غالب سے ایک تازہ ملاقات ۔ عبدالخالق بٹ

آج مدت بعد ’شکیل بھائی‘ کی طرف جانا ہوا۔مہمان خانے میں قدم کیا رکھا جیسے الف لیلہ نگری میں آ نکلے۔ دیوار بہ دیوار دبیز قالین، وسط میں نفیس’غالیچہ‘، اطراف میں نرم گدیلے، گدیلوں پرمخملی غلاف اور ان پر سلیقے سے دھرے گاؤ تکیے حسن انتخاب اورحسن ترتیب کا پتا دے رہے تھے۔ دریچوں پرقدیم وضع کے قیمتی ریشمی پردے، دیوارپر جڑاؤ فریم، فریم میں دہلوی نستعلق کی خطاطی کا نادر نمونہ، چھت سے جھولتی کاغذی قندیلیں اور اُن میں جگمگاتے برقی قمقمے۔ ’اے سی‘ کے عین نیچے ایک دوسرے کو ’کراس‘ کرتے ’مورچھل‘ کی جوڑی، چاندی کی کشتی میں لونگ اورمصری کی ڈلیاں ، سنہری طشتری میں تازہ لگے سانچی پان، قِوام اور چکنی ڈلی،ایک جانب حقہ دھرا ہے، جس کی ’نے‘ پر چنبیلی کے تازہ پھولوں کی مالا لپٹی ہے، دوسری جانب ’فش باؤل‘ رکھا جس کے کیوڑہ ملے پانی میں گلاب کی پتیاں تیررہی ہیں۔ تپائی پر سلگتے بخوردان سے اٹھنے والی خوشبو کی لپٹوں نے ماحول کو خواب ناک بنا دیا ہے۔
یہ دیکھ کر ہم ہکّابکّا رہ گئے۔پوچھا: ’شکیل بھائی یہ سب کیا ہے؟‘
کراری آواز میں بولے: تھیم (Theem) کیسی ہے؟
’اچھی ہے، آئیڈیا کہاں سے آیا‘ ۔۔۔ ہماری حیرانی برقرارتھی۔
’گوگل‘ سے ۔۔۔ انہوں نے ہمیں لاجواب کردیا۔
آگے بڑھنے سے قبل ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ’شکیل بھائی‘ کا تعارف کروادیں۔ آپ کا نام ’شکیل خان‘ ہے، ’خان‘ کا لاحقہ اس بات کا اعلان ہے کہ موصوف نسلاً پٹھان ہیں، آبائی تعلق کسی افغان کُٹم قبیلے سے ہے۔ یقیناً اجداد کو ’کشتم کشتا‘ سے علاقہ رہا ہوگا مگر موصوف کا’مہاجنی‘ سے واسطہ ہے۔ خوداری و وضعداری مزاج کا حصہ اور ادب اور ادیبوں سے لگاؤ ہے طبیعت کا خاصا ہے۔ شہر قائد میں سجنے والی ادبی محفلوں میں نمایاں نظرآتے ہیں۔ کتنے ہی استاذہ کا کلام ازبر ہے، مگر استاد صرف غالب کو مانتے ہیں اور اس نسبت سے خود کو ’غالیبیا‘ کہلاتے ہیں۔ وہ اس خوش عقیدگی کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں‘
ہم نے پوچھا : شکیل بھائی یہ اس قدر اہتمام کس کے لیے ہے؟
آج 15فروری ہے، میرزا اسد اللہ خان غالب کا ’یوم وصال‘۔
مطلب ؟ ۔۔۔ ہم نے حیران ہو کرپوچھا
’یوم وصال‘ کا مطلب ہے ’ملاقات کا دن‘۔۔۔ آج غالب آرہے ہیں ملاقات کو۔
’پرمیرزا تو 1869کو انتقال کر گئے تھے۔۔۔ ہماری حیرت دوچند ہوگئی۔
’بڑے لوگ کبھی نہیں مرتے‘۔۔۔ شکیل بھائی کا اسٹیٹمنٹ مکمل ہوا ہی تھا کہ کمرے میں میرزا اسد اللہ خان غالب داخل ہوئے۔جنہیں دیکھ کر ہم ششدررہ گئے، وہ ہو بہو نصیرالدین شاہ والے’غالب‘ تھے۔ شکیل بھائی نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا، اور انہیں ان کی نشست تک لے آئے۔ میرزا نے آراستہ پیراستہ کمرے پر ایک بھرپور نظر ڈالی اور پھر شکیل بھائی سے مخاطب ہوئے:
’شکیل میاں، یہ برخوردار کون ہے اور اتنا سہما ہوا کیوں ہے؟‘
میرزا ! ہمارے یہ دوست آپ سے ملنے کے خواہشمند تھے، سو انہیں بھی مدعو کرلیا۔ سہمے ہوئے اس لیے ہیں کہ انہیں آپ کے ہونے کا یقین نہیں آرہا۔
میرزا نے ایک آہ کھینچی اور کہا: ’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘
غالب مسند نشیں ہوئے تو شکیل بھائی ان کے ہمنشیں ہوگئے اوردل نشیں لہجے میں بولے: ’بھیا تم بھی بیٹھ جاؤ اورسوالات کی پٹاری کھول لو‘۔
کیسے سوالات؟ ۔۔۔ میرزا چونکے۔
شکیل بھائی بولے: میرزا یہ ’لفظ تماشا‘ سجاتے ہیں اور الفاظ کے منظر و پس منظر سے بحث کرتے ہیں‘۔
ہم نے اجازت ملتے ہی سوال پیش کردیا: میرزا ایک عالم آپ کا معترف ہے عبدالرحمان بجنوری کے بقول:’ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ مقدس وید اور دیوان غالب‘۔ جب کہ نثر نگاری میں آپ ایک نئے طرزکے موجد ہیں کہ خطوط نگاری کو مکالمہ نگاری بنادیا، پھر کیا وجہ ہوئی کہ ’لغت‘ کے باب میں آپ کو بدترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑااور بات مقدمہ بازی تک پہنچ گئی۔
غالب مسکرا کربولے: میاں بات یہ ہے کہ غدر(1857) کا ہنگام تھا۔ ہرطرف ماراماری کا بازار گرم تھا۔ صورت حال یہ تھی کہ :
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
ناچارگھر ہی میں محصورہونا پڑا۔ایسے میں خود کو مصروف رکھنے کو فارسی زبان کے سب سے مشہور لغت ’برہانِ قاطع‘ کی ورق گردانی شروع کردی۔اتنا بیان کرنے کے بعد یک دم پوچھا : کبھی نام سنا ہے ’برہانِ قاطع‘ کا؟
چونکہ موضوع ہمارے مطلب کا تھا اس لیے فرفر جواب دیا: جی میرزا ’برہان قاطع‘ محمد حسین برہان کی تالیف ہے۔یہ لغت انہوں نے گولکنڈہ (دکن)کے سلطان عبداللہ قطب شاہ کے ایما پر مرتب کیا تھا۔ اس میں بیس ہزار سے زیادہ الفاظ کی وضاحت کی گئی ہے۔اس لغت کا مقام اہل ایران کے نزدیک آج بھی مسلّم ہے۔
جواب سن کر خوش ہوگئے،مصری کی ایک ڈلی اٹھائی اور ہماری جانب بڑھاتے ہوئے بولے: اب ہوا یوں کہ ’برہانِ قاطع‘ دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ صاحب لغت نے کئی مقامات پر الفاظ کو غلط سمجھا ہے یوں ان کی تعبیر بھی نادرست کی ہے۔ کتنی ہی تراکیب کا مفہوم وہ نہیں جو اُس نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ میں نے ایسے تمام مقامات پر نشان لگایا اور الفاظ و تراکیب کی وہ تعریف و تعارف لکھا جو میرے نزدیک درست تھے۔ یوں میں نے ’برہانِ قاطع‘ کا جواب ’قاطعِ برہان‘ کی صورت میں دیا۔ اس کا شائع ہونا تھا کہ ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔
’کوئی ’لفظ‘ بیان کردیں جو محمد حسین برہان نے درج کیا اور آپ نے اس کی درست تعبیر کی‘ ۔۔۔ ہم نے لقمہ دیا۔
