کلماتِ ذکر - عاصم رسول

آج مجھے ایک ضروری کام کے سلسلے میں جے وی سی ہسپتال، بمنہ جانا پڑا۔ حسب معمول اندر لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔ ہر وارڈ کے باہر کچھ لوگ کھڑے تو کچھ بنچوں پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ ۔مجھے جن سے ملنا تھا وہ ابھی کسی کام میں مصروف تھے لہٰذا انہوں نے کچھ وقت انتظار کرنے کو کہا۔

میں نے دیوار سے پیٹھ لگائی اور وہاں مریضوں اور لوگوں کی آوا جاہی کا بغور مشاہدہ کرنے لگا۔ دفعتاً میری نظر وارڑ کے دروازے کی ایک جانب پوسٹر پر پڑی۔ اور میری توجہ اس پوسٹر کی طرف منعطف ہوئی۔ اور خوش گوار حیرت ہوئی کہ ہر وارڈ کے باہر ایسا پوسٹر چسپاں کیا گیا ہے۔ پوسٹر پر لکھا تھا:

waiting time is not wasting time

(recite):

لا حول ولا قوة الا باللہ

یہ کلمہ اللہ کے خزانے میں سے ایک خزانہ ہے (بخاری)

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

دو کلمے ہیں جو رحمٰن کو بہت محبوب ، زبان پر ہلکے، میزان
پر بھاری ہیں۔ (بخاری)

استغفراللہ

اللہ کے رسولﷺفرماتے ہیں میں دن میں ستر(۷۰) مرتبہ اللہ سے
استغفار کرتا ہوں ( بخاری)

یہ پوسٹر دیکھ کر جہاں ایک طرف مجھے قلبی مسرت ہوئی وہیں دوسری طرف شدید قلق بھی ہوا کہ لوگوں کی اس جانب توجہ نہیں ہے۔ اور لوگ یا تو اپنی ہی حسرتوں میں گم ہیں یا فضول بل کہ غیبت، چغل خوری اور لا یعنی باتوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں اور انتظار کی گھڑیوں کو تضیع اوقات بنا رہے ہیں۔

کتنا اچھا ہوتا کہ انتظار میں بیٹھے لوگ ان کلمات کا وردکرتے تاکہ ان کے نامہ اعمال میں ثواب لکھ دیے جاتے اور ساتھ ہی اللہ تعالی کی یاد سے ان کے دل معمور ہوتے۔ یہ اور ان کے علاوہ جو ذکر و اذکار کے دوسرے کلمات قرآن و احادیث میں آئے ہیں ان کے ذریعے تقرب الی اللہ حاصل ہوتا ہے۔

مادہ پرستی کے اس دور میں ہمارا رشتہ رب العالمین سے منقطع ہوچکا ہے اور نتیجہ ہم مختلف جسمانی و روحانی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنے خالق و مالک سے از سر نو رشتہ مستحکم کریں اس کے لیے اللہ پاک کی یاد میں رطب اللسان رہنا اور کلماتِ ذکر کی کثرت کارگر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

آلام روزگار سے گھبرا رہا ہے کیا۔

دل میں خیال یارکومہماں بناکےدیکھ۔