دل وہاں چھوڑ آیا ہوں _ احسان کوہاٹی

دو بار ترکی جا چکا ہوں جب بھی گیا یوں لگا کہ اپنا دل وہاں چھوڑ کر صرف سینے کا پنجرہ لے آیا ہوں،ایسا کیوں نہ ہوتا کہ سرزمین ترک مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی گواہ ہے ترکوں کی دھرتی کا چپہ چپہ امت مسلمہ کے وقار کا قصیدہ گوئی کرتا ملتا ہے۔

ترکی! میرے انصاروں کے سلطان حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ترکی، بہادروں اور ہمدردوں کا ملک ترکی،پاکستانیوں کا حقیقت میں دوسرا گھر ترکی، جہاں پانچ چھ فٹ کی گندمی جسامت کا پاکستان سے تعلق کا پتہ چلے تو ترکوں کی آنکھیں محبت سے چمکنے لگتی ہیں "کاردش"(بھائی) کہہ کر بازو وا ہو جاتے ہیں میں ترکی میں استنبول سے شانلی عرفا تک گھومتا پھرا لیکن کہیں جیب میں پاسپورٹ رکھنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ میں پاکستانی کاردش تھا۔

ترک ہمیں اپنا محسن مانتے ہیں کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں آپ پاکستانیوں کے آباؤ اجداد نے ہماری مدد کی تھی مولانا محمد علی جوہر نے خلافت موومنٹ چلائی تھی آپکی ماؤں بہنوں بیٹیوں نے اپنی کلائیاں سونی کر لی تھیں کانوں سے آویزے اتار کر ہماری مدد کو بھیجے تھے ترک دنیا کے حاکم اور فاتح رہے ہیں ایک فاتح قوم کا کسی کا احسانمند ہونا اس قوم کا قد کاٹھ بڑھاتا ہے اور ترک بٹوارے سے پہلے کے اسی احسان کو اج بھی پلکوں پر رکھے دامے درمے سخنے ہمارے ساتھ ہیں۔

مسئلہ کشمیر پر بھارتی دستور گردی نے ہمیں بتا دیا کہ کون ہمارے کتنے ساتھ ہے ہمارے عرب بھائیوں نے تو آنکھیں پھیر کر ہمیں ٹھینگا دکھا دیا تھا مودی کو سینے سے لگا کر کشمیریوں کے لہو سے تمغے دھو دھو کر اسکی چھاتی پر لگائے ایف اے ٹی ایف کے زریعے پاکستان پر جال پھیبکا گیا ہماری مشکیں کسنے کو تھیں کہ ترکی کا اردگان ملایشیا کا. مہاتیر چین کے ساتھ ہماری مدد کو اٹھ کھڑا ہوا۔

کشمیر پر ہمارے بعد کسی ملک کا بے لچک موقف ہے تو وہ ترکی ہی یے آج ترکی ملایشیا اور پاکستان ایک متحرک مسلم بلاک بنانے کی جانب بڑھ ریا ہے اس تحریک کا امام طیب اردگان آج ہمارا مہمان ہے اس معزز مہمان کے لئے ہم پلکیں کیوں نہ بچھائیں بازو وا کیوں نہ کرہں ترک بھائیوں کے ساتھ کیوں نہ کھڑے ہوں کہ ہر مشکل گھڑی میں وہ ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.