سعید غنی کے آنسو… رؤف کلاسرا

سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کو کراچی میں اپنے سکول کی تقریب میں آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ کر بہت کچھ یاد آیا۔ ان سے بولا نہ گیا‘ لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا‘ وہ صرف اتنا بول پائے: کبھی نہ سوچا تھا کہ اپنے سکول میں ہی وزیر تعلیم بن کر آئوں گا۔ سعید غنی پیپلز پارٹی کے ان گنے چنے لوگوں میں سے ہیں جو چند برس پہلے اس پارٹی کی سیٹ پر سینیٹر بن کر اسلام آباد آئے تو انہیں یہاں لوگ کم ہی جانتے تھے۔ اسلام آباد ایسا شہر ہے جہاں اینٹ اٹھائو تو بڑا حکمران‘ وزیر یا افسر نکلتا ہے لہٰذا یہاں صحافی کم ہی کسی سے متاثر ہوتا ہے۔ یہاں پارلیمنٹ میں ایم این ایز یا سینیٹرز کا وہ رعب یا دبدبہ نہیں ہوتا جو آپ کو ان کے آبائی علاقوں میں نظر آتا ہے‘ لہٰذا اگر آپ کبھی انہیں پارلیمنٹ کی راہداریوں میں گواچے بندے کی طرح دیکھیں تو حیران نہ ہوں۔ اس لیے کہ یہاں نئے سینیٹرز یا پارلیمنٹرینز کے لیے جگہ یا میڈیا میں اہمیت بنانا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ جب تک آپ میں کچھ خاص نہیں ہوتا یا آپ اچھے مقرر نہیں تو آپ نوٹ نہیں ہوں گے۔ صرف اچھا مقرر ہونا کافی نہیں‘ آپ کے اندر کچھ بہادری اور ذہانت کے جراثیم بھی ہوں اور آپ کھڑے ہو کر مخالفوں کو مات دے سکتے ہوں۔ میں نے پارلیمنٹ کی بیس برس کی رپورٹنگ میں دیکھا ہے کہ کیسے چند پارلیمنٹرینز نے بہت جلد ہاؤس کے اندر اور باہر میڈیا میں جگہ بنائی۔ شیخ رشید اور ڈاکٹر شیر افگن جو اگرچہ 1980 ء کی دہائی سے پارلیمنٹ میں موجود تھے‘ لیکن انہوں نے ایک ایک سیٹ پر بھی وہ تقریریں کیں کہ لگتا تھا وہ بڑی بڑی پارٹیوں کے سربراہ ہیں۔

اس طرح چوہدری نثار علی خان ہوں یا اعتزاز احسن ‘ بابر اعوان‘ جاوید ہاشمی ‘ ایاز امیر‘ لیاقت بلوچ‘ فرید پراچہ‘ حافظ حسین احمد‘ خواجہ آصف‘ سعد رفیق‘ ان سب کی تقرریں ہاؤس میں اثر رکھتی تھیں۔ اگر مجھے ان بیس سالوں میں کی گئی درجنوں بہترین تقریروں کی رینکنگ کرنی ہو تو میں ٹاپ پر ایاز امیر اور بابر اعوان کی دو تقریروں کو رکھوں گا‘ کیونکہ وہ جن حالات میں کی گئی تھیں اس کیلئے بڑا حوصلہ اور جگرا چاہیے تھا اور دونوں اس امتحان میں پورے اترے۔ ایاز امیر کی وہ تقریر برسوں یاد رکھی جائے گی اور آنے والی نئی نسلوں میں سے کسی نے اگر ہاؤس کے آرکائیوز میں وہ تقریر پڑھی تو انہیں یقینا فخر ہوگا کہ صدیوں پہلے کبھی ہاؤس میں ایسے ذہین اور بہادر ایم این ایز بھی تھے‘ جب پورا ہاؤس طالبان کے خوف سے دبک کر بیٹھا ہوا تھا‘ اُس وقت ایاز امیر نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اسی طرح بابر اعوان کی وہ تقریر بھی برسوں یاد رکھی جائے گی‘ جب طالبان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور فیصلہ ہوا کہ اب آپریشن ہو گا۔ اس آپریشن کے جواز اور دلائل جو وفاقی وزیر بابر اعوان نے ہاؤس میں جوش اور ہوش کے ساتھ پیش کیے وہ بھی کلاسیک تقریر کہلائے گی۔ کسی زمانے میں محمود اچکزئی کی تقریریں بھی لہو گرمایا کرتی تھیں‘ پھر وہ بھی اقتدار کو پیارے ہوگئے اور ایک دن اس ہاؤس نے وہ منظر بھی دیکھا جب خواجہ آصف اور اچکزئی جیسے بڑے مقرر نوجوان مراد سعید کے ہاتھوں خود کو اَن کمفرٹ محسوس کررہے تھے۔ جب آپ اخلاقی جواز کھو بیٹھیں تو پھر فواد چوہدری اور مراد سعید جیسے نوجوانوں کے سامنے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔

جبکہ سینیٹ میں ثنااللہ بلوچ‘ رضا ربانی‘ فرحت اللہ بابر‘ طاہر مشہدی‘ شیری رحمن‘ صغریٰ امام جیسے سینیٹرز نے اچھی تقریریں کیں۔اب عثمان کاکڑ بھی متاثر کرتے ہیں۔ مارھاڑ والی تقریروں میں فواد چوہدری اورمشاہد اللہ خان کا کوئی جوڑ نہیں ان کے بعد عابد شیر علی۔
2003 ء میں جب نئے سینیٹرز منتخب ہوئے اورایک دن ایک سینیٹر کی دھواں دھار تقریر سنی تو میں نے پریس گیلری میں ارشد شریف کو کہا :یار یہ بندہ تو کام کا لگتا ہے۔ وہ سینیٹر کہہ رہے تھے کہ جب وہ کراچی سے کونسلر بنے تھے تو انہیں ایوب خان کو ووٹ ڈالنے کے لیے پانچ ہزار روپے کی پیشکش کی گئی تھی‘ لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔ میں نے کہا :ارشد یہ سینیٹر تو ابھی سے فائر ورک کررہا ہے‘ اس سے دوستی ہونی چاہیے۔ آنے والوں برسوں میں ہمیں اپنی چوائس پر کبھی پچھتاوا نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے ہاؤس کے اندر اور کمیٹیوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ انور بیگ کو پیپلز پارٹی بھی اسی لیے چھوڑنی پڑ گئی کہ وہ زرداری کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ ایک دن وہ زرداری کے پاس ایک پلان لے کر پہنچ گئے کہ کیسے وہ بھٹو کے نقش ِقدم پر چلتے ہوئے عرب ملکوں سے مین پاور ایکسپورٹس کے کنڑیکٹ لیں اور لاکھوں پاکستانیوں کو بیرون ملک بھجوائیں‘ جس سے ڈالرز پاکستان آئیں گے اور پارٹی کا مستقل ووٹ بینک بھی بنے گا۔

زرداری نے انہیں پارٹی سے ہی نکال دیا۔ وہ نواز شریف کی پارٹی میں شامل ہوئے تو یہی پلان لے کر ان کے پاس گئے تو انہوں نے انہیں چیئرمین بینظیر سپورٹ پروگرام سے ہٹا دیا۔ ایک دن مجھ سے پوچھنے لگے: RK میں نے کیا غلط مشورہ دیا تھا کہ ایک نے پارٹی تو دوسرے نے چیئرمین شپ سے ہٹا دیا؟ میں نے کہا: بھولی سرکارآپ کو چاہیے تھا‘ دونوں کو بتاتے کہ سر جی ایک پراکسی کمپنی بناتے ہیں‘آپ کنڑیکٹ لے کر دیں‘ میں وہ کمپنی چلاتا ہوں‘ جو بندہ باہر جائے گا اس میں سے پچاس ہزارفی بندہ آپ کے غیرملکی اکاؤنٹ میں جائے گا‘ تو انہوں نے فورا ًوزیر بنا دینا تھا ۔جیسے شریفوں نے قطر ڈیل میں اہم کردار ادا کرنے والے شاہد خاقان عباسی کو اپنے بعد وزیراعظم بنا دیا کہ ڈیل پر کام پکا رہے۔ بیگ صاحب ہکا بکا رہ گئے تھے۔ ہنس کر مذاقاً بولے: یار پہلے مشورہ دیتے۔ خیر بڑے عرصے بعد سینیٹ میں ایک اور سینیٹر نمودار ہوا جس نے اپنی سادہ شخصیت اور باتوں سے پریس گیلری کو متاثر کرنا شروع کیا۔ ان کے دلائل اور متاثر کن تقریروں نے سب کو انہیں سنجیدگی سے لینے پر مجبور کر دیا۔ وہ سعید غنی تھے۔ سادہ مزاج بندہ‘ لیکن دلائل کا انبار۔ ٹی وی شوز میں بھی ناقدین کے دانت کھٹے کرنے شروع کیے۔ ان کا بڑا ہتھیارتھا سکون بھرا انداز۔ بغیر کوئی لڑائی جھگڑا کیے انہوں نے پارٹی کا دفاع شروع کیا۔ کمیٹی اجلاسوں میں بھی ان کی پرفارمنس نے متاثر کیا۔