بولے : برہانِ قاطع کے مطابق’آب چیں‘ کے معنی اس کپڑے کے ہیں جس سے مُردے کا بدن بعد غسل خشک کیا جاتا ہے۔ میں نےاس پر یہ اعتراض کیا تھا کہ مردے کے بدن کو خشک کرنے کی قید بیجا ہے کیونکہ ’آب چین‘ ہر اس کپڑے کو کہتے ہیں جس سے جسم یا اس کا کوئی حصہ خشک کیا جائے، تم آج کی زبان میں اُسے تولیہ کہہ لو۔
غدر کی ہنگامہ خیزی تھمی تو 1862 میں میری کتاب ’قاطعِ برہان‘ شائع ہوئی۔ کتاب کا چھپنا تھا کہ مجھے ناشاستہ زبان میں لکھے گمنام خطوط آنے لگے، بھلا بتاؤ میں کیا جواب دیتا اور کس کس کو دیتا۔ دو سال بعد 1864 میں سید سعادت علی کے جی میں کیا آئی کہ میرے خلاف ’محرق قاطع برہان‘ لکھ ماری، پھر اگلے سال 1865 میں سید محمد نجف علی جھجھری نے ’دافع ہذیان‘ لکھی۔اسی سال ہی میرزا رحیم بیگ رحیم میرٹھی نے ’ساطع برہان‘ لکھ دی۔ 1865 میں مَیں نے ’ساطع برہان‘ کے جواب میں رسالہ ’نامۂ غالب بجواب ساطع برہان‘ لکھا اور اپنی کتاب ’قاطعِ برہان‘کو ’درفش کاویانی‘ کے نام سے مکررشائع کروایا۔1866 میں مولوی احمد علی احمد جہانگیر نگری کو بھی قاطع برہان کی مخالفت کا شوق چرایا اور اُس نے ’مؤید برہان‘ لکھ ماری۔ اسی سال معین الدین معین دہلوی نے قاطع برہان کے جواب میں ’قاطع قاطع‘ لکھی۔ چونکہ ’مؤید برہان‘ میں میرے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ اس لیے اول میں نے 1867 میں اس کتاب کا علمی جواب ایک مختصر رسالہ ’تیغِ تیز‘ لکھ کردیا، پھر اس کے مصنف’مولوی احمد علی احمد جہانگیر نگری‘ کے خلاف ازالہ حرفی کا مقدمہ کردیا۔ مولوی احمد بھی کائیاں نکلا عدالت میں اپنے ہر غلط لفظ کی تعبیر کچھ سے کچھ بیان کردی، ناچار 1868 میں اس مقدمے سے دست برادرہوکرراضی نامہ کرنا پڑا۔ مگر اس مولوی نے میرے گزرجانے کے بعد بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا اورمیری کتاب ’تیغ تیز‘ کے جواب میں 1869 میں ’شمشیر تیزتر‘ شائع کردی۔ اس کتاب پر لکھے قطعہ کا مادہ ’ ترکی دادہ جواب ترکی‘ ہے‘۔
اس گفتگو نے غالب کو افسردہ کردیا، لہٰذا گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلیں اور اپنے فارسی شعر گنگنانے لگے:
کوکبم را در عدم اوجِ قبولی بودہ است
شہرتِ شعرم بہ گیتی بعد من خواہد شدن
(میرے ستارہ کو عدم میں اوجِ قبول حاصل تھا۔ میری شاعری کی شہرت بھی میرے بعد ہی ہوگی)
در تہ ہر حرف غالبؔ چیدہ ام مے خانہ اے
تا ز دیوانم کہ سرمست سخن خواہد شدن
(غالبؔ میں نے اپنی شاعری کے ہر لفظ کی تہہ میں ایک مے خانہ رکھ دیا ہے ۔ دیکھیں،میرے دیوان کے مطالعے سے اب کس کس پر سر مستی و سرشاری طاری ہوتی ہے)
اس دوران میں شکیل بھائی ایک خوش عقیدہ مرید کی طرح میرزا کی گفتگوسنتے رہے۔ مگرجب غالب نے اشعار کا ورد شروع کیا تو ہمیں اٹھنے کا اشارہ کیا اورخود بھی دبے قدموں سے کمرے سے نکل آئے۔اس ملاقات کے بعد ہم غالب کے اس دعویٰ پر ایمان لے آئے :
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */