عبدالکعبہ سے صدیق اکبر ؓ تک - عنایت کابلگرامی

نبی الآخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے دو سے ڈھائی سال کے بعد مکہ میں قریش خاندان کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے عثمان بن عامر کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوتی ہیں،جس کے پیداش سے قبل بچے کے والد عثمان اور والدہ سلمیٰ نے ایک منت مانی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں اگر لڑکا ہوگا تو ہم اس کا نام عبد الکعبہ رکھیں گے۔

اور ان کے یہاں بچے کی پیدایش کے بعد منت کے مطابق بچے کا نام عبدالکعبہ رکھ دیا جاتا ہے۔ محمد عربی ﷺ کی آمد سے قبل پور ا عرب شرک و کفر کی دلدل میں دھنسا ہواتھا، بیت اللہ شریف کے اندر تین سو ساٹھ(360) بت رکھیں ہوئے تھے۔ اسی لیے عثمان اور سلمیٰ نے منت مانگی۔عبد الکعبہ در حقیقت اسلام قبول کرنے سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کا نام تھا، آپ ؓ کا شجرہ نسب ساتویں پشت پر جاکر نبی پاک ﷺ سے ملتا ہیں۔ عبدالکعبہ بچپن سے ہی انتہائی شریف النفس انسان تھے، آپ ؓ کی دوستی بچپن میں ہی تاجدار مدینہ ﷺ سے ہوئی۔

عبدالکعبہ (حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰعنہ) جب چھوٹے تھے تو آپ کے والد آپ ؓ کو کعبہ شریف لے گئے جہاں پر تین سو ساٹھ بت رکھیں ہوئے تھے۔ آپ ؓ سے والد نے کہا بیٹا یہیں ہیں ہمارے معبود (بتوں کے لیے کہا)یہیں ہمیں کھلاتے پلاتے اور ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ عبدلکعبہ( صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ) کے والد نے آپ ؓ کو حکم دیا کے وہ ان بتوں کو سجدہ کریں مگر آپ ؓ نے بتوں کو سجدہ نہیں کیا، یہ دیکھ کر آپ ؓ کے والد باہر چلے گئے یہ سوچ کر کہ شاید میرا بیٹا مجھ سے شرما رہا ہے۔

اس لیئے سجدہ نہیں کر رہاہے۔ والد کے باہر جاتے ہی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے بتوں سے کہا مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھلاؤجواب نہیں آیا دوبارہ کہا پھر بھی جواب نہیں آیا،اس کے بعد آپ ؓ نے ایک پتھر اُٹھا یا اور کہا تم ہماری حفاظت کرتے ہو میں دیکھتا ہوں تم اپنی حفاظت کیسے کرتے ہو،اس کے بعد پتھر زور سے ایک بت کو د ے مارا اور بت دھڑم سے نیچے گر گیا بت کے گرنے سے آواز پیدا ہوئی اسی آواز سے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰعنہُ کے والد اندر آئے اور بت کو نیچے گرا پا کر اپنے بیٹے عبد الکعبہ (ابوبکرؓ)کو مارنے اور پیٹ نے لگے۔

جس طرح قرآن مجید سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں نبی محترم ﷺ کے آمد اور آپ ﷺ کے تعلیما ت کا تبصرہ آیا ہے، ٹھیک اس طرح ہی آپ ﷺ کے کے صحابہ ؓ کا تبصرہ بھی آیا ان میں ایک صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ بھی ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے قبل حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰعنہُ تجارت کے لیے مصر گئیے ہوئے تھے وہاں آپ ؓ کو معلوم ہوا کے ایک شخص جس کی عمر تقریباً تین سو سال ہے اور وہ تورات، انجیل، زبور کا حافظ اور عالم ہے ،تو آپ کے دل میں ان سے ملنے کا خواہش ابھری تاکہ ان سے ملکر فیض حاصل کیا جائے۔

آپ ؓ ان سے ملنے ان کے خانقاء پر تشریف لے گئے۔ حال احوال کے بعد اس بوڑھے شخص نے آپ ؓ سے پوچھا کہاں سے آئے ہو، صدیق اکبر رضی اللہ عنہُ نے جواب دیا مکہ سے جس پر اس بوڑھے عالم نے اپنی آنکھوں کو ہاتھ کی انگلیوں کے مددسے کھول کر صدیق اکبر رضی اللہعنہُ کو غور سے دیکھا اور کہا آپ کانام عبدالکعبہ ہے؟ تو آپ نے کہا ہاں، والد کا نام عثمان ہے؟ آپ ؓ نے کہا ہاں،دادا کا نام عامر ہے؟ کہا ہاں،قریش کی شاخ بنو تمیم سے ہو؟ آپ ؓ نے کہا ہاں، یہ سب سن کر عبدالکعبہ یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰعنہُ سے رہا نہیں گیا ۔

