خبردار، ہوشیار اے بنتِ حوا - نیلم اسلم

عورت کو کن باتوں کو سن کر کیا برتاؤ کرنا چاہیے؟ کون اسے مکھی سمجھ کر اس کے گرد جالا بن رہا ہے اور کون ہے جو حقیقت میں اس سے محبت کرتا ہے اور اسے اپنانا چاہتا ہے؟اکثر مرد کسی عورت سے بات کریں گے تو اسے غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لیے یا پھر اپنی اچھائی اور بڑائی کا سکہ بٹھانے کے لیے کہہ دیں گے کہ آپ سے پہلے میرا عورتوں کے بارے میں تاثر بالکل مختلف تھا۔ میں خواتین کو بہت Negative سمجھتا تھا، میری نظر میں عورتیں بری تھیں۔

آپ سے مل کر لیکن عورتوں سے متعلق میرا نظریہ بدل گیا۔ اب میں عورتوں کی عزت کرنے لگا ہوں۔ آپ نے میرے دل میں عورت کا مقام بلند کردیا۔تو میری معصوم بہنو! ایسی کوئی بھی بات سن کر اس پر کان نہیں دھرنے، بلکہ پہلی بات جو آپ کے ذہن میں آنی چاہیے، وہ یہ کہ اچھا! اس کا مطلب ہے اس شخص نے کبھی اپنی ماں اور اپنی بہن کو بھی اچھی عورت نہیں سمجھا، جبھی یہ ان کی بھی عزت نہیں کرسکا۔ عورت کی عزت کے لیے اتنی ہی بات کیا کافی نہیں کہ ایک عورت نے انہیں جنم دیا۔

پھر دوسرا مرحلہ آتا ہے عورتوں کے بے وقوف بننے کا۔ یقین مانیں ہم ساری عورتیں شاید کم وبیش ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ اخلاقیات، پرورش، حالات، تعلیم وتربیت میں فرق کی وجہ سے کچھ تبدیلی ضرور آتی ہے، پر یہ تبدیلی ایسی نہیں ہوتی کہ کوئی آپ کو ایسے بے تُکے ڈائیلاگ سے بے وقوف بناسکے کہ آپ سب سے مختلف ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا، ایسی باتیں صرف گُڑ کو زیادہ میٹھا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔

پھر آجاتی ہے بات خوبصورتی کی، اگر کسی کو آپ کی خوب سیرتی سے زیادہ خوب صورتی میں دلچسپی ہے۔ آپ کے عہدے میں، آپ کے کام میں، آپ کے سجنے سنورنے میں زیادہ انٹرسٹ لے رہا ہے تو سمجھ جائیے آگے گہری کھائی ہے، صرف خطرہ ہی خطرہ ہے۔ اور یہ رُکنے کا اشارہ ہے کہ آگے نہ بڑھیں۔ کیونکہ خوبصورتی کیسی بھی ہو، چند سال بعد چہرہ ویسا نہیں رہتا۔ کتنے ہی ایسے چہرے ہیں، روز ہم جنہیں اخبارات میں پڑھتے اور چینلز پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قوموں کی عزت ہم سے ہے- مدیحۃالرحمن

جن کے مرجھانے پر دنیا نے ایسی آنکھیں بدلیں جیسے ان سے کسی کی کبھی کوئی شناسائی ہی نہ رہی ہو۔ حالانکہ اپنے زمانے میں ان پر بھی لاکھوں مرمٹنے کے دعوے کرتے رہے۔ سو یہ پیسہ، یہ عہدے، یہ خوبصورتی، یہ خوش لباسی ساری عمر ساتھ نہیں چل پاتی۔ خوب سیرتی پر مرمٹنے والے لوگ تلاش کیجیے، بہت محتاط۔

