مولائے روم رحمہ اللہ(آخری قسط) - محمد برھان الحق جلالی

مولانا رومؒ کے مسلک میں دل آزاری گناہِ عظیم تھی۔ اگر کوئی چیونٹی بھی آپ کے پیروں کے نیچے آ کر کچلی جاتی تو مولانا کو بہت دکھ ہوتا۔ اکثر اوقات لوگوں کا دل رکھنے کے لئے بڑے سے بڑا نقصان برداشت کر لیتے۔ ایک مرتبہ مولانا رومؒ بازار سے گزر رہے تھے۔

لوگوں نے آپ کو آتا ٖدیکھا تو اپنی اپنی دکانوں پر احتراماً کھڑے ہو گئے۔ جب کچھ لڑکوں کی آپ پر نظر پڑی تو وہ بھاگتے ہوئے آئے اور مولانا کے ہاتھوں کو بوسہ دینے لگے۔ مولانا بچوں کو خوش کرنے کے لئے جواباً ان کے ہاتھ چوم لیتے۔ ایک لڑکا کسی کام میں مشغول تھا اس نے چلا کر کہا۔ ''مولانا ابھی جائیے گا نہیں میں ذرا کام سے فارغ ہو جاؤں۔'' مولانا نے اس کی آواز سنی اورمسکرانے لگے۔ پھر آپ بہت دیر تک اس لڑکے کے انتظار میں کھڑے رہے جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو اس نے مولانا کے ہاتھوں کو بوسہ دیا تب آپ تشریف لے گئے۔

اسی طرح ایک دن بھرے بازار میں دو آدمی لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کو فحش گالیاں دے رہے تھے ان میں سے ایک کہہ رہا تھا۔ ''او شیطان! اگر تو ایک کہے گا تو دس سنے گا۔ مولانا رومؒ اس طرف سے گزر رہے تھے آپ اس شخص کے قریب آ گئے اور فرمایا۔ ''بھائی تمہیں جو کچھ کہنا ہے مجھے کہہ ڈالو۔ اگر تم ہزار کہو گے تو جواب میں ایک بھی نہ سنو گے۔'' مولانا کے حسنِ کلام نے دونوں کو شرمندہ کر دیا یہاں تک کہ وہ باہمی رنجش کو ختم کر کے آپس میں دوست ہو گئے۔

یہ تھے مولانا جلال الدین رومیؒ جو نصف صدی تک بے شمار بندگانِ خدا کا روحانی علاج کرتے رہے مگر یہ قدرت کا ایک عجیب نظام ہے کہ وقت معلوم پر بیماروں کی طرح مسیحا کو بھی دنیا سے رخصت ہونا پڑتا ہے۔ اور اب وہی سنگین وقت نزدیک آ پہنچا تھا۔ یہ670ھ کا واقعہ ہے۔ ایک دن قونیہ میں زبردست زلزلہ آیا۔ لوگ خوف و دہشت سے چیخنے لگے پھر مسلسل چار دن تک زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے جاتے رہے۔ شہر میں ایک قیامت سی برپا تھی۔

قونیہ کے کسی باشندے کو اپنی زندگی کا بھروسہ نہیں تھا کہ کب زمین میں شگاف پڑے اور وہ اپنے سازو سامان کے ساتھ ملکِ عدم روانہ ہو جائے۔ اس مسلسل اذیت ناک صورتحال سے گھبرا کر اہل شہر مولانا رومؒ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے اور آپ سے دعا کی درخواست کرنے لگے۔

مولانا رومؒ نے حسبِ عادت دلنواز تبسم کے ساتھ فرمایا۔ ''زمین بھوکی ہے، لقمہ تر چاہتی ہے۔ ان شاء اللہ اسے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہو گی۔'' پھر لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ''کوئی شخص ہراساں نہ ہو۔ جس پر گزرنا ہے، گزر جائے گی۔'' انسانی ہجوم مطمئن ہو کر اپنے گھروں کو چلا گیا۔ مولانا کے اس ارشاد کے بعد ہی زلزلہ تھم گیا تھا۔ شہر قونیہ کی گم شدہ رونق لوٹ آئی تھی۔۔۔ مگر دوسریدن ایک خبر نے لوگوں سے یہ ساری خوشیاں چھین لیں۔

