سیدنا ابوبکرصدیقؓ- حافظ محمد ادریس

انبیائے کرام کے بعد سیدنا ابوبکرصدیقؓ کو افضل البشر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ خلیفۂ اوّل اور رسولِ اکرمؐ کے محبوب ہیں۔ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کا اصلی نام عبداللہ تھا۔ بعثتِ رسولؐ سے قبل یہ نام رکھا جانا بھی مشیّت ایزدی کی حکمت کا ثبوت ہے۔ آپؓ کے والد کا اصلی نام عثمان بن عامر تھا۔ ابوقحافہ ان کی کنیت تھی۔ وہ اپنے نام سے زیادہ اپنی کنیت سے پہچانے جاتے تھے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ بھی اپنے خاندانی نام عبداللہ سے زیادہ اپنی کنیت اور اپنے لقب سے مشہور ہیں۔
مورخین نے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کا نسب نامہ لکھا ہے اور خود آپؓ بھی ماہر انسابِ تھے‘ اپنا نسب بیان کیا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے علاوہ تینوں خلفائے راشدین میں سے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کا شجرہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے قدرے دور‘ یعنی آٹھویں پشت پر جا کر ملتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا نسب نبی اکرمؐ سے نویں پشت پر یکساں ہوجاتا ہے۔ کعب بن لوئی بن غالب ان دونوں عظیم شخصیتوں کے جدّامجد ہیں۔ حضرت علیؓ تو آپؐ کے سگے چچازاد تھے‘ جبکہ حضرت عثمانؓ کا نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پر آپؐ سے مل جاتا ہے۔ حضرت عثمان بنوامیہ میں سے تھے۔ حضرت عمربنو عدی کے چشم وچراغ تھے اور حضرت ابوبکرؓ بنوتیم میں سے تھے ۔

آپؓ نے ابوبکرؓ کی کنیت اختیار کی تو آپ کی عالی مرتبت شخصیت کی وجہ سے یہ اسم عَلم بن گیا اور امت مسلمہ میں انتہائی مقبول اسما میں شمار ہوا۔ بَکر اور بِکر دونوں الفاظ عربی میں مستعمل ہیں۔ بکر کے کئی معانی ہیں؛ پہلوٹھی کا بچہ‘ جوان گائے‘ جوان اونٹ‘ ہرچیز کا حصہ اوّل وغیرہ۔ اسی طرح بِکر کا معنی کنوارایا کنواری‘ انگور کا پکا ہوادانا وغیرہ۔ سیدنا ابوبکرصدیقؓ سے پہلے عربوں میں ایک نام بکر معروف تھا اوراسی نام سے قبیلہ بنوبکر کا ذکر ملتا ہے۔ اس قبیلے کے جدامجد بکر تھے۔ سیدنا ابوبکرصدیق کی اس کنیت کی توجیہات بھی مختلف مورخین نے بیان کی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ آپ جوان اونٹ رکھتے تھے اور ان کو پالنے کے ساتھ ان کی تجارت بھی کرتے تھے۔ آپؓ اونٹوں کی بیماریوں کا علاج کرنے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہی مختلف وجوہات سے آپ کی یہ کنیت مشہور ہوگئی۔ اونٹوں کی مناسبت سے یہ توجیہہ کافی معقول معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے زندگی میں خوب اور نفع بخش تجارت کی ہے اور یہ تجارت محض ایک شعبے میں نہیں تھی‘ بلکہ کم وبیش ہر اس شعبے میں آپ نے تجارت کی جو عربوں کے ہاں متداول تھا۔ اونٹوں کے علاوہ بکریوں کے ریوڑ بھی آپ کے پاس ہوا کرتے تھے۔

