میری فریاد تو سنیں - شہباز رشید بہورو

چہرہ روشن ،لباس نفاست کی مثال،انداز شریفانہ،تکلم حکیمانہ،تبسم عاجزانہ لیکن خیالات مجرمانہ اور دل کی ساخت بہیمانہ ایسا ہی کچھ میرا روحانی وجود ادراک کر پا رہا ہے۔ایمان فروش،ضمیر فروش،غیرت فروش،ملت فروش اور دین فروش ملت کے ستون بنے ہوئے ہیں ۔

ستون ڈھانے والے ستون بنے ہوئے ہیں ۔بدامنی پھیلانے والے امن کے ٹھکیدار بنے ہوئے ہیں۔شیخی مارنے والے خلوص کی مثال بنے ہوئے ہیں ۔شہرت کےطلبگار گمنامی کے حقدار بنے ہوئے ہیں۔بزدل بہادری کا تاج پہنائے ہوئے ہیں ۔لکھنے میں کیا لکھوں آنکھوں کا مشاہدہ تحریر کروں یا دل کی دنیا کے مناظر لکھوں ۔اپنی سوچ کے دھاغے باندھوں یا ضمیر کے اظطراب کی ترجمانی کروں ۔علل و اسباب کی تعبیر بیان کرون یا عالمِ یقین کا سفر کروں ۔اپنی مادی ذوق و شوق کی امامت تسلیم کروں یا کلمہ حق کی اقتداء کروں ۔

نغمہ عشق گاتے ہوئے وادی ابتلاء میں قدم رکھوں یا گانا گاتے ہوئے تماشائی بنوں۔بہت ہو گیا اب یہ سوچتے سوچتے ،خود فریبی کے اس قصر میں مستی کرتے ہوئے،چادر اوڑھ کے یہ سستی کے ورد کرتے ہوئے اور خوشحالی کی اس نام نہاد تمنا کو اس قلع قلب میں محصور کئے ہوئے۔کچھ خیال تو مجھے کرنا چاہئے کہ خالق کی میری تخلیق میں میرا بھی کوئی ہدف ہے ،میرا بھی کوئی رخ ہے ،میرا بھی کوئی مدعا ہے ،میرا بھی کوئی حق ہے۔

میرا یہ بیرونی دنیا کا مشاہدہ اور اپنی اندر کی دنیا میں برپا سنسنی کا احساس مجھے ایک مقامِ پیچیدہ پر لا کے قیام کروا رہا ہے۔بیرونی دنیا کا مشاہداتی سفر کروں یا اپنی انفس کی سیر کروں دونوں جگہوں سے مجھے ایک خاص شئے کی عدم موجودگی کے اشارے ملتے ہیں ۔وہ خاص شئے ہے عمل۔عمل کے بغیر افکار بےکار ،خیالات معذور ،احساسات مجرد جسمانی دباو،جذبات خالص شور و ہنگم اور وجودِ بشر صرف ایک حجرِ بے جان۔

انسانی فطرت میں کچھ خواہشیں اس کے وجود پر شہنشاہی کرنے کی آرزو رکھتی ہیں اور کچھ محض اپنی شریفانہ موجودگی بنائے رکھنے کی آرزومند رہتی ہیں ۔شہنشاہیت کی طلبگار آرزؤں کے لئے انسان خود نہ جانے کون کون سے مسخرے پن کا اظہار کرتا ہے اور ان کی تکمیل کے لئے انسانی شرف و مروت سے بیگانہ رہ کے شب و روز کوشاں رہتا ہے۔بغیر درد کےقلم تھامنا،بغیر خلوص کے تقریر کرنا،بغیر رضائے الہی کے قیادت کرنا،بغیر فقرو درویشی کے میدانِ عمل میں کودنا یہ سب کچھ عالمی روحانی بد امنی کے پھیلے جانے کے اسباب ہیں ۔

اس دنیا کی چمک دمک نے انسان سے اس کا خداداد اختیار تک چھین لیا ہے جس کی بنیاد پر وہ اس دنیا کی باقی مخلوق پر حکومت کرنے کا اہل تھا اب اس کے بدلے مال مویشی،محل و مکان،خاک و حجر ،درہم و دینار،جسمانی کیف و سرور،مادی لذت و سکون کے ہاتھوں اپنا اختیار رہن رکھ کے من مانیاں کر رہا ہے۔اس سب کے نتیجے میں ایک عالمی روحانی بحران پیدا ہو چکا ہے جس کی لپیٹ میں دنیا کے تمام ممالک آچکے ہیں لیکن اس کا ادراک کرنے سے اہلِ حل و عقد مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔اس عالمی روحانی بحران کے پیچھے امت وسط کی اپنی بداعمالی کے سبب اس کا مقامِ احقر پہ آکے خالص تماشائی بنناایک بہت بڑی وجہ ہے۔

