر قسم کے ظلم و ستم اٹھا کر سرور انبیاءﷺ اور آپ کے اصحاب امتحانِ خداوندی میں کامل ہو چکے اور علمِ الٰہی میں ان ظالموں کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا تو وحیِ الٰہی میں آپﷺ کو حکم ملا کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جائیں۔ اس سفرِ ہجرت میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے تمام جماعت صحابہ میں صرف سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا وہی اس سفر میں آپﷺ کے ساتھ تھے اس سفر میں قدم قدم پر جیسی جانی و مالی خدمتیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کیں عشق و محبت کی داستانوں میں کوئی واقعہ اس سے مافوق نہیں مل سکتا۔

یارِ غار کی مِثل دنیا میں اسی وقت سے رائج ہوئی جب سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار میں اپنے حبیب نبی کریمﷺ کی یاری کی اب جو کوئی کسی کا بڑا مخلص دوست ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ فلاں ہمارا یارِغار ہے۔ اس سفرِ ہجرت میں رسول اللہﷺ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب و مخصوص کرکے یہ بات سب پر ظاہر کر دی کہ ان کے اخلاص و محبت پر آپﷺ کو کامل اعتماد تھا اور یہ کہ وہ سب سے زیادہ عقلمند، مدبر، تجربہ کار اور سب سے زیادہ شجاع و بہادر تھے کیونکہ اس خطرناک سفر کے رفیق میں ان سب اوصاف کا ہونا ضروری تھا۔

سیدنا صدیق اکبر کی مدنی زندگی:
ہجرت کے بعد ان روح فرسا مصائب کا تو خاتمہ ہوچکا تھا جو مکہ میں ہر وقت، ہر آن پیش آتے رہتے تھے لیکن مدینہ منورہ میں دوسری قسم کی خدمات مسلمانوں کے سپرد کی گئیں اور جاں بازی و جانثاری کے امتحانات دوسرے طریقے سے لیے جانے لگے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی اور ایک سلسلہ غزوات کا قائم ہوگیا رسول اللہﷺ کو انیس غزوات پیش آئے جن میں سب سے پہلا غزوہ بدر اور سب سے آخری غزوہ تبوک تھا ان تمام غزوات میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپﷺ کے ہمراہ رہے اور بڑی پسندیدہ خدمات انجام دیں۔ تمام غزوات میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہر اعتبار سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

چنانچہ آخری غزوہ تبوک کے موقع پر مصارفِ جہاد کے لیے چندہ کی ضرورت محسوس ہوئی رسول اللہﷺ نے فراہمیِ مال کے متعلق ارشاد فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ اس موقع پر اتفاقاً مجھے کچھ مال ہاتھ لگا تھا میں نے دل میں کہا کہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں چندہ پیش کرکے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا تمام مال میں سے نصف مال گھر چھوڑ کر آئے اور باقی نصف ساتھ لے کر حاضرِ خدمت ہوئے آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کیا کچھ چھوڑ آئے ہو بال بچوں کے لئے؟

تو میں نے عرض کی کہ کُل اثاثہ میں سے نصف مال یہاں حاضر کردیا ہے اور نصف مال اہل و عیال کے لئے باقی چھوڑا ہے پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال حاضر کر دیاـ حضور نے فرمایا اہل و عیال کے لئے کیا چھوڑ کر آئے؟ سیدنا صدیق اکبر نے رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ اللہ اور اس کا رسول اُن کے لیے چھوڑ آیا ہوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اخلاص کا یہ عالم دیکھ کر کہا کہ صدیق پر میں کبھی سبقت نہیں لے جا سکتا۔

حج کی امارت:
9 ہجری میں آنحضورﷺ نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو ادائے حج کے لئے امیر حج بنا کر روانہ کیا قریبا تین سو صحابہ ساتھ تھے اور بعد میں حضرت علی علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو چند ضروری اطلاعات کی تشہیر و تلقین کے لئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سیادت و قیادت کے ماتحت روانہ فرمایا چنانچہ حضرت علی رضی اللہ انہوں نے صرف اعلانات حج کے موقع پر کیے ہیں باقی خطباتِ حج (جو خاص امیر حج کا کام ہوتا ہے) موقعہ بموقعہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی نے پڑھے ہیں ـ

حجۃ الوداع 10 ہجری میں ہوا ہے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ حضور نبی کریمﷺ تھے اور تمام سفر میں، جلوت، خلوت میں شریکِ حال رہے حضورﷺ کے اس آخری حج کے بعد صفر 11 ہجری کے اواخر میں آنحضرتﷺ کی طبیعت ناساز ہوئی اور یہی مرضِ آخر انتقال کا سبب بناـ اس مرض کو مرض الوفات سے تعبیر کرتے ہیں مرض الوفات سے کچھ پہلے آنحضورﷺ نے صحابہ کرام میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا اس میں ذکر فرمایا کہ اللہ تعالی نے اپنے بندے کو دنیا و آخرت میں سے ایک کو پسند کرنے کا اختیار عطا فرمایا ہے۔

