سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون یا؟ عا رف نظا می

جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے میڈیا کی طنابیں مسلسل کَسی جا رہی ہیں اور اب سوشل میڈیا کی باری بھی آ گئی ہے ۔کابینہ کے حالیہ اجلاس میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس مجوزہ قانون کے تحت یو ٹیوب ،فیس بک ،ٹویٹر ،ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوںکے لئے تین ماہ میں پاکستان میں دفاتر کھولنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں قانون توکافی عرصے سے تیار کیا جا رہا تھا گویا کہ وہ اینکر خواتین وحضرات جن کے لیے مروجہ چینلز کے راستے بند کرا دیئے گئے ہیں اور وہ یوٹیوب پر وقتاً فوقتاً اپنے پروگرام کرتے ہیں ان کا مکو ٹھپ دیا جائے گا ۔پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے درست کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے پہلے تحریک انصاف کو اپنے گالم گلوچ بریگیڈ کو نکیل ڈالنی چاہیے ۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان جو وقتاً فوقتاً میڈیا پر غصہ جھاڑتے رہتے ہیں ۔حال ہی میں انہوں نے کہا کہ مجھے میڈیا کی کوئی پروا نہیں، میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ کاش ایسا ہی ہوتا اور میڈیا پر نت نئی قدغنیں لگانے کے بجائے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا جیسا کہ ماضی قریب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں ۔

جی ہاں ! یہ وہی ادوار تھے جن میں آزاد میڈیا کے ذریعے پی ٹی آئی کا برانڈ بنا۔ خان صاحب نے2014ء میں ڈی چوک پر 126دن دھرنا دیا وہ ہر روز کنٹینر پر چڑھ کر حکومت کے خوب لتے لیتے تھے ۔ ڈی چوک سے قریب ہی کچھ عرصے کے لیے ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے بھی اپنی منڈلی سجا رکھی تھی وہ بھی نوازشریف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے لیکن کسی نے ان دھرنوں اور سرگرمیوں کی لائیو کوریج پر پابندی لگانے کا سوچا تک نہیں اور نہ ہی میری یاد داشت کے مطابق کسی اینکر یا سیاسی شخصیت پر پیمرا کی طرف سے ٹاک شوز میںآنے یا انٹرویو دینے یا کرنے پر پابند ی عائد کی گئی تھی ۔ سوشل میڈیا کے لیے نئے قوانین پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ٹویٹ میں کہا کہ یہ فیصلے اقتصادی ہیں سیاسی نہیں۔ نئے قوانین کے مطابق تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی 3 ماہ میں پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے ۔اس سے ڈیجیٹل میڈیا اشتہارات روایتی میڈیا کے نسبت زیادہ ہوں گے۔ میڈیا سے گفتگو میں فواد چودھری نے کہا تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کنٹرول کرنے سے متعلق قانون میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، سوشل میڈیا جس طریقے سے اوپر جا رہا ہے اور ڈیجیٹل میڈیا، فارمل میڈیا کی جگہ لے رہا ہے یہ بہت اہم ہے کہ اسے ریگولیٹ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین، توہین مذہب اور دوسروں کی عزت کو تار تار کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نقصان دہ مواد کو ریگولیٹ کرنا اہم ہوگا اس کا تعلق عام صارفین سے نہیں ہے ۔معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان کے مطابق سوشل میڈیا پر صارفین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اسے ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تھا، انہی ضروریات کے تحت قواعد وضوابط بنائے گئے۔معاون خصوصی اطلاعات نے کہا مختلف عناصر جعلی اکاؤنٹس بنا کر سوشل میڈیا پر پاکستان کی سلامتی کیخلاف محاذ آرا ہیں۔ معاشرے میں عریانی پھیلانے کیلئے بھی سوشل میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد ہٹانے کیلئے کمپنیوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا قوانین کا مقصد آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانا ہرگز نہیں ہے، قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سوشل میڈیا کمپنی کو پاکستان میں بند کیا جا سکے گا جبکہ کمپنیاں اپنے خلاف پابندی پر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا کمپنیز کا پاکستان میں دفتر ہونا ضروری ہوگا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنا ڈیٹا بینک پاکستان کیساتھ شیئر کرنا لازمی ہوگا ۔خیال رہے وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر انہیں فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔

ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرانک طریقے سے ’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں جو فوجی ڈکٹیٹر تھے انہی کے طفیل سٹیلائٹ نیوز چینلز کا اجرا ہوا اور پیمرا بنی ۔ جب 2007 ء میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو برطرف کیا گیا تو وکلا نے ان کی بحالی کے لیے تحریک چلائی ۔ مشرف نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے حتیٰ کہ 12مئی 2007ء کو کراچی میں ایم کیو ایم نے پر تشدد انداز میں ان کا راستہ روکا جس کے نتیجے میں 48افراد جاں بحق ہو گئے ۔لیکن مشرف کوکبھی یہ خیال نہیں آیا کہ بیک جنبش قلم جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک جلسوں ،جلوسوں ،ریلیوں اوران کی تقریروں کو ٹیلی ویژن پر دکھانے پر لائیو کوریج کرنے پر پابندی عائد کر دیتے۔یہ الگ بات ہے کہ بالآخر مشرف کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا انہوں نے 3نومبر2007ء کو ایمر جنسی پلس لگا کر بعض چینلز کو سرے سے ہی بند کر دیا۔ 2002ء کی اسمبلی میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست جیتی وہ بھی عمران خان کی تھی اور 2018 ء میںیہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال کا ہی کرشمہ تھا کہ ان کی پارٹی کئی سو گنا ترقی کر کے اقتدار میں آ گئی ۔

اپوزیشن یہ کہتے نہیں تھکتی کہ’’ عمران خان (نیازی ) ‘‘جعلی وزیراعظم ہیں اور ان کی انتخابی فتح خلائی مخلوق کے طفیل ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خان صاحب نے بہت محنت کی اور پاکستانی میڈیا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا لیکن اب میڈیا کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مخالف کا نکتہ نگاہ سننا اور برداشت کرنا خان صاحب کے میلان طبع سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک جمہوریت پسند حکمران کو نہ صرف تنقیدی میڈیا کو برداشت کرنا چاہیے بلکہ اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور اگر مخالفانہ رائے بلا جواز ہے تو تادیبی ہتھکنڈوں پر نہیں اتر آنا چاہیے ۔ لیکن یہاں تو عجیب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف میڈیا سے مسلسل ناراضی کا اظہا ر کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ترجمانوں کی فوج ظفر موج ہر وقت تیار رہتی ہے اور وزیراعظم ان سے اکثر انٹرایکشن بھی کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے مشیر اور ترجمان غالباً انہیں یہی تصویر دکھاتے ہیں کہ حضور ! سب اچھا ہے ،یہ میڈیا میں بیٹھے نوازشریف اور زرداری کے ایجنٹ سب گند ڈال رہے ہیں ۔کاش خان صا حب جتنا وقت اپنے نام نہاد ترجمانوں کے ساتھ گزارتے ہیں اس سے آدھا وقت بھی اگر میڈیا پرسنز کے ساتھ ملنے پر صرف کریں تو بہت سے معاملات سلجھ سکتے ہیں۔ میڈیا جو یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ عوام کی نبض پر اس کا ہاتھ ہے انھیں ایسے حقائق سے آگاہ کر سکتا ہے جو مبارک سلامت کی چاشنی کے بجائے زمینی حقائق پر مبنی ہوں ۔

وزیراعظم کو بھی میڈیا سے انٹرایکشن کر کے اپنا نکتہ نگاہ بہتر طور پر سمجھانے اور پروجیکٹ کرنے کا موقع ملے گا ۔ظاہر ہے کہ بیج میں بیٹھی مشیروں کی فوج ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ ایسا ہوا توان کی اپنی نوکریاں خطر ے میں پڑ جائیں گی ۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے اس سے بھی پی ٹی آئی نے خوب فائدہ اٹھایا اور اٹھا رہی ہے اور پی ٹی آئی کے کھلاڑی ناقدین کی خوب چھترول کرتے ہیں اور فیک نیوز کے ذریعے ہر قسم کے ہتھکنڈوں کے استعمال کو جائز سمجھا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کو ڈیجٹلائزڈکرنے کو جواز بنا کر سوشل میڈیا کو پابند کیا جا رہا ہے۔ نہ جانے کیوں موجودہ حکومت نے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ قرار دینے کو وتیرہ بنا لیا ہے ۔یہ جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میڈیا مادر پدر آزاد ہو اور میڈیا میں وہ عناصر جو بلیک میلنگ، جھوٹ اور افتر پھیلاتے ہیں ان کی یقینا سرکوبی ہونی چاہیے لیکن آزاد ی اظہار رائے کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر مروجہ قوانین کے مطابق نہ کہ اخبارات کی ڈسٹری بیوشن یا چینلز کی نشریات ڈسٹرب کر کے اینکرز اور صحافیوں پر پابندیاں لگانے یا سرکاری اشتہارات کی تقسیم کو ہتھیار بنا کر میڈیا کو پابند کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ قارئین !آج سے پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے اگر ہم نے اپنی نسل نو کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا یہ ہمارا قومی فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کو بھی قائل کریں جو پولیو ویکسینیشن کے بارے میں دقیانوسی سوچ رکھتے ہیں بحثیت ذمہ دارشہری ہمیں انسداد پولیو ورکرز کو عزت واحترام دینا چاہیے اور ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے کیونکہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے صحت مند بچے ہی ہمارے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