اس امت کے ہاتھ ہدایت کا آفتاف تھمایا گیا تھا تاکہ پوری دنیا اس کی نورانی روشنی میں زندگی گذارنے کے ساتھ ساتھ صحیح راستہ بھی تلاش کر سکے ۔لیکن شاید اس آفتاب کو ہاتھ میں رکھتے ہوئے یہ امت ِ مرحومہ عاجز آ کے تھک گئی اور آفتاب کو تھامے ہوئے ہاتھوں کو نیچے چھوڑگئی جس کے نتیجے میں پوری دنیا اس آفتاب ِہدایت کی روشنی سے محروم ہوگئی۔جب تک یہ آفتاب ہمارے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں تھا تو پوری دنیا پروانوں کی طرح ہمارے اردگرد چکر کاٹتی اور اپنے حصے کی روشنی حاصل کرتی۔

اب جب کہ ہمارے ہاتھ میں آفتابِ ہدایت نہیں بلکہ اس کو کہیں طاقچے میں بند کرکے رکھ دیا ہے تو پوری دنیا ہم پر امنڈ آئی ہے کہ ان کے پاس روشنی تھی لیکن ان حریصوں نے اسے کہیں اپنے پاس چھپا کے رکھا ہے۔اس لئے وہ ہم سے اس کامطالبہ کر رہے ہیں اور دوران ِ مطالبہ وہ ہم پر سختیاں بھی کررہے ہیں لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے اس عذاب سے بچنے کے لئے ہمیں پھر سے وہ آفتابِ ہدایت ہاتھ میں لینا چاہئے تاکہ ہم اپنے آپ کو درپیش افتاد سے بچا سکتے ہیں ۔

مذکورہ بالا خود سے امت کی طرف قلم کی منتقلی میرے لئے ضروری اس وجہ سے تھا کیونکہ ہمیں اس امت سے علیحدہ اپناوجود کبھی بھی متصور نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہمارا وجود اس امت سے منسلک ہے ۔اس امت سے علیحدہ ہمارا وجود اگر جلالی بھی ہو گا تو وہ صرف کاغذ سے جلائی گئی آگ کی مانند ہے جو چند ہی لمحات میں کالی راکھ میں تبدیل ہوگا۔ہمیں خود کو بدلنے کی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ اس امت کو بھی بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

اس لئے ہمارا کوئی بھی ملک طاقتور نہیں ہے جب تک نا وہ امت کے جملہ مسائل کو اپنے ملکی مسائل کی فہرست میں نہ رکھے ۔کیا پاکستان،کیا ترکی،کیا سعودی عرب،کیا ملیشیاء ،کیا انڈونیشیا،کیا عمان و بحرین اگر اتنے ممالک کے ہوتے ہوئے بھی امت کی مجموعی ساخت مجروح ہو،امت کا فخرچھینا گیا ہو،امت مظلوم و مغموم ہو،امت بے بس ومجبورہو تو ان کی حکومتیں اور ان کی خود مختاری کس مقصد کے لئے ہے۔ کیا یہی کہ مندر کے بت کی طرح رعب قائم رہے اورلوگ ان بےجان مورتیوں کی پوجا کرتے رہیں ۔

آخررکار لوگ جان جاتے ہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے کہ یہ بت تو اپنی مدد کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔ایسا ہی کچھ ہوااسلامی ممالک اور ان کے حکمرانوں کے ساتھ جنہوں نے اسلام اور عالمی امت مسلمہ کی فکر سے اپنے آپ کو یکسر غافل کرکے یا تو اااپنی ذاتی مفادات میں گم ہوئے یا قومیت کی شراب پی کے مدہوش ہوگئے۔

فلسطین عربی رعب اور دبدبے کے باوجود ان سے چھینا گیا،شہہ رگ غیرت و حمیت ،بہادری وجرات مندی کے نغمے گاتےہوئے تمہارے بدن سے الگ کر دی گئی،تمہارا ایک بازو تمہارے مضبوط اور طاقتور جسم سے کاٹا گیا،تمہارےپاس میں افغانستان کو تخت و تاراج کیا گیا،تمہارے وسط میں شام پر قیامت ڈھائی گئی،کیا سے کیا نہیں کیا گیا لیکن تم محض سیاسی احتیاط کی بنا پر تمشائی بنے رہے۔

آج بچے ہوئے فلسطین کا سودا ہو رہا ہے اور تم چپ ہو،ہاں چپ ایسے ہو جیسے کہ سانپ سونگھ گیا ہے ،بےکس ایسے ہو کہ جیسے غلام ،بےدرد ایسے ہو کہ جیسے غیر۔اجلاس بلانے سے کچھ نہیں ہوگا اگر نیت پہلے سے ہی کچھ کرنے کی نہیں ہو۔تمہارا تحاد بھی ایک کچا دھاگا ہے جوبغیر کسی کنڈی کے ہوا میں اپنے ہلکے پن کے سبب سیر کررہا ہے۔

ہاں ہاں قابلِ رشک ہیں مردانِ کوہستانی معصوم کو بچانے کے لئے پوری دنیا کی دشمنی قبول کرلی اور ڈٹ گئے آخرکار دشمنو ں کی بساط لپیٹی جارہی ہے ۔روکھا سوکھا کھایا،بغیر نرم بستر کے سوئے،اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن ایمان کو نہ بیچا ،غیرت کا سودا نہ کیا ۔