پھر اس بندے نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دے دی ہے اس ارشاد کے سننے پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فورا رونے لگے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا صدیق اکبر کے رونے پر تعجب کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بندے کی آخرت کو پسند کرنے کی خوشخبری دی ہے اور یہ رو رہے ہیں دراصل بندہ سے مراد خود نبی کریمﷺ تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی سب سے پہلے اپنے کمالِ علم کی وجہ سے اس سفرِ آخرت کی وجہ کو معلوم کیا۔

فضائلِ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ:
🖋 قرآنِ کریم میں ہے "وسيجنبها التقى الذى يؤتى ماله يتزكى" (اور بچایا جائے گا دوزخ کی آگ سے وہ بڑا متقی جو اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ پاکیزگی حاصل کرے) مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنا مال راہِ خدا میں صَرف کیا اور پے در پے سات غلاموں کو جو مسلمان ہوجانے کے سبب سے ستائے جاتے تھے خرید کر آزاد کردیاـ اللہ تعالی نے اس آیت میں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو "اتقی" یعنی بڑا متقی فرمایا ہےـ

🖋 حدیثِ نبویﷺ ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ "میری اُمت میں سب سے زیادہ میری اُمت پر مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں" ـ(ترمذی)

🖋 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ " تم غار میرے ساتھ رہے اور حوضِ کوثر پر بھی میرے ساتھ رہو گے"(ترمذی)

🖋 حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

"ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جنت کے بڑی عمر والوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء ومرسلین علیھم السلام"(ترمذی)

🖋 امُ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ "جس جماعت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں اس کے لیے زیبا نہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی دوسرا اس کی امامت کرےـ(ترمذی)

خصوصیاتِ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ:

ویسے تو آپ رضی اللہ عنہ بے شمار خصوصیات کے حامل تھے لیکن یہاں چند ایک ذکر کی جاتی ہیں ـ

🖋 تمام صحابہ کرام میں سے صرف سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہی ہیں جن کی چار پشتیں صحابی ہیں: والدین بھی بیٹے اور پوتے بھی، ابو عتیق محمد بن عبدالرحمن بن ابی ابکرالصدیق بن ابی قحافہ رضی اللہ عنھم ـ

🖋 "عتیق" (آگ سے آزاد شدہ) کا لقب خصوصی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہے حدیث میں ہے نبی کریم نے فرمایا کہ " جس شخص کو پسند ہے کہ آگ سے آزادہ شدہ انسان کو دیکھے تو وہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف نظر کرے"

🖋 قیام غارِ ثور کا شرفِ معیت اور حاضری سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہوئی ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم نے "ثانى اثنين اذهما فى الغار" میں فرمایا ہےـ

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا امام مقرر ہونا بحکم رسول اللہﷺ تھا اس خطبہ کے (جس میں لطیف وباریک اشارات آنحضرت کے وصال مبارک کی طرف تھے) بعد جناب رسول اللہﷺ جلد ہی بیمار ہوئے اور مرض دن بدن بڑھتا ہی گیا حتی کہ آنحضرتﷺ آخری ایام میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے مسجد میں تشریف نہیں لے جاسکتے تھے تو نماز کی امامت کے لئے آنحضورﷺ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین میں سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ جب بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع کی تو نبی کریمﷺ نے فرمایا "مروا ابا بكر فليصل بالناس" یعنی ابوبکر کو کہا جائے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

حضورﷺ کی زندگی مبارک میں دورانِ مرضُ الوفات حضورﷺ کے فرمان کے مطابق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ نے تقریبا سترہ نمازوں میں تمام مسلمانوں کی امامت فرمائی۔ یہ امامت صغری فضیلت صدیق کا زبردست نشان ہے جس نے امامت کبری (خلافت) کا راستہ صاف کر دیا۔

رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سقیفہ بن ساعدہ میں انصار کا مجمع ہوا تاکہ کسی خلیفہ کا تقرر کریں وہ چاہتے تھے کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہوں اور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہوں مگر دو خلیفہ کا تقرر کرنا جس قدر باعث افتراق ہوتا ظاہر ہے لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت کے معاملہ میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بیعتِ خلافت قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہا تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب فرمایا کہ کیا تم میرے ساتھ بیعت کرنا چاہتے ہو حالانکہ تم میں "الصدیق" اور "ثانی اثنین" موجود ہیں؟

اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیعت کرنے کے موقع پر ایک کلام کیا تھا اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صفات شمار کرتے ہوئے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم کے صاحب اور ہم نشین ہیں اور ثانی اثنین ہیں اور تم مسلمانوں کے معاملات کے متعلق سب سے اولی ہیں اٹھو اور ان کے ساتھ بیعت کرو۔

