دھوکے باز بندر- محمد عرفان ندیم

میں نے یہ کہانی بچپن میں پڑھی تھی شاید دوسری یا تیسری کلاس میں، کہانی اور کہانی کے کردار میرے ذہن سے محو ہو چکے تھے لیکن کل جب میں نے عمران خان کا پروٹوکول دیکھا تویہ کہانی اور اس کہانی کا مرکزی کردار میرے ذہن میں آگیا ۔

یہ کہانی اتنی ویلڈ اور حقیقت پر مبنی تھی کہ اس پر محاورے بنے اور سماج میں مشہور بھی ہوئے ۔آپ نے’’ بندر بانٹ اور بندر کا انصاف ‘‘کا محاورہ تو یقینا سنا ہو گا ،یہ محاورے اسی کہانی سے وجود میں آئے ، کہانی کیا تھی آپ بھی سن لیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ دوبلیاں کسی سفر پر نکلیں ، دونوں بھوکی تھیں اورکھانے کے لیے کسی چیز میں تلاش میں تھیں ، اتنے میں انہیں درخت کے نیچے روٹی کا ایک ٹکڑا نظر آیا ، دونوں نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی اور ایک بلی اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ۔

دوسری بلی نے لڑائی شروع کر دی کہ اسے پہلے میں نے دیکھا تھا ،دوسری بلی نے کہا نہیں پہلے میں نے اٹھایا ہے، یہ لڑائی جاری تھی اوراوپر درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب دیکھ تماشا رہا تھا ،بلیوں کو آپس میں لڑتے دیکھ کر بندر نیچے آیا اور نزدیک آ کر پوچھا کہ وہ کیوں لڑ رہی ہیں؟دونوں بلیوں نے ساری صورت حال بتاد ی ، بندر نے کہا اس میں لڑنے والی کیا بات ہے میں اس کا فیصلہ کر دیتا ہوں ، دونوں بلیاں راضی ہو گئیں اور فیصلہ بندر پر چھوڑ دیا۔

بندر نے تھوڑی دیر کے لیے سر جھکایا ، غور وفکر کیا اورفیصلہ سناتے ہوئے بولا ’’ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ روٹی دونوں بلیوں میں آدھی آدھی تقسیم کر دی جائے۔‘‘ بلیاں اس فیصلے پر راضی ہوگئیں۔بندر نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ روٹی کے دوٹکڑے کیے لیکن جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا اور دوسرا چھوٹا کردیا، دونوں ٹکڑوں کو ترازو کے پلڑوں میں رکھا ، بڑے ٹکڑے والا پلڑا جھک گیا ، بندر نے کہا ’’ یہ ٹکڑے تو برابر نہیں ‘‘ اور بڑے ٹکڑے سے ایک حصہ توڑ کر کھا لیا ۔

بلیاں بند ر کی انصاف پسندی کی قائل ہوگئیں ۔ بندر نے دوبارہ دونوں ٹکڑوں کو ترازو میں رکھا ،اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہوگیا، بندر نے کہااس سے کچھ حصہ توڑ کر پہلا ٹکڑا برابر کرنا پڑے گا،اب اس نے دوسرے ٹکڑے سے کچھ حصہ توڑا اور کھانا شروع کر دیا ۔اس نے دوبارہ دونوں ٹکڑوں کو تول کر دیکھ اور بولا ’’اب پہلا ٹکڑا بڑا ہوگیا ہے اسے کھا کر برابر کرنا پڑے گا۔‘‘اور یوں بندر دونوں ٹکڑے برابر کرنے کے چکر میں پوری روٹی کھا گیا اور بلیاں بندر کی شکل دیکھتی رہ گئیں۔بندر نے روٹی ختم کی اور چھلانگ لگا کر درخت پر چڑھ گیا ،تب بلیوں کو احساس ہوا اگر وہ آپس میں نہ لڑتیں تو بندر ان کی نادانی سے فائدہ نہ اٹھاتا ۔ اس روز سے ’’ بندر بانٹ اور بندر کا انصاف کا محاورہ ایجاد ہوا ۔‘‘

عمران خان (میں دانستہ طور پر انہیں وزیر اعظم نہیں لکھ رہا اور نہ ماضی میں کبھی لکھا ہے) کل لاہور تشریف لائے ، ان کا قافلہ ایک اور دوبجے کے درمیان ایئر پورٹ سے نکلا اور وہ مال روڈ سے ہوتے ہوئے گورنر ہاؤس پہنچے، ان کی آمد سے پندرہ بیس منٹ پہلے ہی مال روڈ اور اس سے ملحقہ سڑکیں بند کر دی گئیں ، پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ روک دی گئی، لوگوں کو پیدل چلنے سے بھی منع کر دیا گیا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور لوگ مختلف گلیوںاور راستوں میں خجل خوار ہوتے رہے ۔

مرکزی شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے ملحقہ سڑکوں پر رش بڑھ گیا اور دس منٹ کا سفر لوگوں نے پونے گھنٹے میں طے کیا ۔ کئی ایمبولینسز ٹریفک میں پھنسی رہیں ،لوگوں کو اپنے گھروں اور دفاتر میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور کئی گاڑیوں کا ایندھن ختم ہو گیا ۔ عمران خان دو بجے گورنر ہاؤس پہنچے ، ان کی لاہور آمد کی اہم وجہ صحت سہولت کارڈ تقسیم تھی ،یہ وہی صحت کارڈ ہے جو عوام کو مل تو جاتا ہے مگر اس پر علاج کسی کا نہیں ہوتا،مختلف اضلاع کے ہسپتالوں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ یہاں صحت کارڈ کی سہولت دستیاب نہیں، عمران خان اسی صحت کارڈ کی تقسیم کے سلسلے میں اسلام آباد سے لاہور تشریف لائے تھے ۔

عمران خان نے اس تقریب میں بھی ہمیشہ کی طرح کچھ نئے حقائق عوام کے سامنے رکھے ، مثلا ’’ ہم ایسا نظام لا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کے مہنگا ہونے سے قبل اس کا پتا چل جائے گا ‘‘ یعنی چیزیں مہنگی ضرور ہوں گی اور یہ اہل حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی بجائے اس کا پتا لگانے پر فوکس کرے گی۔اس کے بعد وہی باتیں دہرائی گئیں جنہیں سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں ،مثلا’’ہم فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف جا رہے ہیں،ایسی ریاست جس میں قانون کی حکمرانی ہو گی اور ملک میں عدل اور انصاف کا نظام آئے گا، دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہوگی وغیرہ ۔

اس تقریب کے علاوہ عمران خان نے پنجاب سیف سٹی ا تھارٹی کا دورہ کیا اور پولیس خدمت مرکز کے گلوبل پورٹل کا اجراء کیا ۔ یہ وہ’’ اہم سرگرمیاں‘‘ تھیں جن کی وجہ سے عمران خان کو اسلام آباد سے لاہور کا خصوصی سفر طے کرنا پڑا۔ان اہم ’’مصروفیات ‘‘ کی وجہ سے عوام کو بیس بیس منٹ سڑکوں پر رلنا پڑا اور ان ’’اہم تقریبات‘‘ کی وجہ سے عوام کو گلیوں اور گاڑیوں میں محبوس ہونا پڑا ۔

یہ وہی خان صاحب ہیں جو کبھی پروٹول کی نحوست اور عوام کو اس سے پہنچنے والی تکلیف پر لمبی لمبی تقریریں کرتے تھے ، یہ وہی خان صاحب ہیں جو عوام کو درس دیتے تھے کہ یہ چور عوام کے پیسوں سے پروٹوکول انجوائے کرتے ہیں ، یہ وہی خان صاحب ہیں کہا کرتے تھے میں وزیر اعظم بن کر کبھی پروٹوکول نہیں لوں گا۔آپ بنی گالہ کی سکیورٹی ملاحظہ کریں ، بنی گالہ پہاڑی کی چوٹی ، بیرونی حصار اور چھت کے اوپرسکیورٹی ڈویژن سے تقریبا ایک سو تیس سکیورٹی گارڈ تعینات ہیں۔

جن میں ایک ایس پی ، دو ڈی ایس پی ، تین آئی پی ، پچیس یو ایس ، ترانوے سی ایس اور پانچ ڈرائیور تعینات ہیں ۔ایف سی کی طرف سے پیدل گشت اور پہاڑی کی چوٹی پر تین یو ایس اور بہتر سی ایس تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سپیشل برانچ کی طرف سے متعین افراد کی تعداد گیارہ ہے ۔ یہ اسی عمران خان اور بنی گالہ کی سکیورٹی ہے جسے رائیونڈ اور بلاول ہاؤس پر سرکاری سکیورٹی پر اعتراضات ہوا کرتے تھے اور یہ وہی عمران خان ہے جو کہا کرتاتھا میںصرف ایک گاڑی اور دوسکیورٹی گارڈ ساتھ رکھوں گا۔

میں نے کل مال روڈ پر عمران خان کا پروٹوکول دیکھا تو مجھے بچپن میں پڑھی بندر اور بلیوں کی کہانی یاد آ گئی ،یہ اکیس کروڑ عوام انصاف ، جمہوریت ، امن اور روزگار کے نام پر کبھی رائیونڈ اور بلاول ہاؤس کے بندروں سے دھوکا کھاتے ہیں تو کبھی بنی گالہ کے بندر انہیں انصاف، ترقی اور روزگار کے خواب دکھا کر ان کا استحصال کرتے ہیں ۔

اکیس کروڑ بلیاں حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب اسے منصف بناتی ہیں تو بعد میں پتا چلتا ہے یہ تواپنے پیشروؤں سے بھی بڑا دھوکے باز اور نااہل تھا ۔ بندر اور بلیوں کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب تک بلیاں خود اپنے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں آئیں گی ان پر بندر مسلط ہوتے رہیں گے ۔

اس سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ بندر کتنا ہی منصف مزاج اور انصاف پسند کیوں نہ ہو اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ،یہ اپنے حصے کی روٹی حیلے بہانوں سے نکال ہی لیتا ہے ، یہ انصاف کے نام پر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کا سامان کر ہی لیتا ہے اوریہ کتنا ہی صاف شفاف اور ایماندار کیوں نہ ہو یہ کم از کم پروٹوکول ضرور انجوائے کرتا ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */