برصغیر اور فسطائیت- خورشید ندیم

جمہوریت ہی میں معاشروں کی بقا کا راز مضمر ہے، فسطائیت میں نہیں۔ دلی کے انتخابات نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
فسطائیت، انتہا پسندی کی ایک صورت ہے۔ جب لوگ حبِ عاجلہ میں مبتلا ہو کر، کسی بَچھڑے کو خدا مان لیں تو فسطائیت وجود میں آتی ہے۔ خدائی، نمرود ہی کی کیوں نہ ہو، دوئی کو قبول نہیں کرتی۔ مطلق العنانیت اس کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ نرگسیت کی انتہا اور اپنی بڑائی پر ایمان اس کی بنیاد ہے۔ آمریت بھی اقتدار میں کسی کو شریک نہیں کرتی مگر دونوں میں فرق ہے۔ فسطائیت میں لوگ بھی جھوٹے خدا پر ایمان لے آتے ہیں۔
بیسویں صدی میں انسانوں نے ہٹلر اور میسولینی کی صورت میں فسطائیت کو بھگتا۔ اکیسویں صدی میں اس کا دوبارہ ظہور ہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے عوامی مقبولیت کی بنیاد پر یہ چاہا کہ وہ معاشروں کو دوبارہ بیسویں صدی میں لے جائیں۔ برصغیر میں بھی اس کو زندہ کیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں کوئی قابلِ ذکر ردِ عمل نہیں ہوا۔ بھارت میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کا بھی ہے۔
حسینہ واجد صاحبہ نے بنگلہ دیش کی سرزمین پر موجود ہر اس نقش کہن کو مٹانے کا ارادہ کیا جس کا تعلق 1970ء کے ماقبل سے ہے۔

انہوں نے فوج اور عدلیہ جیسے ریاستی اداروں کے ساتھ، سیاست کو بھی قدیم اثرات سے پاک کرنا چاہا۔ جماعت اسلامی سیاست میں متحدہ پاکستان کی علامت تھی۔ اس کا وجود بھی مٹانے کی کوشش کی گئی۔ یہ کام جس ظالمانہ انداز میں کیا گیا، اس نے بیسویں صدی کی یاد تازہ کر دی جب ہٹلر جیسے لوگ خود ساختہ قومی مفاد میں اس طرح کے فیصلے کرتے تھے۔ حسینہ واجد کے خلاف کوئی بڑا عوامی ردِ عمل پیدا نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے قومی معیشت کو سہارا دے کر عام آدمی کے لیے معاشی امکانات کو وسیع کر دیا اور امید کے چراغ روشن کر دیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ذہنی آزادی کو گروی رکھ کر، معاشی آسودگی کو قبول کر لینا چاہیے؟
ہم اس سوال کو تھوڑی دیر کے لیے نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کی طرف بڑھتے ہیں۔ بھارت میں مودی صاحب کو کارپوریٹ سیکٹر لایا تھا۔ اس کی وجہ گجرات میں ان کی کارکردگی تھی۔ فسطائی ذہن کے باوجود، انہیں اقتدار تک پہنچایا گیا کہ بھارت میں گجرات کا معاشی تجربہ دہرایا جائے۔ پہلے دور میں ایک حکمتِ عملی کے تحت، انہوں نے معیشت کو ترجیح دی اور فسطائی سوچ کو لگام دیے رکھی۔ دوسرا موقع ملا تو انہوں نے نقاب اتار پھینکا۔ اب انہوں نے فسطائی انداز میں ریاستی امور چلانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت لیکن ایک جمہوری معاشرہ ہے۔ اس جمہوریت نے مودی سرکار کی فسطائیت کو چیلنج کر دیا۔

آج پورے بھارت میں اضطراب پھیل رہا ہے۔ مودی صاحب کو سیاست میں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں۔ وہاں سیاسی جماعتیں کمزور ہیں‘ لیکن گزشتہ چند ماہ میں یہ بات سامنے آئی کہ سول سوسائٹی توانا ہے۔ یہ سول سوسائٹی ان کے خلاف کھڑی ہو گئی۔
معاشرتی سطح پر موجود اس شعوری بیداری نے سیاسی عمل پر بھی اپنے اثرات ڈالے اور اس کا اظہار دلی کے انتخابات میں ہوا۔ اضطراب کے باعث بھارت کی معیشت سکڑ رہی ہے۔ اب اس کی ترقی کی شرح بنگلہ دیش سے کم ہے۔ جمہوریت وہاں فسطائیت کے راستے کی دیوار بن گئی ہے۔ لوگ جان چکے کہ فسطائیت معاشی آسودگی دے سکتی ہے نہ سماجی امن۔
واقعہ یہ ہے کہ جمہوریت ہی ایسے ظالمانہ رجحانات کو روک سکتی ہے۔ جو لوگ مودی کا نام لے کر جمہوریت پر تنقید کرتے ہیں، انہیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اگر مودی جمہوریت کی پیداوار ہے تو اس کے خلاف مزاحمت بھی جمہوریت ہی سے پھوٹی ہے۔ اگر بھارت میں جمہوری کلچر نہ ہوتا تو وہ کون سی قوت تھی جو ان کا ہاتھ روک سکتی تھی؟ اس جمہوریت نے ارون دتی رائے جیسوں کو کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ لا کھڑا کیا۔ آج جمہوریت ہی ہے جو بھارت کی اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کی ضمانت دے رہی ہے۔
پاکستان میں بھی اسی فسطائی ماڈل کو اپنایا جا رہا ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ حکومت پر ہونے والی ہر تنقید بد نیتی کا مظہر ہے اور اس کا ہر راستہ بند کرنا ضروری ہے۔ اس وقت اگر حکومت کو کسی مزاحمت کا سامنا ہے تو وہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ ان چھوٹے چھوٹے سماجی گروہوں کی طرف سے ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی احتجاجی صدا بلند کر رہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تنقیدی آوازوں کو دیس نکالا دیا جا چکا۔

ان لوگوں نے سوشل میڈیا میں جا پناہ لی اور اپنی رائے عوام تک پہنچانے لگے۔ حکومت کو اب یہ بھی گوارا نہیں۔ اب سوشل میڈیا کو لگام ڈالنے کے لیے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کچھ نوجوان سرفروشی کی تمنا کے ساتھ نکلے تو ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کر دیے گئے۔ مقصود یہ ہے کہ حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو کچل دیا جائے۔ یہی فسطائیت ہے۔
بر صغیر تاریخ سے بچھڑا ہوا ایک خطۂ زمین ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ، یہ دنیا کا دوسرا علاقہ ہے جو ماضی کے تنازعات سے جان چھڑا سکا اور نہ کسی ذہنی ارتقا ہی کا مظاہرہ کر سکا۔ کم و بیش ایک صدی سے، یہاں کوئی بڑا لیڈر پیدا نہ ہو سکا۔ ایسا لیڈر جو اس خطے کو ماضی سے اٹھاتا اور مستقبل کا مسافر بنا دیتا۔ وہ نئے دور کے تقاضوں کو سمجھتا اور آنے والے وقت کے قدموں کی چاپ سن سکتا۔
اس خطے میں دو کام ضروری تھے۔ ایک‘ ماضی سے کٹ کر ایک نئے علاقائی وژن کی تشکیل۔ دوسرا‘ جمہوری معاشروں کا قیام۔ یہاں دونوں کام نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے یہ زمین اگر مذہبی انتہا پسندی کے لیے سازگار ثابت ہوئی تو ساتھ ہی یہاں اس پاپولزم کو بھی جگہ ملی جس کا ناگزیر نتیجہ فسطائیت ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ امریکہ میں بھی ٹرمپ جیسے لوگ نمودار ہوئے۔

بطور واقعہ، اس کی تصدیق کے ساتھ، ہمیں اس کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ جمہوری قدروں کی موجودگی میں، صدر ٹرمپ کے لیے ممکن نہیں ہوا کہ وہ فسطائیت کا راستہ اختیار کر سکیں۔ مودی کی طرح وہاں بھی ان کے خلاف مزاحمت کا آغاز ہو چکا۔ اس وقت ان کی حماقتوں کی سزا دنیا بھگت رہی ہے۔ جس دن اس کی آنچ امریکی عوام تک پہنچی، وہاں کی جمہوری روایت انہیں اگل دے گی۔
اب آئیے اس سوال کی طرف کہ معاشی آسودگی، کیا جمہوریت کا متبادل ہو سکتی ہے؟ اگر انسان صرف پیٹ کا نام ہے تو یہ مقدمہ درست ہے۔ لیکن اگر اس کے پاس عقل ہے اور وہ سوچتا بھی ہے تو وہ کسی ایسے ماحول میں، زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا جہاں اسے پیٹ بھر کر کھانا ملے لیکن فکری آزادی سے محروم کر دیا جائے۔ کھانا ملتا رہے تو جبر کے خلاف مزاحمت کا عمل موخر ہو سکتا ہے، ختم نہیں ہو سکتا۔

مشرقِ وسطیٰ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں معاشی آسودگی کے باعث لوگوں نے بادشاہت کو گوارا کیے رکھا لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب اگر آج ویلنٹائن ڈے کے پھولوں سے سج گیا ہے تو اسی تاریخی جبر کا نتیجہ ہے۔ بنگلہ دیش کو بھی اس سے کوئی استثنا نہیں۔ وہاں اگر شخصی آزادی کو اسی طرح کچلا جاتا رہا تو اس کی معاشی ترقی فسطائیت کے خلاف مزاحمت کا راستہ نہیں روک پائے گی بلکہ یہ ترقی خود اس کا ایندھن بن جائے گی۔پاکستان کے حکمران طبقے کو بھارت اور بنگلہ دیش سے سیکھنا چاہیے۔ یہ تو مودی اور حسینہ واجد کے بر خلاف، معیشت کے محاذ پر بھی بری طرح ناکام ثابت ہو چکے۔ ایسی حکومت اگر فسطائیت کا راستہ اپنائے گی تو اس کے خلاف مزاحمت کو مجتمع ہونے کے لیے مہینوں کی نہیں، دنوں کی ضرورت ہو گی۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا کر اختلافِ رائے کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں، وہ خود کشی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اگر فیصلہ ساز حلقوں میں سوچنے سمجھنے والے لوگ موجود ہیں تو انہیں غور کرنا چاہیے کہ جمہوریت سے فسطائیت کی طرف لوٹنا تاریخ سے لڑنا ہے۔ تاریخ صراطِ مستقیم میں سفر کرتی ہے، دائرے میں نہیں۔