خود حضورﷺ کے بہت سارے ارشادات سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اشارات ملتے ہیں جیسا کہ

🖋 ایک مرتبہ کسی بدری صحابی کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے آگے چلتے ہوئے دیکھا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "اتمشى بين يدى من هو خير منك" تم اس کے آگے چل رہے ہو جو تم سے بہتر ہےـ (استیعاب)

🖋 9 ہجری میں رسول اللہﷺ کا سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنانا۔

🖋 آخری غزوہ تبوک میں حضورﷺ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لشکر کا جائزہ لینے اور لشکر کی امامت کرنے کا کہنا۔

🖋 اسی طرح احادیث میں مذکور ہے کہ ایک عورت حضورﷺ کے زمانہ میں آپ کے ہاں حاضرِ خدمت ہوئی، کوئی چیز طلب کرنا چاہتی تھی آپﷺ نے فرمایا کہ "پھر کسی وقت آنا" تو عورت کہنے لگی یا حضرت! اگر میں حاضر ہوں اور آپ موجود نہ ہوں تو؟؟ (اس کا اشارہ آنحضورﷺ کے وصال مبارک کی طرف تھا) آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ "اگر تو آئے اور مجھ کو نہ پائے تو ابوبکر کے پاس جانا" میرے بعد وہ خلیفہ ہیں۔

آنحضورﷺ نے اپنی وفات سے صرف پانچ روز پہلے آخری خطبہ ارشاد فرمایا اس میں حضرت ابوبکر صدیق کی فضیلت اور شرافت صحابہ کرام کے سامنے بیان فرمائی " ان امن الناس على فى صحبه حصاله ابوبکر" یعنی تمام لوگوں میں سے مجھ پر ابوبکر نے بہت احسان کیا ہے تمام عمر میری صحبت وسنگت میں گزاری ہے اور اپنا سارا مال اس نے میرے لئے قربان کر ڈالا ہے پھر فرمایا کہ مسجد نبوی میں اندر آنے کے لئے جو جو دریچے تم لوگوں نے رکھے ہوئے ہیں وہ سب کے سب بند کر دیئے جائیں مگر صرف ابوبکرصدیق کا دریچہ جو مسجد کی جانب ہے وہ کھلا رہے۔
اس آخری خطبہ میں خلافتِ صدیق کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھانے کے لیے اس دروازہ سے مسجد نبوی میں تشریف لایا کریں گے۔

یہاں علامہ ابن کثیر صاحب البدایہ نے ایک باریک بات ذکر کی ہے وہ یہ کہ حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایک مکتوب تحریر فرمانے کا ارادہ ظاہر فرمایا لیکن اس کو کسی مصلحت کی وجہ سے ملتوی فرما دیا اور مذکورہ الفاظ فرما دینے کے بعد یہ آخری خطبہ یوم الخمیس کو ارشاد فرمایا جس میں فضیلتِ صدیقی کا نہایت واضح بیان ہے۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آنحضورﷺ ایک مکتوب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حق میں تحریر فرمانا چاہتے تھے اس کے قائم مقام یہی خطبہ ارشاد فرمایا۔

خلافت صدیقی کے بابرکت کارنامے:
اگرچہ آپ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت بہت مختصر تھا اور ایسے نازک وقت میں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تھے کہ کوئی فرشتہ بھی اگر ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا تھا مگر پھر بھی آپ رضی اللہ انہوں نے جو کام کیے امن و اطمینان کے زمانہ میں بھی اس سے بڑھ کر نہ ہو سکتے تھے چنانچہ چند امور درج ذیل ہیں۔

🖋 سب سے پہلا اور اہم کام رسول اللہﷺ کی نماز جنازہ اور تدفین کا تھا جس کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بڑی حسن و خوبی سے انجام دیا۔

🖋 صحابہ کرام پر اس وقت قیامتِ کبری یعنی رسول اللہﷺ کی وفات کا جو اثر تھا اس نے ان کے حواس کو مختل کر دیا تھا۔ کوئی آپﷺ کی وفات کا منکر تھا کسی کے منہ پر مہر خاموشی لگ گئی تھی کوئی بیتاب تھا جیسا کہ روایات میں مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے یہ کیا کہ حجرہ مقدسہ میں تشریف لے گئے اور آنحضرتﷺ کے رخِ انور سے چادر ہٹا کر جبیں مبارک کو بوسہ دیا اور سوز جگر کے کلمات زبان مبارک سے جاری کیے۔

