ماڈرن ایتھزم (الحاد جدید) کا توڑ - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

ہمارے مسلم معاشروں بالخصوص یونیورسٹیز، میڈیکل کالجز اور ایلیٹ کلاس میں Under the surface تیزی سے پھیلنے والا الحاد اور تشکیک (اگناسٹکسزم) اپنی کوئی بھی علمی یا فکری بنیاد نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ سب کسی سماجی برائی، غلط معاشرتی رویے یا کسی منفی واقعہ کے ردعمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملحد ہیں۔

ان کی کوئی بھی ٹھوس بنیادیں نہیں، ان کے تمام تر دلائل انتہائی سطحی سوچ کے حامل اور مذہبی منافرت کا عکس ہوتے ہیں۔ لہذا آج کے الحاد کا مقابلہ ٹھوس علمی یا فلسفی دلائل سے نہیں بلکہ ان واقعات کے خاتمے سے ہو گا جو الحاد اور تشکیک کے پیدا ہونے کا سبب ہیں۔لبرل ازم کی آڑ میں چھپ کر تیزی سے بڑھتے ہوئے الحاد (یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات اور رب العالمین ہونے کا انکار جس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں) اور تشکیک (اپنے مسلمان ہونے پہ متذبذب،مشکوک یا پریشان ہونا اور اپنے مسلمان ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہ ہونا) کا توڑ کرنے کے لیے بہت سے پلیٹ فارموں پر کام کرنا ضروری ہے۔

بد قسمتی سے ہماری کسی بھی مذہبی جماعت کے اہداف میں عصر حاضر کے فتنوں کا عملی رد اور اس پہ باقاعدہ ٹیم ورک ترجیحی بنیادوں پر شامل نہیں۔ حالانکہ یہ فتنہ ہمارے تعلیمی اداروں سے نکل کر ہمارے گھروں کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے اور عین ممکن ہے آنے والے چند سالوں میں لبرل ازم کی طرح ایتھزم کا فتنہ بھی ہمارے گھر کی دیواروں کو پھلانگ کر اندر داخل ہو جائے۔ لہذا اس کے بروقت تدارک (حالانکہ بہت سا وقت گزر چکا) کے لیے ہر فرد کو میدان عمل میں اترنا ہو گا۔”اس عظیم مقصد کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔“

پہلی چیز یہ کہ اس کے لیے سنجیدہ احباب کو آگے بڑھ کر ایک ایسا فورم تشکیل دینا چاہیے جو اپنے پلیٹ فارم سے عصر حاضر کے فتنوں (ہیومن ازم، ایتھزم، فتنہ انکار حدیث وغیرہ) کا تدارک کرنے کے لیے اہل السنہ کے تمام مسالک (اہلِ حدیث،دیوبندی اور بریلوی) کے اکابر اور ثقہ علمائے کرام کو اپنے پینل میں شامل کرکے ان کی خدمات حاصل کرے اور جوائنٹ سیشنز کا انعقاد کرے جس کابنیادی ہدف یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس اور پروفیسرز ہوں۔ یوں نوجوان نسل کے سامنے ان کے سوالات،شکوک وشبہات کا جواب اور امت کے سواد اعظم کا متفقہ بیانیہ سامنے لایا جائے۔بے شک ہمیں اہل السنہ کو فروعی اختلافات کواک طرف رکھ کر اس عظیم مقصد کے لیے متفقہ بیانیہ لانا ہوگا۔

دوسری چیز یہ کہ ہر حنفی (دیوبندی، بریلوی) کا ایک سلفی (اہل حدیث) پکا دوست ضرور ہو جس کے ساتھ خاندانی سطح کے گہرے تعلقات قائم ہوں۔ یہ پریکٹس علمائے کرام کے درمیان بھی ہونی چاہیے اور عوام الناس کے درمیان میں بھی تاکہ پرامن ماحول میں مناظرہ کی جگہ مکالمہ لے سکے، اور ہم اپنے عقائد و نزاعات (اختلافات) کو دوستانہ ماحول میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺپر پیش کر کے اپنے اختلافات کا خاتمہ کریں۔

ان دو کاموں سے بہت سے ایسے اسباب کا خاتمہ ہو گا جو عوام الناس کے علمائے کرام کے درمیان آپسی جھگڑوں کی وجہ سے ایسی رائے کی پختگی کا سبب بنتے ہیں کہ مذہب، معاشرہ کو امن نہیں دے سکتا وغیرہ وغیرہ، یوں وہ لوگ مذہبی لوگوں سے ہی متنفر ہو کر آہستہ آہستہ دین کو ہی مشکوک سمجھنے لگتے ہیں حتیٰ کہ خود کو لبرل مسلمان، متشکک (اگناسٹک) یا اخیر درجہ میں ملحد (ایتھسٹ) کہلوانے میں بھی عار نہیں سمجھتے بلکہ اس کا فخریہ اظہار کرنے لگتے ہیں۔

چنانچہ پہلی فرصت میں اگر ان دو چیزوں پہ کام کر لیا جائے تو ہم اپنے بہت سے نوجوانوں کو ان فتنوں سے بچا سکتے ہیں۔جدید دور کے جدید مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے ہمیں متحد ہوکر کام کرناہوگا نہیں تو نئی نسل ان فتنوں میں اس طرح سے مبتلا ہوجاے گی کہ اسے واپس لانا ناممکن حد تک مشکل مرحلہ ہوگا۔اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو ان سارے فتنوں کے سامنے بند باندھ سکتا ہے۔

دنیابھر کے باقی مذاہب میں اتنی سکت نہ علمی ہے اور نہ ہی عملی کہ وہ ان جدید فتنہ پردازوں سے نمٹ سکیں۔اسلام کے داعیان کو آگے بڑھ کر اس محاذ کو سنبھالنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر عملی قدم بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