عالمی یومِ محبت - (ویلنٹائن ڈے) ڈاکٹر میمونہ حمزہ

فروری کا مہینہ شروع ہو چکا تھا، جہاں خزاں رسیدہ شاخوں میں زندگی کی رمق نظر آنے لگی تھی، وہاں انسانوں کے پیرہن بھی تبدیل ہو رہے تھے، ایک بڑی سی علمی درسگاہ کے مختلف گوشوں میں چند روز بعد ہونے والے ’’عالمی یوم ِ محبت‘‘ کو بھر پور طریقے سے منانے کے پروگرام بن رہے تھے۔

یہ ایسا پروگرام نہ تھا جس کے لئے ادارے سے باقاعدہ اجازت لی جاتی، بلکہ اعلی اتھارٹیز کو اس کی بھنک نہ ہی پہنچے تو اچھا ہے، ورنہ کئی فرسودہ خیالات کے حامل اساتذہ اور ذمہ داران خواہ مخواہ ہر رنگین محفل کے رنگ جمنے سے پہلے ہی رنگ میں بھنگ ڈال دیتے ہیں۔

اور یہ بھی کیا حسین اتفاق تھا کہ اس مرتبہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ایسے دن آیا تھا جب ادارے میں طلبا کا ’’کلرڈ ڈے‘‘ تھا، یعنی آپ یونیفارم سے ہٹ کر کسی بھی رنگ کا لباس پہن سکتے ہیں، لہذا کلر ڈ ڈے سے مراد ایک ہی کلر تھا، پروگرام کے حسب ِ حال ’’سرخ رنگ‘‘، اس لئے وہی ڈریس کوڈ ٹھہرا، کیک ، چاکلیٹ، دل کی شکل کے غبارے اور پھول! چودہ فروری کو تمام پرجوش طلبا تعلیمی ادارے کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو انہیں اندازہ ہوا کہ آج کئی دقیانوسی ہم جماعت غیر حاضر تھے۔

اور کچھ اہم کلاسز کے سبب وہاں ہوتے ہوئے بھی ان سب پروگراموںسے لا تعلق تھے، شوخ و شنگ لڑکیوں کی غالب اکثریت سرخ لباس میں ملبوس تھی، سرخ آنچل کندھوں پر لہرا رہے تھے، سرخ بیگ اور جیولری بھی! لڑکے سرخ ٹائی لگا کر خود کو ’’رسم ِاظہارِ محبت‘‘ کے زندہ کردار ثابت کر رہے تھے، کلاس میں داخل ہونے والے اساتذہ انہیں قدرے حیرت سے تک رہے تھے، چندطلبا یونیفارم میں اور باقی ’’سرخے‘‘ بنے ہوئے ۔

جدیدیت کی سوچ میں ڈھلے اساتذہ نے انہیں دبے لفظوں میں سراہا، تو پختہ عمر اور سنجیدہ طبع پروفیسرز نے ببانگِ دہل ’’سینٹ ویلنٹائن‘‘ کی روح پر لعنت بھیجی،جس نے پاکیزگی کے پیرہن میں مذہبی عبادت گاہ کے تقدس کو بھی ملیا میٹ کیا، اور راہباؤں میں زنا کو رواج دیا۔ لیکچر کا خاطر خواہ اثر ہوا، اورکلاس ختم ہوتے ہی کتنے طلبہ وطالبات نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے سرخ پھول مسل کر کوڑادان میں پھینک دیے، کچھ نے ذہنی طور پر قائل ہونے کے باوجود توبہ کو آئندہ سال کے لئے مؤخر کر دیا۔

اور جن کے سر پر شیطانیت سوار تھی، انہوں نے ببانگِ دہل استاد صاحب کو بوڑھی روح اور دقیانوسی سوچ کا نمائند قرار دیا اور پاؤں مار کر اور کندھے جھٹک کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ (کس کی جرأت تھی کہ ان کے راستے میں حائل ہوتا۔) جو نوجوان اس مشغلے میں شریک نہ ہوئے انہوں نے گھروں کی راہ لی۔

یہ بھی پڑھیں:   تلاشِ منزل- عمر بن عبد العزیز

اگلے چند گھنٹے اظہارِ محبت کا شیطان تعلیمی درس گاہ کے در و دیوار پر کھلا ناچ ناچتا رہا، بیباک زبانیں ’’آئی لو یو‘‘، ’’یو آر مائی ویلنٹائن‘‘ کی مالا جپتی رہیں، تحائف دیے اور وصول کئے گئے، چاکلیٹس کھائی گئیں، کیک کاٹے گئے، کھائے اور ایک دوسرے کے منہ پر ملے گئے، کتنے چہروں کی لالی میں اضافہ ہوا، کتنی آنکھوں میں شرارے چمکے، کہیں حسد کے کہیں غیظ وغضب کے ۔۔ کہیں حیا کا قتل ہوا کہیں پاکیزہ نگاہوں کا! اور پھر آہستہ آہستہ اس ہاؤ ہو اور شور و شغب کی گھڑیاں اختتام پزیر ہوئیں، لائبریری سے چند سہیلیاں باہر نکلیں، وہ بھی اسی زمانے سے تعلق رکھتی تھیں مگر انہوں نے اپنی سوچ کو شیطان کے پاس رہن نہ رکھا تھا۔

