شکریہ ایردوان، پاکستان سے محبت کا شکریہ - عبدالشکور

صدر رجب طیب ایردوان کا دورہ پاکستان ایسے ہی تھا جیسے جھُلستی دوپہر میں اچانک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا۔ہم سب تو اسمبلیوں میں صرف ایک دن پہلے تک گھُتم گُتھا تھے، ایک دوسرے کو گالی گلوچ کر کے خوب لذّت لے رہے تھے ۔

اور عزتوں اور پگڑیوں پہ ہاتھ ڈال رہے تھے کہ اچانک ہمارے گھر میں ایک ایسا مہمان آیا جو عزت دار بھی تھا اور دُوربین (ویژنری) بھی۔ جس نے اپنے ملک کے (ہم سے بھی) کئی گنا زیادہ بگڑے حالات کو دانشمندی سے سنبھالا دیا تھا، اور ترکی کو صفِ اوّل کی قوموں میں لا کھڑا کیا تھا۔

طیب ایردوان ہماری پارلیمان سے مخاطب تھا اور ہمیں ہماری شاندار روایات سے آگاہ کر رہا تھا۔ وہ ہمیں بتا رہا تھا کہ جب ہم سب ایک ملت تھے (اور یہ کوئی پرانی بات نہیں) اور موجودہ لیبیا کے شہر طرابلس میں تُرکی، ہندی مسلمان (پاکستانی) اور عرب مل کر اٹلی کی غاصب فوج کے خلاف لڑ کر شہادتیں دے رہے تھے اور عزم و ہمت کی داستانیں رقم کر رہے تھے تو ہم سب کتنے اچھے لگ رہے تھے۔

اُس نے یاد دلایا کہ علامہ اقبال نے ''طرابلس کے شہیدوں کے جس لہو'' کو حضورِ حق میں بطور تحفہ پیش کیا تھا، ہم اور آپ اسی کے ورثا ہیں۔طیب ایردوان ہمیں ملت کا درد پالنے، آگے بڑھنے اور باہم شیر و شکر ہونے کے گُُر بتا رہا تھا اور ہم سب شرمندہ شرمندہ، مگر مہمان کے احترام میں سر جھکائے تالیاں بجا رہے تھے یا خلا میں گھُور رہے تھے۔

طیب ایردوان نے کچھ باتیں اپنی زبان سے کہیں اور کچھ باتیں باڈی لینگویج (بدن بولی) سے کہیں۔ اُس نے بدن بولی سے کہا ''تم نے اپنی ہی نالائقیوں سے اپنے وطن (بدن) کا ایک حصہ ایک بازو گنوا دیا۔ اگر تم سنبھلنا چاہو تو ترکی اس کمی کو پورا کرکے آپ کا دوسرا بازو بن سکتا ہے۔ ترکی اور پاکستان دو خطے ہیں مگر ایک قوم۔

اُس کی بدن بولی کہہ رہی تھی ''میں نے طویل جدوجہد کرکے ترکی کو سیکولر ازم اور انارکی سے باہر نکالا ہے اور مسلم تُرکی کے تشخص کو بنا سنوار رہا ہوں اور تم- - تم اتنے خوبصورت اسلامی پاکستان کو انارکی اور سیکولرازم کے اندھیروں میں دھکیلنے میں کوشاں ہو۔ تمھیں اللہ نے قائداعظم، علامہ اقبال اور سید مودودی جیسے فکری رہنما دیے تھے مگر تم ڈونلڈ ٹرمپ، محمد بن سلمان اور جنرل سیسی سے قربت کے خواہاں ہو۔

طیب ایردوان نے کہا کہ میں آپ کا بھائی، دوست اور بھلے بُرے وقت میں آپ کا با اعتماد ساتھی ہوں۔ کشمیر صرف پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں، ترکی کا بھی مسئلہ ہے۔ہم پاکستان کے باشندے ذرا جذباتی واقع ہوئے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ ایردوان نے کتنے دفاعی اور معاشی منصوبے پیش کیے ہوں گے یا کتنے ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہوگا، تاہم مجھے یہ معلوم ہے کہ اس نے دل اور روح کے تاروں کو ضرور چھیڑا ہے اور کمال خوبصورت انداز میں چھیڑا ہے۔عین اُس لمحے جب ٹی وی سکرین پر ایردوان کی تقریر چل رہی تھی، میرے ذہن کی سکرین پر فیض احمد فیض کے اشعار نمودار ہوئے۔

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

شکریہ ایردوان، پاکستان سے محبت کا شکریہ