گیمبیا(Gambia) - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

جمہوریہ گیمبیا مغربی افریقہ کا ایک ممتاز ملک ہے۔ اسکا کل رقبہ4127مربع میل ہے ۔یہ ایک لمبائی کے رخ کی ریاست ہے جس کاطول 295میل اور عرض 15تا 30میل کے درمیان درمیان ہے ۔جغرافیائی طور پر دریائے گیمبیااس مملکت کی پہچان ہے،یہ دریا افریقہ کے مشہور دریاؤں میں سے ایک ہے جو سات سو میل طویل بہاؤ کے بعد بحراوقیانوس میں جا گرتاہے۔

افریقہ سے بحراوقیانوس تک بحری رسائی اسی دریا سے ہی ممکن ہے۔’’ بنجل‘‘شہرگیمبیاکادارالحکومت ہے جبکہ ملک کاسب سے بڑا شہر’’سریکنڈا‘‘ہے جوملک کی سیاسی تہذیبی و معاشی سرگرمیوں کامرکز بھی ہے۔سال کے چند مہینوں میں یہاں بارش ہوتی ہے جس کی سالانہ شرح 1300ملی میٹر تک ہی ہوتی ہے جبکہ باقی ساراسال یہاں کاموسم خشک ہی رہتا ہے۔ہریالی سے بھرپور خطوںکی اس سرزمین کے جنگلات میں کئی قسم کے جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔گیمبیاتین اطراف سے سینیگال کے ملک میں گھراہواہے جبکہ چوتھی سمت میں گیمبیاکوسمندر کاجوار حاصل ہے۔

1455ء میں پرتگالی ملاحوں سیاحوں نے اس سرزمین کو دریافت کیا۔پرتگالیوں نے تجارت شروع کی اور انکے بعد انگریز،فرانسیسی،ڈچ اور سویڈن کے تجار بھی یہاں پہنچنے لگے۔اٹھارویں صدی میں برطانیہ نے یہاں قبضہ کیا اور اپنی فوج اور فوجی مشینری لگاکر مقامی افراد کو شکار کر کرکے انہیں غلاموں کے طور پر یورپی ممالک بھیجنے لگے۔انسانیت کے برطانوی ٹھیکیداروں نے غلاموں کی تجارت کے لیے گیمبیامیں باقائدہ ایک بحری اڈاہ بھی بنایا۔

اس کے بعد ایک طویل عرصے تک برطانیہ اور فرانس کے درمیان گیمبیااور دریائے گیمبیا کے معاملے پر نزاع رہی اور پیرس اور لندن میں اس علاقے کی قسمت کے فیصلے ہوتے رہے۔گیمبیاکے مسلمان قبائلی راہنما بعض اوقات ان فیصلوں کی مخالفت کرتے لیکن گوراسامراج انہیں موت کی نیند سلا دیتا۔

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے لیے اس سرزمین سے بے شمار فوجی لیے ،خاص طور پر برما کے محاذکے لیے تاج برطانیہ نے جنگ کے ایندھن کے طور پر گیمبیاکے کالوں کا انتخاب کیااوریورپی ’’جمہوریت‘‘کے استحکام کے لیے افریقی خون سے ہولی کھیلی گئی تاکہ ’’عالمی امن‘‘قائم ہو سکے۔وقت کے ساتھ اس ’’سیکولرازم‘‘نے کتنے نقاب بدلے لیکن مشرق وسطی ہو،ایشیائے بعید یا پھر افریقی سیاہ فام اقوام کی سرزمین ہوسیکولرازم کاانسانیت دشمن کردار یکساں ہی نظر آتاہے۔

دوسری جنگ عظیم کے زمانے سے ہی افریقی سیاست میںگیمبیاکامرکزی کردار رہا،1943میں ’’کیسابلانکا کانفرنس مراکش‘‘میں جاتے ہوئے امریکی صدرروزویلیٹ نے ایک رات کا قیام گیمبیامیں کیااور یہ کسی امریکی صدر کا افریقی براعظم کے ایک ملک کاپہلا دورہ تھا۔دوسری جنگ عظیم کے تباہ کن نتائج نے عالمی استعمارکے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے بند باندھ دیاتھا دوسری طرف شعور کے باعث 1960ء تک یہاں بہت سی سیاسی پارٹیاں بن چکی تھیں اور قریے قریے سے آزادی کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں تھیں۔