"وانبیاه واخلیلاہ واصفیاہ" (اے میرے نبی، اے میرے دلی دوست، اے میرے برگزیدہ رفیق) بس یہ کہہ کر باہر تشریف لے آئے اور ایک زبردست خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کیلئے آبِ حیات تھاـ اس خطبہ نے سب کو باہوش کردیا گویا سوتے سے جگا دیاـ

🖋 رسول اللہﷺ کا جو برتاؤ جس کے ساتھ تھا اس کو بڑے اہتمام سے قائم رکھا چنانچہ رسول اللہﷺ حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس کبھی کبھی تشریف لے جاتے تھے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی دستور رکھاـ

قتالِ مرتدین اور جیشِ اُسامہ:
رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر عرب کے بعض قبائل مرتد ہوگئے اور طرح طرح کی بغاوتیں رونما ہوئیں بعض مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے جن میں ایک مسیلمہ کذاب بھی جس نے رسول اللہﷺ کے اخیر وقت میں سر اٹھایا تھا اور خط بھی بھیجا تھا اور ان ہی مدعیانِ نبوت میں اسود عنسی بھی تھا اور سجاح نامی ایک عورت بھی تھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان سب مرتدوں کو اور نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے قتال کے لیے حکمِ قطعی نافذ کردیاـ

ادھر ایک بات یہ بھی در پیش تھی کہ رسول اللہﷺ اپنی آخری وصیت میں حکم دے گئے تھے کہ اُسامہ کا لشکر ملکِ شام کی طرف روانہ کردیا جائے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ نے اس لشکر کی روانگی کا دے دیا مگر تمام صحابہ کرام اس معاملہ میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ ایسے آشوب وقت میں جبکہ اندرونِ ملک میں متعدد قبائل سے بغاوت کے شعلے بلند ہورہے ہیں لڑائی میں پیش قدمی کرنا بالفعل مناسب نہیں لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری اونٹنی لاؤ میں خود قتالِ مرتدین کے لیے جاتا ہوں یہ کہنا تھا کہ تمام صحابہ کرام امیر کی اطاعت میں اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ قتالِ مرتدین کیلئے بھی فوجیں روانہ ہو گئیں ـ

کچھ ہی دنوں میں ہر طرف سے فتح وکامیابی کی خبریں آنے لگیں اور اسلام میں جو ایک مہلک وبا پھیلنے کو تھی یک دم فنا ہوگئی ایک سال کے اندر ہی مدعیانِ نبوت بھی راہی جہنم کردئیے گئے مرتدین کا بھی قلع قمع ہوگیا حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ کا لشکر بھی دشمن کی بڑی بہادر فوجوں کو تہ وبالا کرکے بڑی کامیابی کے ساتھ واپس آگیا یہ وہی معرکہ تھا جس کی پشین گوئی آیت قتالِ مرتدین میں سات آسمانوں کے اوپر سے اُتری تھی ـ

صدیقی معیشت آخری ایام میں:
آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دیکھو ایک دودھ دینے والی اونٹنی، ایک برتن، ایک چادر اور ایک لونڈی جو بیت المال سے مجھے دی گئی تھی اس کو بیت المال میں واپس کردینا چنانچہ سیدۂ کائنات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمام چیزیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تق انہوں نے کہا کہ اے ابوبکر اللہ کی رحمت آپ پر ہو آپ نے اپنے جانشین کیلئے مشکل نمونہ چھوڑا ہےـ

جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وفات کے قریب پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ پر بیت المال کی طرف سے جو خراج ہوا تھا تقریبا چھ ہزار کے قریب پہنچ تھا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اچھا اس خراج کو پورا کرنے کے لیے میرا فُلاں باغ فروخت کرکے بیت المال کی رقم ادا کردی جائے مگر بعد از وفات حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میں والی ہوں لہذا میں تم کو یہ رقم واپس کرتا ہوں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وارثوں سے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے یہ خرچا واپس نہ لیا ورنہ حسبِ ہدایت ادا کرنا چاہتے تھےـ

اپنے کفن کے لیے وصیت فرمائی کہ یہی لباس جو میں پہنے ہوں میرا کفن ہوگا ایک جگہ اس میں زعفران کا رنگ ہے اس کو دھو ڈالناـ آپ رضی اللہ عنہ دنیا سے بالکل پاک دامن گئےـ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت دو برس تین ماہ نو دن رہی جمادی الثانی تیرہ ہجری کو آپ کی وفات ہوئی اور حضورﷺ کے جوارِ رحمت روضہ مقدسہ میں دفن ہوئےـ

حضور نبی کریمﷺ کی آخری آرام گاہ (قبر شریف) کے بالکل متصل آرام تا قیامت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہے مختصر یہ کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جتنا قرب حضورﷺ کے ساتھ اس عالمِ دنیا میں تھا اتنا ہی عالمِ برزخ میں ہے، اتنا ہی قیامت میں ہوگا اور اتنا ہی جنت میں بھی ہوگاـ