مثالی اقدام - محمد احمد

وہ کتنے خوش قسمت اور خوش نصيب لوگ ہیں جو ملک وملت کا اجتماعی مفاد کا سوچتے ہیں اور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ معاشرے میں ایسے صالح، باکردار اور باصلاحيت افراد پیدا ہوں جن کی سوچ اور فکر سوسائٹی کی رہنمائی ملک وملت کی خیر خواہی ہو۔

جو بھی افراد، ادارے، انجمنیں اور جماعتیں اس عظیم کام کے لیے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کررہی ہیں وہ قابل داد اور ان کا کام لائق تحسین اور قابل تقلید ہے۔حدیث شریف کا بھی مفہوم ہے کہ لوگوں میں بہترین وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے. آج کل نفسا نفسی کا عالم ہے ہر ایک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے. سیاسی جماعتوں اور لیڈر شپ نے ملک وملت پر اپنی ذاتی خواہشات کو ترجیح دی اس وجہ سے وطن عزیز بدترین بحرانوں کا شکار ہے۔

ضرورت اس امر کی تھی یہاں تعلیمی اور معاشی انقلاب بپا کرنا چاہیے تھا کہ ملک کے باشندے خوشحال ہوتے لیکن بدقسمتی ایسا نہ ہوسکا جس ملک میں معاشی نظام کمزور ہو وہاں فکری بحران اور علمی قحط پیدا ہوا کرتے ہیں۔

کیونکہ سب کو اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے کی فکر لاحق ہوتی ہے،بھوک اور افلاس انسان سے تعمیری اور تخلیقی صلاحیتیں چھین لیتا ہے. معاشی بحرانوں میں محقق اور عالم کم باغی اور جاہل زیادہ پیدا ہوتے ہیں. لیکن آج بھی اس فکری قحط سالی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو امت کے اجتماعی مفاد کے لیے جی رہے ہیں، جن کی کوششیں اور محنتیں یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی فکری اور نظریاتی محاذ پر بھرپور رہنمائی کی جائے اور ان میں ذوقِ مطالعہ اجاگر اور شوقِ تحریر بیدار کیا جائے. جب کسی معاشرے اور سوسائٹی کا تعلق قلم وکتاب سے جڑتا ہے تو وہاں سے جہالت کے بادل چھٹنے لگتے ہیں اور علم کی روشنی پھیلنے لگتی ہے۔

اس عظیم کام اور مشن سے وابستہ افراد کی جب تک حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی تب تک کامیابی کی امید نہیں کی جاسکتی ضرورت اس امر کی ہے کہ جو مستند اور بااثر شخصیات ہیں
وہ خود آگے بڑھ کر ایسے افراد اور جماعتوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائیں تاکہ اس فکر اور سوچ کو پذیرائی ملے اور ہم ایک کامیاب قوم اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سفر کرسکیں. یہاں تعلیم سمیت ہر شعبہ کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدارس میں تعلیمی انحطاط ہے۔

اساتذہ کرام کے نام عجیب مخلوق بھرتی کی گئی ہے، بعض اوقات تو لفظ استاد کی بے توقیری محسوس ہونے لگتی ہے۔ تعلیم کے نام پر کاروبار چل پڑا ہے اور شاگردوں سے ادب وأخلاق رخصت ہوا چاہتا ہے. یہ وہ دکھ درد ہے جو ملت کا ہر فرد جانتا ہے لیکن اس کا تدارک اور حل کیا ہے؟اس جانب بہت کم لوگوں متوجہ ہیں. حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سب نے تبصروں، تجزئیوں، اور مشوروں کے نام سے اپنی اپنی دکانیں اور کاروبار سجایا ہوا ہے۔

لیکن کسی دانشور نے عملی طور پر کوئی ایسا ادارہ اور اکیڈمی قائم نہیں کی جہاں سے ایسے ٹیلنڈڈ نوجوان تیار ہوتے ہوں جو اپنا قائدانہ کردار ادا کریں اور معاشرے سے خرافات اور ناکامیوں کا خاتمہ کرسکیں. کہتے ہیں "مایوسی کفر ہے " اس قحط الرجال، فکری انجماد اور تعلیمی انحطاط کے باوجود کچھ امید کی کرنیں اب بھی باقی ہیں. انہیں دیکھ کر دل باغ وبہار ہوجاتا ہے ۔

کہ عنقریب اس معاشرے میں بہار آنے والی ہے اور قلم و کتاب کا دور واپس آنے والا ہے. اس ساری صورتحال میں رابطۃ علماء السند بھی ایک نیک فال، امیدوں اور توقعات کا محور ہے. یہ بنیادی طور پر نوجوانوں کا ایک فورم ہے جو معاشرے میں تعلیمی، فکری، نظریاتی، تحقیقی، تعمیری اور تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ چاہتا ہے. رابطۃ علماء السند نے مختصر دورانیہ میں بڑے انقلابی قدم اٹھائے ہیں. پہلے مرحلے میں " مقابلہ مضمون نویسی " کا انعقاد کیا تھا.جس کو بھرپور پذیرائی ملی۔

اب دوسرے مرحلے میں "دورہ تصنیف وتالیف" جیسے عظیم الشان کام کا بیڑا اٹھایا ہے. جس کا مقصد نوجوانوں کو اپنے بزرگوں کی میراث سے ربط اور قلم وکتاب سے تعلق اور ساتھ میں نظریاتی محاذ پر اہلِ اسلام کی نمائندگی. اس موضوع کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ صدی نظریاتی جنگ کی صدی ہے، ہمارے مدمقابل اور حریف نے ہمیں اس میدان میں شکست سے دوچار کیا ہے. ہمیں بھی چاہیے ۔

زمانے کے تقاضوں کے ہم آہنگ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کریں. ہمیں امید ہے کہ رابطۃ علماء السند کے اس اقدام کو سراہا جائے گا اور ان کے اس کام کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی.