پاکستان کو پاکستان کے وفاداروں کی تلاش- حبیب الرحمن

پاکستان بنانے والوں نے پاکستان بنا تو لیا لیکن پاکستان کے اصل وفاداروں کو پاکستان میں جمع کرلینے میں آج تک کامیاب نہ ہو سکے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی یہ مسئلہ نہایت شدت کے ساتھ سر اٹھاتا ہوا محسوس ہونے لگا کہ کیا وہ پاکستان جو خالص اسلام کے نام پر حاصل کی گیا تھا اس میں کوئی ایک قوم بھی ایسی ہے جو پاکستان اور اسلام کی وفادار ہو؟۔

جب پاکستان بنا تھا اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان کی کل آبادی بصد مشکل 9 کروڑ کے آس پاس تھی جس میں مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ یعنی کوئی پونے 5 کروڑ کے قریب تھی لیکن پاکستان بن جانے کے فوراً بعد ہی وہ نہ تو پاکستانی کہلائے اور نہ ہی مسلمان سمجھے گئے۔ آج کل کی نئی پود جب مشرقی اور مغربی پاکستان کے الفاظ سنتی ہو گی تو انھیں یہ بات نہایت عجیب سی لگتی ہوگی کہ کوئی ایسا پاکستان بھی تھا جس کے ساتھ "مشرقی" بھی لگا ہوا ہوتا تھا ۔

اس میں نئی نسل کا کوئی قصور بھی نہیں اس لئے کہ پاکستان میں تاریخِ "پاکستان" کو اس طرح پڑھایا ہی کب جاتا رہا ہے کہ نئی نسل کے بچوں کو حقیقت سے آگاہی حاصل ہو سکے ورنہ تو ایک پاکستان تو اور بھی تھا جو ہندوستان کے جنوب میں واقع تھا جس کو قیام پاکستان کے بعد بہت شروع کی نصابی کتابوں میں کبھی کبھی کسی نقشے میں دکھا دیا جاتا تھا۔ مختصر یہ کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی ایک پاکستان کے نزدیک "مشرق" اگر بنگالی تھا تو دوسرے پاکستان کے نزدیک "مغرب" والے پنجابی تصور کئے جاتے تھے یعنی نہ تو کوئی پاکستانی پاکستانی کہلانا پسند کرتا تھا اور نہ ہی پہلی پہچان کے طور پر کوئی یہ کہتا نظر آتا تھا کہ وہ پہلے مسلمان ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب نے مشرق کو غداری کی سند پکڑا نے کے بعد مشرق اور مغرب کا فرق ختم کرتے ہوئے "دو" کی بجائے "ایک" پاکستان بنا کر 56 فیصد غدارانِ پاکستان سے اپنی جان چھڑالی۔ جس طرح پاکستان بنانے کیلئے لاکھوں مسلمانانِ ہند نے جانی و مالی قربانیاں دی تھیں اسی طرح دو پاکستان کو ایک پاکستان بنانے میں بھی لاکھوں انسانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے البتہ اس مرتبہ قربانیاں پیش کرنے والوں میں پاکستان کی افواج بھی بہت بھاری تعداد میں شریک تھیں جن کی قربانیوں کا تذکرہ ہمارے نصاب کی کتابوں میں اس لئے شامل نہیں کیا جاتا کہ نیکی وہی ہوتی ہے جو اگر دائیں ہاتھ سے کی جائے تو بائیں کو خبر تک نہ ہو۔

جس طرح پاکستان بنانے کا صرف اور صرف ایک مقصد تھا کہ وہاں اللہ اور اس کے رسول کے بھیجے اور لائے ہوئے آئین و دستور کے مطابق زندگی گزاری جائے گی اسی طرح مشرق اور مغرب کا فرق ختم کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ پاکستان "دو" نہیں "ایک" ہی کہلائے گا لیکن جیسے پاکستان بنانے کا اصل مقصد آج تک پورا نہ ہو سکا بالکل اسی طرح ایک پاکستان اور سارے پاکستانی کہلائے جانے کا نظریہ بھی پاکستان کے آدھے سے زیادہ غداروں کو اپنے سے علیحدہ کر دینے کے بعد حاصل نہ ہو سکا اور باقی بچ جانے والے پاکستان میں فوری طور پر مزید "چار" پاکستان ابھر کر سامنے آ گئے۔