اور اس ضعیف بوڑھے عالم سے پوچھ ہی لیا کہ آپ کو میرے بارے میں اتنی معلومات کہاں سے ہیں، نہ ہی ہم اس سے پہلے ملے ہیں اور نہ ہی کبھی آپ کو میں نے دیکھا ہے، اتنی معلومات کہا سے؟ جس کا جواب دینے کہ بجائے بوڑھے عالم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہعنہُ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے)سے کہا آپ اپنی قمیص اوپر کرلیں، آپؓ نے کہا میں آپ سے کیا سوال کر رہاہوں اور آپ مجھے قمیص اوپر کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں،دوبارہ اسرار پر آپ ؓ نے قمیص اوپر کر ہی لی، اس کے بعد اس ضعیف شخص نے کہا سبحان اللہ، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰعنہُ نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کے آخری نبی محمد رسول اللہﷺ کے صحابی ہو آپ، آپ کا تبصرہ آسمانی کتابوں میں موجود ہیں اور ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ ؓ کے ناف کے اُپرایک تل ہوگا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰعنہُ قبول اسلام سے قبل اور قبول اسلام کے بعد جب تک شراب کو حرام نہیں قرار دیاگیا تھا تب تک شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگا یا تھا۔جب کہ آپ ؓ کی عمر38 سال تھی، اسلام کا آفتاب طلوع ہوا، عبدالکعبہ( حضرت ابوبکر صدیقؓ) تجارت کے غرض سے یمن کے سفر پر گئے ہوئے تھے،ابھی واپس لوٹ کر آئے ہی تھے کہ مکہ کاپورا گرو احباب ابوجہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ نے آپ ؓکے گرد گھیرا ڈال دیا،اور نوازئیدہ دین اسلام کی اطلاع دی، نیز فراست ابوبکری، وتجربہ صدیقی سے فائدہ اٹھانا چاہا کہ عبداللہ کے یتیم بیٹے محمد (ﷺ)نے دعویٰ کیاہے کہ وہ اللہ تعالیٰکے پیغمبر و رسول ہیںاور ان پر حضرت جبرئیل ؑ وحی لے کر آتے ہیں، اس لیے لوگ بے چینی سے آپ کا انتظار کررہے ہیں۔

اس فتنے کی روک تھام میں تمہاری اصابت رائے کی ضرورت ہے، اور اگر یہ فتنہ بعجلت تمام دبایا نہ گیا تو آبائی اقدار کا تسلط ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ادھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰعنہ، رسول اللہصلی اللہعلیہ وسلم کے دوست، تجارتی سفروں کے رفیق اور آپ کی پاکیزہ سیرت واخلاق کے عینی شاہد تھے، اپنی دور اندیشی، ومعاملہ فہمی اور اصابت رائے کی قوت سے حقیقت تک پہنچ گئے۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ احباب سے فرصت پاکر درِ رسالت ﷺ پر پہنچے، وحی و نبوت سے متعلق آپﷺ کی زبان سے سنا اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور اپنا نام عبدالکعبہ سے تبدیل کر کے عبداللہ رکھ دیا۔ حضور پاک ﷺ جب معراج تشریف لے گئے تو کفار چھپ چھپ کر ہنستے تھے۔ اس موقع پر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے حیرت انگیز قوت ایمانی کا مظاہرہ کیا۔ نبی پاک ﷺ نے مکہ والوں سے فرمایا کہ رات میں نے بیت المقدس کا سفر کیا، مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی اور پھر سیر آسمان کو گئے۔

مشرکین مکہ نے آپ کا مذاق اڑایا، مکہ سے شام تک ایک ماہ کا سفرہے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد (ﷺ) ایک رات میں دو ماہ کا سفر طے کر کے لوٹ آئیں؟ کچھ مسلمان بھی مترد د ہوئے، مگر صدیق اکبر ؓنے ان کو گمراہ ہونے سے بچالیا۔ آپ ؓ نے کہا کہ جو اللہ لمحوں میں آسمان سے جبرائیل ؑ کے زریعہ وحی اُتار دیتا ہے، اس کے لیے کیا دشوار ہے کہ ایک پوری رات میں سرور کاینات ﷺ کو اتنی مسافت طے کرا دیں۔

حق کی بلا تاخیر تصدیق کرنے پرنبی پاک ﷺ نے عبداللہ (ابو بکرؓ) کو صدیق کا لقب عطا فرمایا اور یوں تے کیا عبدالکعبہ سے عبداللہ ؓ اور عبداللہ ؓسے صدیق اکبرؓ کا سفر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰعنہُ نے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے اور آپ ؓ سے سچی محبت کی توفیق عطا فرمائیں۔(آمین)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com