صدّیق بھی آپ کے نام کا جزو لاینفک بن گیا۔ سیدنا ابوبکرؓ کو خود نبی اکرمؐ نے صدّیق کا لقب دیا تھا۔ آپ نے نبی پاکؐ کے اعلانِ نبوت سے لے کر آخر تک ہر بات کی بلا چوں چرا تصدیق کی۔ معراج کے موقع پر بھی آپ نے دشمنانِ اسلام کے سوالوں کے جواب میں دو ٹوک انداز میں کہاکہ اگر میرے آقاؐ نے یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے ایک رات میں مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر کی ہے تو اس میں کسی شک کی گنجایش ہی نہیں ہے‘ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اس پر آپ کو صدیق یعنی سراپا سچا‘ صاحبِ صدق وصفا کا خطاب دیا گیا۔ (طبقات ابن سعد‘ ج۲‘ ص۱۷)
قریش کا قبیلہ بنو تَیم نسبتاً چھوٹا قبیلہ شمار ہوتا تھا‘ تاہم سیدنا ابوبکر اور ان کے والد ابوقحافہ دونوں اپنی ذاتی خوبیوں اور جامع شخصیات کی وجہ سے بہت محترم ومعزز قریشی شمار ہوتے تھے۔ دونوں باپ بیٹا مال دار تاجر تھے اور ان کا خاندان قریش کے طے شدہ معاہدے کے مطابق‘ خون بہا اور دیت کے تعین اور ادائیگیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے منصب پر فائز تھا۔ خون بہا کی رقوم بھی انہی کے پاس جمع ہوتی تھیں اور وہ کامل دیانت وانصاف کے ساتھ حق داروں کو ادائیگی کیا کرتے تھے۔ عربی زبان میں اس منصب کو ''شناق‘‘ کہا جاتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق ‘ابوبکرصدیقؓ کے کئی بھائی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد فوت ہوجاتے رہے۔ آپؓ اپنے والدین کے اکیلے بیٹے تھے‘ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائی۔ جسمانی لحاظ سے آپ دبلے پتلے اور قلبی لحاظ سے انتہائی مضبوط اور طاقت ور تھے۔ آپ کا رنگ گورا اور قد درمیانہ تھا۔ آپؓ کے چہرے پر گوشت کم تھا اور آپؓ کی ناک اونچی اور خوب صورت تھی۔ آپ کی پنڈلیاں پتلی تھیں‘ مگر کافی مضبوط اور طاقت سے مالا مال تھیں۔ آپ کی ریش مبارک اور سر کے بال بہت جلد سفید ہوگئے تھے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ اپنے بالوں میں مہندی لگاتے تھے۔ سرخ بالوں کے ساتھ آپ کی ریش مبارک بہت خوب صورت لگتی تھی۔ (بخاری‘ ح۵۸۹۵‘ مسلم‘ ح۲۳۴۱)
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے والدین دونوں میاں بیوی عظیم تھے۔ آپ کی والدہ کا اسم گرامی سلمیٰ بنت صخر بن عمرو بن کعب‘ بن سعد بن تَیم ہے۔ گویا آپ کے والدین (دونوں میاں بیوی) بنو تَیم سے تھے۔ آپ کی والدہ آپ کی ترغیب سے بالکل ابتدائی دنوں میں داخلِ اسلام ہوگئی تھیں۔

آپ کی کنیت بھی بہت عظیم ہے‘ یعنی ام الخیر اور آپ خیر کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھیں۔ فتح مکہ کے وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے والد کو آنحضوؐر کی خدمت میں لائے تو آنحضوؐر نے فرمایا: ابوبکر! تم نے ان کو کیوں زحمت دی۔ میں خود ان کی خدمت میں حاضر ہوجاتا۔ ابوقحافہ کبیرالسن بھی تھے اور بینائی سے کئی سال قبل معذور ہوچکے تھے۔
ابوقحافہؓ کے قبول اسلام سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ایک اور ایسا اعزاز حاصل ہوا‘ جو کسی بھی دوسرے صحابی کو نہ مل سکا‘ یعنی آپؓ کی چار پشتیں درجہ صحابیت پر فائز ہوگئیں۔ آپ کے والد حضرت ابوقحافہؓ‘ آپؓ خود‘ آپ کے بیٹے عبداللہ اور عبدالرحمن اور آپ کے پوتے عتیق بن عبدالرحمن سبھی صحابہ میں شامل ہیں‘ اسی طرح آپ کی والدہ‘ آپ کی اہلیہ‘ آپ کی بیٹیاں اسماء وعائشہؓ آپ کے نواسے عبداللہ بن زبیرؓبھی صحابی ہیں۔ آپ کی چار پشتوں کو شرف صحابیت نے منور ومزین کردیا۔