یہاں بھی دال نہ گلیں تو وہ کسی اور راستے سے آجائیں گے۔ دھوکے باز بہت سے گُر جانتے ہیں کہ کس کو کیسے رام کرنا ہے؟ کس کی کیا کمزوریاں ہیں؟ کس کو کہاں اُلجھانا اور پھنسانا ہے؟ اگر کوئی مرد آپ کے بار بار Igonre کرنے پر بھی یہ نہیں سمجھ رہا کہ آپ اس سے پیار محبت کا کوئی تعلق نہیں بنانا چاہتیں اور وہ پھر بھی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے رہا ہے تو یقین مانیں آپ اس کے ساتھ صحیح کررہی ہیں۔ آپ کوئی لاٹری نہیں کہ وہ آپ کو جیتنے کی کوشش کرے۔ جو آپ کے جذبات کا احترام نہیں کررہا، اور زبردستی ایک رشتہ بنانا چاہ رہا ہے تو وہ انتہائی خودغرض انسان ہے۔

شاید کسی نے درست ہی کہا ہے کہ میں نے اسے دیکھا تو مجھے اس میں اپنی صورت نظر آئی اور پھر مجھے اس سے محبت ہوگئی۔ یعنی محبت اسے کسی اور سے نہیں، بلکہ اپنے جذبات، احساسات اور خواہشات سے ہوئی ہے۔ ایسے لوگ زندگی میں ہمیشہ اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ حالانکہ محبت خودغرض نہیں ہوتی، اور جو خودغرض ہوتی ہے وہ محبت نہیں ہوتی۔

محبت کے تعلق کے لیے نہ تحفوں کی ضرورت ہے نہ کسی ویلنٹائن ڈے کی۔ یہ مسلسل ایک تجدید وفا کا جذبہ ہے اور سب سے بڑھ کر کہ جو آپ سے محبت کا دعویٰ کرے اور پھر آپ سے رشتہ ناتا جوڑنے میں ٹال مٹول سے بھی کام لے، تو سمجھ جائیے کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ اسے اسی لمحے چھوڑکر ثواب دارین حاصل کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی عورت کیا چاہتی ہے- مقدس امجد

ثوابِ دارین سے یاد آیا کچھ لوگ آپ کو مذہبی لبادہ اوڑھ کر بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کریں گے۔ اپنے چہروں پر ایسا ماسک چڑھائیں گے کہ آپ انہیں فرشتہ کہے بغیر نہ رہ سکیں، لیکن حقیقت کھلے گی تو اندازہ ہوگا کہ یہ ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ کچھ آپ پر رعب جمانے کو اپنے مال ودولت کے قصے بھی بہت سنائیں گے۔ کچھ لوگ اپنی شکل اور تعلیم سے بھی آپ کو دھوکے میں مبتلا کریں گے۔ اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں سے اور ”روشن چہروں“ سے شاید آپ وقتی متاثر ہوبھی جائیں، لیکن حقیقت کھلنے پر ”اندروں چنگیز سے تاریک تر“ نظر آئیں گے۔

آخر میں اپنی تمام بہنوں اور دوستوں سے صرف یہی کہنا چاہوں گی کہ صرف دکھاوے کے لیے، یا کسی سوشل پریشر کے لیے کبھی کوئی غلط قدم نہ اُٹھائیں۔ یہ ساری زندگی کے فیصلے ہیں، ان میں جلدبازی نہ کریں۔ سوچ سمجھ کر اپنی زندگیوں کے فیصلے کریں۔ بظاہر بہت فرشتہ صفت نظر آنے والے لوگ آپ کی بربادی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ زندگی میں بڑے سبق دے جاتے ہیں۔ انسان کو جو کندھا زندگی میں چاہیے، وہ اس کا اپنا کندھا ہے۔ دوسروں کے کندھے صرف میتوں کے لیے ہوتے ہیں۔ انسان کو جو حوصلہ دے سکتا ہے، وہ ذات خدا کی ہے۔ خدا کے بعد آپ کو ضرورت ہے تو صرف اپنی ذات کی۔

آپ کا ہاتھ تھامنے والا آپ کے برابر کا نہیں مل رہا تو آپ خود اپنا ہاتھ تھامیے۔ اپنے آپ کو وقت دیجیے، اپنے آپ کا حوصلہ اور ہمت بنیے۔ کبھی کسی ہوٹل میں جاکر اپنے ساتھ ڈنر اور لنچ کا تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ یہ تجربے ضرور آزمائیے جب تک کہ وہ ایک شخص نہ ملے جسے خدا نے آپ کے لیے چن کر اور لکھ کر بھیجا!