پھر ایک دن انہیں کراچی لے جایا گیا کہ وہ اب سندھ حکومت کا دفاع کریں گے۔ وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے اس وقت بھی کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو تو اچھا ترجمان مل جائے گا‘ لیکن ان کے ساتھ جڑا ہمارا رومانس اس طرح مر جائے گا جیسے خواجہ آصف‘ اچکزائی اور دیگر کے ساتھ مر گیا تھا۔ وہی ہوا۔ سینیٹ میں بحث اور باتیں کچھ اور ہوتی تھیں‘ لیکن سندھ حکومت کی ضروریات مختلف تھیں اور پھر سعید غنی بھی اسی رنگ میں رنگتے گئے اور ہم ایک اوراچھا سمجھدار سیاستدان پاور پالیٹکس کے ہاتھوں ضائع کر بیٹھے۔ سعید غنی کی مجبوری تھی کہ پارٹی میں انور بیگ جیسے انجام سے بچنا ہے تو پھر وہی کرنا ہوگا جو روم میں کیا جاتا ہے۔ یوں دھیرے دھیرے ان سے بھی رابطے ختم ہوگئے۔
اب جب انہیں سکول میں آنسو بہاتے دیکھا تو یاد آیا کہ ان کے اندر ابھی وہی حساس بچہ زندہ ہے جس نے اپنی ذہانت اور تقریروں سے اسلام آباد کے میڈیا اور پاور سرکلز کو متاثر کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے زیادتی کی کہ اپنی نااہلی اور کرپشن کا دفاع کرانے کیلئے سعید غنی کو کراچی لے گئے۔ ہوسکتا ہے پیپلز پارٹی کو ان سے بہت فائدہ ہوا ہو‘ لیکن اگر مجھ سے پوچھیں تو سعید غنی بہت کچھ کھو بیٹھے‘ کیونکہ پارٹی قیادت کی کرپشن کا دفاع کیے بغیر آپ سیاست میں زندہ نہیں رہ سکتے۔

سعید غنی کو سکول میں آنسو بہاتے دیکھ کر یاد آیا‘ کئی دفعہ جب لیہ اپنے کوٹ سلطان سکول کے قریب سے گزرا تو وہی حالت ہوئی جو سعید غنی کی ہورہی تھی۔ کئی دفعہ گائوں سے اسلام آباد واپسی پر لمبا راستہ طے کر کے لیہ سے کروڑ کا روڈ لیا تاکہ کروڑ اپنے ہائی سکول کی دیواروں کے قریب سے گزرتا جائوں۔وہی پرانے کلاس فیلوز‘ سکول کی اسمبلی‘ استادوں کے ہاتھوں پٹائی‘ بریک میں دوستوں کے ساتھ شوخیاں‘ سکول کے باہر بابے کے چاول چھولے۔ہر دفعہ اپنے بچوں کو بتاتا: دیکھو یہ وہ سکول ہے جہاں میں کبھی پڑھتا تھا۔ ایک آدھ دفعہ تو انہوں نے شوق سے دیکھا ‘لیکن جب ہر دفعہ گائوں جاتے یا واپسی پر وہی ایک بات دہراتا تو وہ کچھ بیزاری سے کہتے: جی بابا آپ نے پہلے بھی بتایا تھا۔میں خاموش ہوجاتا۔ بچوں کو کیا بتاتا کہ ہر دفعہ پرانے راستوں اور بوڑھی پگڈنڈیوں سے گزرنا مجھے کتنا اچھا لگتا ہے۔ سکول کی دیواروں کے اندر اپنا کیا کچھ دفن ہے۔ ماضی ہے‘یادیں دفن ہیں جو ایک وزیر تک کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