سیدنا ابوبکرصدیقؓ زمانۂ جاہلیت میں ان تمام عیوب سے بالکل پاک ومنزہ تھے‘ جو اس معاشرے میں روزہ مرّہ کا چلن بن گئے تھے۔ بت پرستی سے اللہ نے آپ کو ہمیشہ محفوظ رکھا‘ تاہم قبول اسلام سے قبل حنفاء کی طرح آپ نے توحید کا اعلان نہیں کیا تھا‘ اس بنا پر آپ اپنے ماحول کے مطابق باپ دادا کے دین پر تھے۔ مورخین نے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی سیرت میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ان کے والد ابوقحافہ بتوں کو سجدہ کرتے تھے۔ خود حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ میں جب بلوغت کی عمر کو پہنچا تو میرے والد اصرار کرنے لگے کہ بت پر حاضری دیا کرو۔ میری طبیعت نہیں مانتی تھی۔ ایک دن وہ میرا ہاتھ پکڑ کر بت خانے میں لے گئے اور بتوں کی بہت تعریف کی‘ پھر کہا میں کسی کام سے جارہا ہوں تم یہاں ان عالی مقام بتوں سے کچھ مانگ لو۔ میں نے ایک بت کے قریب جا کر کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلا سکو گے؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر کہا میں ننگا ہوں ‘مجھے لباس پہنا دو گے؟ اس پر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے ایک پتھر اٹھا کر اسے دے مارا اور وہ منہ کے بل گر گیا۔

(اصحاب الرسولؐ‘ حصہ اول‘ ص۵۸)
آپ زبان کے پکے اور وعدہ ایفا کرنے والے مشہور تھے۔ کسی کو گالی گلوچ دینا یا ناروا جھگڑا کرنا ان کے مزاج سے لگا نہیں کھاتا تھا۔ غریب پرور اور خدا ترس مشہور تھے۔ یہ ذاتی خوبیاں بھی اپنی جگہ‘ آپ کا بڑا اعزاز وامتیاز ہے‘ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بچپن ہی سے آنحضوؐرکے ساتھ گہری دوستی قائم ہوگئی تھی۔ آنحضوؐرعمر میں ابوبکرؓ سے ڈھائی سال بڑے تھے‘ مگر دونوں عظیم شخصیتوں کے مزاج میں ہم آہنگی اور عادات میں پاکیزگی ایک دوسرے کے لیے کشش کا باعث تھی۔ یہ دونوں مثالی دوست عرب کے اس جاہلی اور بت پرست معاشرے میں پروان چڑھ رہے تھے۔ کون جانتا تھا کہ یہ دوستی اس مقام تک جا پہنچے گی‘ جہاں ابوبکرؓ یارِ غار اور خلیفۃ الرسولؐ کہلائیں گے اور سبھی عظیم شخصیات ان پر رشک کریں گی‘ وحی ربّانی میں ان کا تذکرہ آئے گا اور زبانِ صدق مقال سے احادیث میں ان کے مناقب زندہ جاوید ہوجائیں گے۔ یہ سب کچھ قادر مطلق نے خود مقدر کر رکھا تھا۔
آپؓ کے اہل وعیال میںچار بیویوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ (۱)قتیلہ بنت عبدالعزیٰ‘ ان کے بطن سے حضرت عبداللہ اور حضرت اسماء پیدا ہوئے۔ (۳)ام رومان: یہ حضرت عبدالرحمن اور حضرت عائشہ صدیقہ کی والدہ ہیں۔ (۳) اسماء بنت عمیس(بیوہ جعفر طیارؓ): ان کے بطن سے محمدبن ابوبکر پیدا ہوئے۔ (۴)حبیبہ بنت خارجہ: ان سے آپ کی بیٹی ام کلثوم‘ آپ کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں۔ گویا آپ کی چار بیویوں سے آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ‘جو سبھی درجۂ صحابیت پر فائز تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین!