ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار- ارشاد احمد عارف

آزادی کا یہ تصور کب کسی کو سوجھا ہو گا‘ تاجر کو ذخیرہ اندوزی‘ گراں فروشی اور ملاوٹ کی آزادی۔ صنعت کار و سرمایہ کار کو قرض خوری‘ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کی آزادی۔ سیاستدان کو من مانی‘ قانون شکنی اور قومی وسائل میں خورد برد کی آزادی‘ عالم دین کو آیات الٰہی میں تاویل اور خلق خدا کے اعمال و ایمان کا فیصلہ کرنے کی آزادی۔ دانشور کو عوامی جذبات و احساسات مجروح کرنے‘ طے شدہ قومی معاملات سے چھیڑ خانی کی آزادی۔ اخبار نویس کو آزادی اظہار کے نام پر تفرقہ و انتشار پھیلانے کی آزادی۔ حکمرانوں اور عمال سلطنت کو قانون شکنی‘ اقربا پروری‘ دوست نوازی کی لامحدود اور بے کراں آزادی۔ مجرم ذہنوں کو جھوٹ‘ فریب کاری‘ ڈکیتی اور آبرو ریزی کی آزادی ویسے تو برصغیر کے اجتماعی مزاج میں اعتدال و توازن مفقود ہے‘ قانون پسندی کے ہم عادی نہیں اور من مانی ہمارا محبوب مشغلہ ہے‘ خورو نوش ‘ رہن سہن‘ بول چال میں موقع ملتے ہی طے شدہ اخلاقی‘ معاشرتی اور طبی اُصولوں کو بالائے طاق رکھ کر تجاوزکرنے لگتے ہیں مغرب میں گدھا ایک محنتی جانور ہے مگر ہم ہر محنتی شخص کو گدھا تصور کرتے ہیں۔ کام چوری کی سرشت ہمیں ہر محنتی شخص کا مذاق اڑانے پر آمادہ کرتی ہے‘شریف النفس کو بے وقوف‘ اُصول پسند کو ہٹ دھرم اور نرم دل و نرم مزاج کو بزدل اور قانون پسند کو دقیانوسی سمجھنے والے معاشرے میں آزادی کی ایسی ہی درگت بن سکتی تھی جو بن رہی ہے۔

آزادی خدا داد نعمت ہے اور آزادی افکار کسی معاشرے کے فکری ارتقا و استحکام کی شاہ کلید مگر فکر خام؟ ؎ آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی رکھتے نہیں جو فکر و تذّبر کا سلیقہ ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ پاکستان کا قیام حریت پسند مسلمانوں کی بے پایاں جدوجہد اور اقبالؒ و قائدؒ کی فکری ریاضت کا نتیجہ تھا‘ آزاد وطن کے باشندے اپنی خدا داد صلاحیتوں کے بل بوتے پر اقوام عالم کے شانہ بشانہ فکری ‘روحانی ارتقا اور مادی خوشحالی کے ثمرات سمیٹ سکیں مگر اس آزادی کے ساتھ ہم نے بحیثیت قوم کیا سلوک کیا؟ ع پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے حریت فکر کا معاملہ بھی قومی آزادی سے مختلف نہیں۔ریگولر میڈیا کے بعد سوشل میڈیا کے پر کاٹنے کے لئے حکومت کوشاں ہے اور ہم آزادی اظہار کی دہائی دے رہے ہیں مگر آزادی اظہار کے پردے میں سوشل میڈیا پر مادر پدر آزادی نے کچھ عرصہ میں جو ستم اٹھائے وہ ہم بھول رہے ہیں‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آزادیٔ افکار کے نام پر توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب ہواایک بار نہیں‘ بار بار‘ تسلسل اور تواتر کے ساتھ۔ علاقائیت ‘فرقہ واریت‘ لسانیت‘ نسلی منافرت اور پاکستان دشمنی کو فروغ ملا‘پاکستان کا آئین اور قومی سلامتی کے ادارے دشنام طرازی کی زد میں آئے اور سیاسی مخالفین کی نہ صرف پگڑیاں اچھالی گئیں بلکہ ان کی مائوں بہنوں بہو‘ بیٹیوں کو نہ بخشا گیا‘یہ کارنامہ طفلان بدمعاملہ نے انفرادی طور پرانجام نہیں دیا ‘ہماری مذہبی سیاسی اور قوم پرست تنظیموں کے تنخواہ دار کارندے پیش پیش تھے‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ‘اخلاقی اقدار کے علمبردار اور اپنی اپنی قیادت کی حرمت و ناموس کے بزعم خویش محافظ۔