جو خود کو برضا و رغبت اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی شریعت کے تابع کر چکی تھیں، وہ نہ اللہ کی باغی تھیں نہ اپنے والدین اور خاندان کی، اس درس گاہ میں انہیں تعلیم حاصل کرنے بھیجا گیا تھا، اور وہ اسی مقصد کے حاصل کرنے میں یکسو تھیں۔ آج بھی انہوں نے ان گھڑیوں کا بہترین استعمال کیا تھا، کئی مشکل ٹاپکس مل کر سمجھ لئے تھے، جب تک شیطانی گروہ سرگرم ِ عمل رہا، وہ ان سب سے الگ اپنے کام میں مگن رہیں، اور اب مطلع صاف ہونے کے بعد انہوں نے اپنی کتابیں سمیٹیں، اور لائبریری سے باہر آگئیں۔ انہیں گھروں کو جانا تھا، انکے چہروں پر اطمینان تھا، وہ بھی اسی زمانے کی لڑکیاں تھیں، مگر ان میں کچھ خاص تھا، وہ پیکرِ حیا تھیں، انکے چہرے پر حیا کی سرخی تھی، اورروشنی کا اک ہالہ انہیں ڈھانپے ہوئے تھا، مین گیٹ کا چوکیدار جو ذو معنی جملے بولتے جوانوں کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا تھا، انہیں دیکھتے ہی راستہ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا۔

۱۴ فروری کا سورج غروب ہوتے ہوئے سارے افق پر لالی بکھیر رہا تھا، وہ مغربی ملکوں میں ہونے والے کتنے ہی ایسے واقعات کا شاہد تھا،ہاں مشرقی روایتوں کے عملدار معاشرے میں آج جو کچھ ہو رہا تھا وہ اس کا گواہ تھا، خاص طور پر اس درس گاہ کا۔ یہاں یہ منظر پہلے تو کبھی نہ دیکھا گیا تھا،جہاں ادارے کے ذمہ داروں نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں، مگر ایک تاریخ رقم ہو گئی تھی۔ جب نوجوان نسل نے اپنی باگیں شیطان کے مریدوں کے حوالے کر دی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بسنت کی حقیقت (قسط نمبر ۱) محمد برھان الحق جلالی

دن کو ہونے والے ’’رسم ِ اظہارِمحبت‘‘ نے دلوں کو اطمینان بخشا تھا یا بے اطمینانی بڑھا دی تھی، شیطان اپنے مرکز میں انسانوں کی اس گمراہی پر خوب مزے لے رہا تھا، جہاں اظہار ِ محبت کے نام پر محبت کو ذبح کر دیا گیا تھا، دولت مند لڑکیوں کی جانب بڑھنے والے پھول انکی امیری پر قربان ہو رہے تھے، کسی کے باپ کا عہدہ اس کی قبولیت کا باعث بنا تھا، اور کسی کا ملکوں ملکوں پھیلا کاروبار، کسی نے حسن کو سلام کیا تھا تو کسی نے لیاقت کو، رہی محبت۔۔ تو وہ محض ڈھکوسلا تھا قریب ہونے کا۔ اور کتنے ہاتھوں نے گل پاشی کرتے ہوئے محض اپنے دل کو عارضی سا دھوکا دیا تھا، نہ وہ مستقل محبت کے قائل تھے نہ مستقل تعلق کے، انکی ہر سال کی ’’ویلنٹائن‘‘ بھی تبدیل ہوتی تھی۔

اظہارِ محبت پر قائل لڑکیاں آج بھی پہل کرنے میں کچھ گریزاں تھیں، وہ دوسری جانب سے پہل کی منتظر رہیں، اور پھر یوں ہوا کہ ہما کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب فارس نے اسے چھوڑ کر پلوشہ کی جانب سرخ پھول بڑھا دیا، اور فارحہ کو فیصل نے ’’مائی لائف‘‘ کہ دیا، حالانکہ اسے حاطب زیادہ پسند تھا، اور حوریہ بڑی بولڈ نکلی، اس نے قیمتی تحفہ امین کو پیش کیا، تو اس نے پھیکی مسکرا ہٹ سے قبول کرلیا، (محبت اسے تھی یا نہیں اتنا قیمتی تحفہ رد نہیں کیا جا سکتا تھا)۔

کتنی عجیب بات ہے کہ جزبات کی عکاسی کے لئے دل کے سلوگن والے تحائف، اور سرخ پھولوں کے بے دریغ استعمال کے باوجود چودہ فروری کو سب سے زیادہ بے قدری بھی ’’دل‘‘ ہی کی ہوئی، بڑی بے رحمی سے دل توڑے گئے، دل کے ارمانوں کا خون ہوا، اور سب سے بڑھ کر دل ہی بے چین، اور اداس ہوئے، کئی دل کینے سے بھر گئے، اور کئی دل حسد کی آگ میں جل اٹھے۔ اگلے کئی مہینوں تک نہ ختم ہونے والی لڑائی کی بنیاد اسی دن شروع ہوئی۔

جب آج کے ہابیل و قابیل بھی ’’محبت‘‘ کے معاملے میں مصالحت پر تیار ہوئے، نہ اس سے دستبردار ہونے کو ۔اور عالمی یوم ِ محبت پر تعلیمی درس گاہ شیطانیت کا اکھاڑہ بنی تو پھر اس کے درو دیوار پاکیزہ فضا کو تلاش ہی کرتے رہ گئے۔ اور اس دن کے پروگرام میں پیش پیش کتنے ہی دل مستقبل میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے، ’’کاش ہم اس روز وہاں نہ ہوتے، تو اظہار کی پاداش میں یہ خمیازہ بھی نہ بھگتتے‘‘۔