ارطغرل، بات فتووں تک پہنچ گئی ہے - آصف محمود

ارطغرل عرب دنیا میں مقبول ہوا تو اس پر پابندی لگا دی گئی اور سعودی عرب کے دبئی میں موجود مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ سنٹر نے اس ڈرامے کو اپنے ٹی وی نیٹ ورکس پر ممنوع قرار دے دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ عرب دنیا میں ارطغرل کی مقبولیت پہلے سے بڑھ گئی. عربوں نے اسے آن لائن دیکھنا شروع کر دیا اور کہا جا رہا ہے ۔

عرب دنیا میں اس ڈرامے کو دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں ملینز میں ہے۔پھر ممالک النار کی شکل میں متبادل لانے کی کوشش کی گئی۔عرب امارات اور مصر میں اس کے خلاف مہم چلائی گئی۔ اسے عرب قومیت کا عنوان دینے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ عرب دنیا میں ارطغرل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

چنانچہ اب بات فتووں تک پہنچ گئی ہے اورمصر کے فتوی دینے کے سب سے بڑے ادارے دارالفتاء نے ارطغرل کے خلاف فتوی دے دیا ہے کہ اس ڈرامے کو کسی بھی صورت میں نہ دیکھا جائے۔اس سارے معاملے میں ڈرامہ اہم نہیں طریقہ واردات اہم ہے۔ قوم پرستی کی لڑائی ہے لیکن مذہب کے فتوے کی مدد سے لڑی جا رہی ہے۔

س کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کے ساتھ یہی ہاتھ ہوتا آیا ہے۔ جہاں جب اور جس کام میں ضرورت پڑی مذہب کو استعمال کر لیا۔ضرورت کا تقاضا ہوا تو عورت کی ڈرائیونگ بھی غیر اسلامی قرار دی گئی اور ضروریات بدلیں تو ویلنٹائن ڈے بھی جائز قرار پایا۔

ضرورت ہو تو فلسطین کو شرعی تقاضا بنا کر امت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے اور بھارت کی معیشت نظر آ رہی ہو تو کشمیر صرف پاکستان کا مسئلہ قرار پاتا ہے اور او آئی سی کی وزراء خارجہ کونسل کا اجلاس تک بلانا مشکل ہو جاتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.