ساتھ کے ساتھ گیمبیامیں نئے دستورکی تحریک نے بھی اپنی رفتارتیزکر لی تھی۔1962کے انتخابات نے ممکت کے مستقبل کی راہیں واضع کر دیںاور برطانیہ ایک طرح سے ان انتخابات کے بعد اپنا اثرورسوخ کھو بیٹھااور بدیسی حکمرانوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی۔تاج برطانیہ چاہتا تھا کہ سینیگال اور گیمبیا اکٹھے رہیں لیکن مقامی قیادت اس پر تیار نہ تھی چنانچہ 18فروری1965ء کوایک طویل جدوجہد کے بعد گیمبیا کو آزاد کرالیا گیا،1974ء کو اس مملکت کو جمہوریہ گیمبیاکانام دیا گیا۔

سینیگال نے یہاں قبضہ کی کوشش کی کی لیکن ناکام ہوا جس کے بعد1982ء میں دونوں ملکوں نے مل کر ’’سینی گیمبیا‘‘کے نام سے کنفڈریشن بنا لی جس میں دفاع اور معیشیت میںیکساں پالیسی جب کہ دیگر امور میں آزادی دے دی گئی۔لیکن یہ بیل مونڈے نہ چڑھ سکی اور 1989میں گیمبیانے اس کنفڈریشن سے مکمل علیحدگی کااعلان کر دیا،تب سے گیمبیاایک مکمل طور آزاد خود مختار ریاست ہے۔

’’جالا‘‘نام کے لوگ اس سرزمین کے قدیمی باشندے ہیں جو کہ اب زیادہ تر مغربی گیمبیامیں مقیم ہیں۔’’مانڈینگو‘‘نسل کے لوگ یہاں کے اکثریتی قبائل ہیں جو کل آبادی کا چالیس فیصد ہیں۔جبکہ ’’ بجل‘‘گیمبیاکے دارالحکومت میں ’’وولوف‘‘ نام کے خاندان زیادہ پائے جاتے ہیں ۔دریائے گیمبیا کے انتہائی اوپری کے علاقوں میں ’’فولانی‘‘قبائل آباد ہیں اور یہ قبائل اب ایک طاقت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ان مشہور افریقی نسلوں کے علاوہ بہت سے دیگر قبائل کے لوگ بھی یہاں بکثرت آباد ہیں جبکہ یہاں نوے فیصدآبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور شاید اسی وجہ سے کم و بیش پوری مملکت میں ایک ہی طرح کی ثقافت مروج ہے ۔یہاں ریلوے لائین اور اندرون ملک ہوائی سفر نہیں ہے۔پرائمری تعلیم مفت ہے لیکن لازمی نہیں،ثانوی تعلیمی ادارے بھی بکثرت ہیں لیکن اعلی تعلیم کے لیے طلبہ کو بیرون ملک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔کم و بیش یہی صورتحال صحت کی بھی ہے۔

گیمبیاکی سب سے بڑی پہچان اس سرزمین پر کاشت ہونے والی مونگ پھلی ہے۔مونگ پھلی جو پوری دنیا میں کھائی جاتی ہے یہاں کی بہت بڑی فصل ہے اورحکومت کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔مونگ پھلی کی کاشت کے لیے بہت اچھے اور عمدہ بیج کی کاشت سے لے کر اسکی تیاری میں ممدومعاون مشینیں تک یہاں بکثرت دستیاب ہیں۔عورتیں اور مرد مل کر کھیتوں میں کام کرتے ہیں ،زمینوں کو سیدھا کیا جاتا ہے ان پر موجود جھاڑ جھنکاڑکو نذرآتش کیا جاتاہے اورپھر جدیدطریقوں کے عین مطابق مونگ پھلی کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔

حکومت ہر فصل سے پہلے مونگ پھلی کی قیمت مقررکرتی ہے اور وقت سے پہلے کسان کواسکی نقد ادائگی کر دیتی ہے۔فصل تیارہونے کے بعدفیکٹریوں میں لائی جاتی ہے جہاں پراسے کئی مراحل سے گزارکر بیج کو برآمد کردیاجاتاہے اور فضلہ جانوروں کی خوراک کے طور پر رکھ لیاجاتاہے۔

یہاں کی زمینیں زیادہ تر خاندانوں کی ملکیت ہوتی ہیں اور پوراکا پورا خاندان مل کر اپنی زمینوں کی اور ان پر کاشت کی ہوئی فصلوں کی نگہداشت کرتا ہے۔یہاں کے کاشتکاربہت محنتی اور دیانتدارہیں۔حکومت یہاں پر چاول کی کاشت پر بھی توجہ دیتی ہے اور جہاں جہاں سبزہ بہت زیادہ ہے وہاں پالتوجانوروں کے فارم بھی بنائے گئے ہیں۔دریا کے ساتھ ساتھ رہنے والوں کو وہاں کی حکومت مچھلی کے شکارکے لیے قرضے بھی فراہم کرتی ہے،تاکہ وہ لوگ دخانی کشتیاں خرید کر تو یہ کام کرسکیں۔ملاحوں کی پکڑی ہوئی مچھلیوں کوحکومت خرید کراور انہیں واجبی سے مراحل سے گزار کر برآمد کر دیتی ہے۔گیمبیا کی تجارت زیادہ تر فرانس،برطانیہ اور سینیگال سے ہے۔

یہاں حکومت کا سربراہ ’’صدر مملکت‘‘ہوتا ہے جسے پانچ سالوں کے لیے چنا جاتا ہے۔پچاس اراکین پر مشتمل ایوان نمائندگان ہے جس میں چھتیس ارکان منتخب ہوتے ہیں اور باقی نامزدگیوں سے پہنچتے ہیں۔پیپلزپروگریسوپارٹی یہاں کی اکثریتی سیاسی جماعت ہے۔حکومت کی تشکیل کے لیے صدر مملکت ایوان نمائندگان میں سے اپنا نائب صدر اور وزرا چنتا ہے جن سے مل کر وہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ چلاتاہے۔

اعلی عدالت ’’سپریم کورٹ‘‘جس کے سربراہ کاتقرر بھی صدر مملکت ہی کرتا ہے۔ملک میں 35اضلاع ہیں جنہیں سات انتظامی صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ہر ضلع کی حکومت وہاں کے منتخب نمائندوں کے تحت کام کرتی ہے۔گیمبیاکے ایوان ہائے اقتدارپرفوجی شب خون کثرت سے ماراجاتارہااس کی وجہ جملہ اسلامی ممالک میں استعمار کی چھوڑی ہوئی طاقتورباقیات میں سے سب سے بڑا ادارہ فوج ہی ہے۔

اسلام کی آمد کے وقت یہ علاقہ بربروں کے زیراثر تھا۔اپنے آغاز میں ہی اسلام یہاں ساتویں صدی ہجری میں پہنچ گیا اور بہت سے قبائل نے اسلام قبول کرلیاتب کے بعد صدیوں تک یہاں اسلام ہی برسراقتداررہا اور بہت سے مسلمان خاندانوں نے حکومت کی۔گیمبیا کی تہذیب و ثقافت پر اسلام کے بے پناہ اثرات ہیں،خاص طور پر انیسویں صدی کی تجدیدی کاشوں سے جہاں بہت سے قبائل دائرہ اسلام میں داخل ہوئے وہاں پہلے سے موجود مسلمانوں کی اصلاح عقائد بھی کی گئی۔

گیمبیا کی 90%آبادی مسلمان ہے جبکہ 10%دیگرمذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں۔یہاں کے قوانین میں اسلامی شریعت کے کچھ حصے بھی شامل ہیں،مسلمانوں کے باہمی معاملات ’’سپریم اسلامی کونسل‘‘حل کرتی ہے جبکہ مسلمانوں کے لیے عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔مسلمانوں کے مذہبی ایام پر عام تعطیل بھی کی جاتی ہے۔یہاں کے مسلمان تصوف سے بے پناہ لگاؤ رکھتے ہیں اور عملی طور پر مسلمانوں کی اکثریت فقہ مالکی کی پیروکار ہے تاہم کچھ عرب اورافریقی ملے جلے قبائل میں فقہ شافعیہ بھی رائج ہے۔

11دسمبر2015ء میں گیمبیاکے صدر یحیی جامع نے ملک کو’’ اسلامی جمہوری ریاست‘‘قراردے دیاہے۔اس اعلان کی وجہ ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔گیمبیاکے صدر نے اسلامی جمہوریہ قراردیتے ہوئے کہاکہ اس طرح ملکی معاشرے سے نوآبادیاتی غلامہ نظام کاخاتمہ ہو جائے گا۔

اس اعلان کے بعد ملک میں متعدد اسلامی نوعیت کے اعلانات و قدامات بھی کیے گئے ہیں۔اسلامی ممالک کو چاہیے کہ اس معاملے میں گیمبیاکی مددکریںاورمعاشی معاونت سمیت قانون سازی کے صیغے میں بھی نئی اسلامی ریاست کی راہنمائی کریں۔