سوشل میڈیا پر مادر پدر آزادی سے شہ پا کر بعض حلقوں نے ریگولر میڈیا کے ضابطہ اخلاق کو پامال کیا اور غیر ملکی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی سعی کی‘ تنقید ‘تنقیص و تضحیک میں بدلی‘ شائستگی پر فحش گوئی‘ دشنام طرازی اور بہتان تراشی نے غلبہ پایا اور بے لگام آزادی کو بنیادی انسانی حق سمجھا گیا۔ اقبالؒ نے غالباً قوم کی اس کیفیت کو بھانپ کر کہا تھا ؎ ہے کس کی جرأت کہ مسلمان کو ٹوکے حریت افکار کی نعمت ہے خداداد چاہے تو کرے کعبہ کو آتش کدۂ پارس چاہے تو کرے اس میں فرنگی صنم آباد قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد ہے مملکت ہند میں اک طرفہ تماشا اسلام ہے محبوس‘ مسلمان ہے آزاد واشنگٹن پوسٹ نے دو روز قبل انکشاف انگیز رپورٹ چھاپی کہ کس طرح سی آئی اے نے ایک کمپنی بنا کر پاکستان سمیت کئی ممالک کی جاسوسی کی‘ بغاوتیں کرائیں اور حساس اداروں تک رسائی حاصل کی‘ جس سوشل میڈیا کو خداداد نعمت مان کر ہم ریاستی اداروں کی گرفت سے محفوظ رکھنے کے درپے ہیں معلوم نہیں خود کتنے آزاد و خود مختار ہیں اور ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے کس کا عطا کردہ ہے؟آزادی افکار یا اس کے پردے میں پاکستان جیسے ممالک میں مذہب بیزاری نسلی‘ لسانی‘ مسلکی نفرت انگیزی اور قومی وحدت پارہ پارہ کرنے کی منصوبہ بندی و سازش‘ پچاس ساٹھ سال بعد اگر پتہ چل بھی گیا تو اس تباہی کا ازالہ کس طرح ممکن جو مچ چکی ہو گی۔ کوئی سوچنے کے لئے تیار ہے نہ سننے سمجھنے پر آمادہ۔ ریاست کا ادارہ انسانی معاشرے کو قاعدے قانون اور اخلاقی و معاشرتی اقدار کے مطابق چلانے کے لئے وجود میں آیا۔

مادر پدر آزادی کے نتیجے ہی میں ہم جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں‘ ملائوں اور مافیاز کی گرفت میں ہیں کہ ہماری آزادی کو یہ ہائی جیک کر چکے اور پوری قوم ذہنی غلامی پر رضا مند و خورسند ہے‘ سوشل میڈیا پر کوئی ایسی پابندی جو آزادی اظہار کے عطا کردہ خدائی حق‘ آئین اور طے شدہ قوانین سے متصادم ہو ہرگز قابل قبول نہیں‘ پاکستان میں بظاہر ممکن بھی نہیں کہ یہ چین ہے نہ سعودی عرب اور نہ مقبوضہ کشمیر‘ کہ کسی غیر آئینی‘ غیر اسلامی پابندی کو زبردستی مسلط کر کے حکومت یا کوئی طاقت من مانے نتائج حاصل کر پائے مگر ریگولیٹری قوانین؟ میرا نہیں خیال کہ کسی سنجیدہ فکر شخص کو مخالفت زیب دیتی ہے۔ کل تک مختلف سیاسی و علاقائی جماعتوں کے سوشل میڈیا مجاہدین کی دشنام طرازی سے تنگ اور مقدس ہستیوں کے خلاف یاوہ گوئی سے پریشان دانشور اور اہل علم و قلم بھی اگر قانون سازی کی مخالفت کریں تو تعجب ہے۔ پھر ملاوٹ مافیا‘گراں فروش مافیا‘ سمگلر ‘ذخیرہ اندوز مافیا‘ مذہبی و سیاسی خواب فروش مافیا کی مادر پدر آزادی پر اعتراض کیوں؟ محراب و منبر سے فتوے بازی پر قدغن کیسی؟وہ بھی جو چاہیں کریں‘ سب کو آزادی ہے‘ آئین ‘ قانون حتیٰ کہ عوام جائیں بھاڑ میں۔ کسی کی آزادی کو ریاست یا حکومت سلب کیسے کرے۔؟ ؎ ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