باقی ماندہ پاکستان میں 3 پاکستان تو ایسے تھے جس کی جانب سے "ایک" پاکستان مسلسل شک کا شکار رہا اور اس نے اس بات کی جد و جہد شروع کردی کہ کسی طرح سب کو ایک "توپ" کے ساتھ باندھ کر رکھا جائے تاکہ مزید "غدار" جنم نہ لے سکیں لیکن 1971 کے بعد سے تا حال وہ "ایک" پاکستان سارے پاکستان کو "ایک" رکھنے میں نہ صرف ناکام ہے بلکہ کئی کئی پاکستان کا زہر باقی ماندہ پاکستان میں نہایت تیزی کے ساتھ حلول ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا ہے۔پہلے پہل تو یہ تفریق صوبوں کی بنیاد پر ہی نظر آیا کرتی تھی لیکن اب لگتا ہے کہ "غداری" کا زہر جسم کے پورے پورے میں اتنی بری طرح سرائیت کر چکا ہے کہ یہاں ہر فرد کو ہر دوسرا فرد پاکستان کا غدار نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اداروں میں ہم آہنگی، وقت کی اہم ضرورت - شہزاد سلیم عباسی

کسی زمانے میں یہ تفریق صوبہ جاتی بنیادوں تک ہی محدود تھی، پھر لسانی عصبیتوں نے جنم لینا شروع کیا، پھر مختلف تہذیبوں نے سر ابھارا، پھر وہ زہر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اندر تک اتر گیا اور یوں پاکستان میں جتنے بھی حکمران گزرے وہ کسی نہ کسی انداز میں پاکستان کی سیکورٹی کے لئے نہ صرف خطرہ قرار دیئے گئے بلکہ اب تو یہ عالم ہے کہ پاکستان کی ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کی نظر میں دوسری ہر سیاسی اور مذہبی جماعت پاکستان کی غدار ہے۔

ان تمام حقائق کو سامنے رکھ کر یہ بات کہنا کوئی مشکل نہیں کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد مسلمان ملک ہے جس میں بہر لحاظ نہ تو کہیں سے کہیں تک مسلمان پائے جاتے ہیں، نہ پاکستانی اور نہ ہی پاکستان سے وفاداری کرنے والے۔ جس ملک میں کوئی ایک سیاسی رہنما بھی ایسا نہ ہو جس کو پاکستان کا وفادار سمجھا جاتا ہو تو اس بات کا اندازہ لگا لینا کہ اس ملک کا انجام کیا ہونے والے ہے، کچھ مشکل بات نہیں ہونی چاہیے۔

جس طرح موجودہ حکومت کے بارے میں ایک واضح اکثریت یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ اس حکومت کا پاکستان میں تادیر حکومت کرنا پاکستان کیلئے کوئی نیک شگون نہیں اسی طرح موجودہ حکومت کے نزدیک، سوائے اس کے، سارے چور، لٹیرے، بدمعاش اور پاکستان کو تباہ و برباد کرنے والے ہیں۔ بات اب چوروں اور لٹیروں سے بھی کہیں آگے نکل کر غداری کے زمرے تک جا پہنچی ہے اور حکومت اور اس کے سارے مصابحین اس بات کو ہر فورم پر کہتے نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان میں، ان کے علاوہ، کوئی بھی پاکستان کے ساتھ نہ تو مخلص ہیں اور نہ ہی پاکستان کا وفادار۔

ویسے تو یہ بات ایک کھلی حقیقت ہے کہ جو تحریک بھی حکمرانوں اور حکومتوں کے خلاف چلتی ہے اسے تاریخ میں بغاوت کا ہی نام دیا جاتا ہے اور دنیوی دستور اور آئین کی نظر میں ہر باغی غدار ہی کہلایا جاتا ہے لیکن جدید دنیا میں حکومت کے خلاف چلنے والی ساری تحریکیں غداری نہیں کہلاتیں بلکہ حکومتوں کے خلاف چلائی جانی والی قریب قریب ہر تحریک کو دنیا کا ہر آئین و قانون نہ صرف آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ جمہوریت میں ایسا کرنا عوامی اور انسانی حقوق سمجھا جاتا ہے۔

اس قسم کے حق کو موجودہ حکمرانوں نے بھی حکومت میں آنے سے پہلے استعمال کیا اور دنیا کا طویل ترین دھرنا دیا جس کو اب تک ہونے والے احتجاج یا دھرنے کو ایک ایسا مقام حاصل ہے جس تک شاید ہی کوئی اور سیاسی جماعت پہنچ سکے۔جمہوریت میں دیئے گئے ایسے تحفظ میں بہر کیف یہ شرط لازماً درج کی گئی ہے کہ ہر قسم کا ایسا احتجاج یا تحریک جو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے چلائی جارہی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک وینٹی لیٹر سات مریضوں کو مصنوعی سانس دے سکتا ہے مگر کیسے؟ پاکستانی ڈاکٹر کا کارنامہ

خواہ اس میں حکمرانوں کے خلاف باغیانہ انداز ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ امنِ عامہ کا مسئلہ کھڑا نہیں کرتی، ان کے احتجاج کی وجہ سے کسی بھی قسم کا تشدد نہیں ابھرتا، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچنے کا کوئی امکان پیدا نہیں ہوتا اور عام زندگی میں دشواریاں جنم نہیں لیتیں تو اس قسم کی کسی بھی تحریک کے خلاف ریاستی جبر نہ صرف یہ کہ جائز تصور نہیں کیا جاتا بلکہ دنیا کے ہر فورم پر اس کے خلاف شدید ردِ عمل سامنے آتا ہے۔

اسی قسم کی قانونی اجازت کے مطابق مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت جے یو آئی نے پاکستان کے ہر شہر سے قافلوں کی صورت میں نکل کر اسلام آباد میں دھرنا دیا اور کراچی سے لیکر اسلام آباد تک ایک بے مثال نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کا یہ تاثر ختم کیا کہ اسلام کے چاہنے والے، مذہبی جماعتیں اور جہادی جذبہ رکھنے والے گروہ شدت پسند ہوتے ہیں۔ پوری دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ ایک آواز پر جمع ہونے والے اور ایک ہی حکم پر اپنے اپنے گھروں میں لوٹ جانے والے لوگ عام سیاسی پارٹیوں سے بھی کہیں زیادہ معتدل اور نظم و ضبط کے پابند ہوا کرتے ہیں۔

حکومتوں کے خلاف احتجاج اور اپنے امن کے پیغام کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ کہ آج فضل الرحمن بھی "سنگین غداری" کے قانون کی زد میں شمار کئے جانے لگے۔ وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ قائم کریں گے۔
ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق اور پرویزمشرف تو کب کے غدار قرار دیئے جاچکے تھے، بھٹو، بے نظیر، گیلانی، راجہ پرویز اشرف، زرداری اور ان کی پارٹی کبھی بھی وفاداروں میں شمار نہ ہوئی، ولی خان، مولانا مودودی، مفتی محمود جیسے افراد بھی وفادارداران پاکستان میں شمار نہ ہو سکے۔

ایم کیو ایم اور اہل کراچی کو تو ایوبی دور سے ہی پاکستانی تصور نہیں کیا گیا، جئے سندھ کو مرے پاکستان خیال کیا گیا، افغانی اور بہاری آج تک پاکستانی نہ کہلا سکے، بلوچستان بغیر فوج کے کبھی قابو میں نہیں کیا جاسکا، شمالی علاقے تا حال طاقت کی زد میں ہیں، رہ گیا تھا پنجاب، اب اس میں بھی 75 فیصد غدار پیدا ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پنجاب کی "ن" زیر عتاب ہے اور اس کے سارے سیاسی قائدین خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔

سیاسی پارٹیاں ہوں یا مذہبی جماعتیں، ملک کے تمام طول و عرض میں اتنی بڑی تعداد میں غداروں کی موجودگی کے درمیان وفاداروں کو تلاش کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اگر محتاطانہ تجزیہ کیا جائے تو اب صرف ایک "ادارہ" ایسا رہ جاتا ہے جس کو "ریاست" سمجھا جانے لگا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ بھی الزامات کی زد میں تو نہیں؟۔

سابقین تو سارے کے سارے باغی و غدار قرار دے ہی دیئے گئے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے بعد کہیں کسی کونے کھدرے سے کوئی پاکستان کا مخلص تختہ اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا پھر پورا پاکستان سو فیصد غداروں کی لپیٹ میں آجائے گا۔