مولانا رومؒ اچانک شدید بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔ پورا شہر عیادت کے لئے امڈ آیا۔ بہترین طبیبوں نے علاج کیا لیکن مرض لحظہ بہ لحظہ بڑھتا گیا۔ مریدوں اور خادموں نے رو رو کر کہا۔ ''آپ کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں نے صحت پائی ہے۔ آج آپ ہماری خاطر اپنی صحت کے لئے دعا فرما دیجئے۔'' مولانا نے عقیدت مندوں کی گفتگو سن کر دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ حاضرین سمجھ گئے کہ وقتِ آخر قریب آ پہنچا ہے۔۔۔ اور پھر ایسا ہی ہوا، دوسرے دن غروبِ آفتاب سے ذرا پہلے مولانا رومؒ اپنے خدا کی وحدانیت اور خاتم النبیینﷺ کی رسالت پر گواہی دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔

اگرعلامہ اقبال کے کلام پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ کلامِ اقبال ؒنے بلاشبہ دلوںمیں مطالعہ رومی کی چنگاری سلگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب اقبالؒ جیسی بلند پایہ شخصیت نے رومی کو اپنا مرشد قرار دیا تو برصغیر کے خاص و عام رومی کی جانب متوجہ ہوئے۔ انھوں نے بار بار کہا کہ رومی کا پیغام آج بھی فکر و عمل کی نئی راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور آج بھی دنیا کے ظلمت کدوں کو فکرِ رومی کے چراغوں سے منور کیا جاسکتا ہے۔

شاعرِ مشرق نے کہا تھا کہ ’’اگر تیرا کوئی مرشد نہیں تو مثنوی مولانا روم کو اپنا مرشد بنالے۔ ب بھی بات ہو اقبال کے کلام یا ان کے مرشد مولانا جلال الدین رومی رح کی تو کلام کو بھی خود پر ناز ہونے لگتا ہے، جذب و جنوں، شوق آرزو، سوزو سازسے نکلا مستی اور سر مستی کا تال میل جس قدر عشق کے سروں میں ڈھال کر ایک نغمہء جاں فزا بنا دیا گیا اسی کے مضراب نے مزید کتنے ہی دلوں کو ایک نئی جستجو سے ہم آھنگ کر دیا۔

عشق کی گرمی سے ہے معرکہء کائنات

علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات

رومی جانتا ہے کہ مغز کیا ہے اور چھلکا کیا ہے‘‘ اور جب اقبالؒ کے ایسے شعر نظر سے گزرے کہ

علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن

اُسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں

اور پھر کہا:

پیرِ رومی خاک را اکسیر کرد

از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد

رومی آں عشق و محبت رادلیل

تشنہ کاماں راکلامش سلسبیل

اقبالؒ مشورہ دیتے ہیں کہ پیر رومی کو اپنا رفیقِ راہ بناو?، اس طرح تمھارا دل انشاء ا? سوز و گداز کی لطف انگیزیوں سے شادکام ہوجائے گا:

پیرِ رومی را رفیق راہ ساز

تاخدا بخشد تراسوز و گداز

اقبالؒ کا کہنا ہے کہ رومی مرشدِ روشن بھی ہے اور عشق و مستی کے کارواں کا امیر بھی:

پیرِ رومی مرشدِروشن ضمیر

کاروان، عشق و مستی را امیر

’’رومی کا کلام وہ شراب ہے جو ایک ہرن کو شیر کا دل عطا کرتی ہے اور چیتے کی پُشت سے دھبے دھو ڈالتی ہے، میں نے رومی کی تڑپ اور سوزِ عشق سے بہت کچھ حاصل کیا۔ان کے ستارے سے میری رات دن کی طرح روشن ہے۔ رومی کے افکار چند اور ستاروں کے ہمنشین ہیں ان کی نگاہ لا مکاں تک دیکھتی ہے۔ ان کا فقر ایسا فقر ہے جس سے امیری بھی حسد کرتی ہے‘‘۔

اقبال نے مولانا روم کو اپنا مرشد معنوی تسلیم کرلیا اور انھی کے زیر اثر فلسفہ خودی کو تشکیل دے کر اپنے در کے مسلمانوں کو تکمیل خودی کی دعوت دے کر بیدار کیا۔اور انھیں غلامی سے نجات کے لیے آزاد وطن کے حصول اور روشں مستقبل کے عزائم پر گامزن کردیا۔غرضیکہ جس رومی کی علمی، فکری، عملی عظمت کو تسلیم کرکے اقبال نے اسے اپنا پیرومرشد رہنما تسلیم کیا مناسب لگتاہے کہ اس عظیم بے مثال ہستی کے بارے میں کچھ مزید ذکر اذکار کیا جائے۔

مولانا روم نے ساتویں صدی کے تصوف کے ماحول میں آنکھ کھولی۔ سلوک کی منازل طے کیں۔ مشہور مشائخ کی صحبتوں میں شریک ہوئے۔ اُن میں سے ظاہری و باطنی فیوض حاصل کیے اور آخر میں مسندِ ارشاد و تقین کو مجتہد انہ زینت عطا کی۔ امامِ فن اور مرشد کلام کی صورت میں مریدوں کی تربیت کی اور مولویہ، جلالیہ صوفیانہ سلسلہ کی بنیاد ڈالی۔مولانا کی فنی خوبیوں پر اجمالاًنظر ڈالتے ہیں۔ مولانا کی تعلیم وتربیت ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں علوم ظاہری اور معارفِ باطنی ہر دو موجود تھے۔

وہ دونوں سے فیض یاب ہوئے وہ اپنے عہدکے ممتاز عالم اورکثرت سے ریاضت گزار صوفی تھے۔ شمس تبریز کی صحبت نے احوال کو کشف و وجد کی اصلیت سے آشنا کیا۔ قال سے زیادہ حال کو اہمیت دیتے جس سے زہد و درویشی میں جذب و شوق کی چاشنی پیدا ہوئی۔ عالمانہ عزو تفاخر نے فقر و استغنا کے لیے جگہ خالی کی۔ لفظوں سے زیادہ معانی پر توجہ ہو گئی اور پوست کی بجائے معزز پر توجہ دینے لگیؤ شاعرانہ جوہر جو ان کی فطرت میں مخفی تھا مثنوی میں پوری تابانی سے روشن ہوا۔

مثنوی ایک طرف مروجہ علوم میں مولانا کی مہارت کی شہادت ہے۔ دوسری طرف خانقاہی معارف و مشاہدات کا آئینہ ہے۔ اس میں اپنے زمانے کے عام مزاج کی طرف اشاروں کے علاوہ وقت کی تہذیب و مدنیت کے بارے میں بہت کارآمد و دلکش معلومات ہیں۔

شاعری کے اعتبار سے مثنوی قدرتِ کلام کا اعلیٰ و دلپذیر مرقع ہے جس میں تصنع اور معائب سخن کو چھپانے کی کوشش نہیں بلکہ نسیم بہار کی آمد کی طرح گلستانِ خیالات میں سرورانگریز روانی ہے۔ کہیں کہیں کلام میں ابہام دِقت فہم ہو سکتا ہے تاہم اُن کے بے تکلف اندازِ بیاں، نظر کی گہرائی و شدتِ احساس سے اُن کا کلام اتنی بلندی پر نظر آتا ہے، جہاں اساتذہ کا کلام بھی عام سا لگتا ہے۔ ان کے مصرعے اور اشعار مثالیں و کہاوتیں بن گئے ہیں۔

چنانچہ مجموعی حیثیت سے دنیائے ادب و میں شاہ نامہ، فردوسی، گلستانِ سعدی اور دیوانِ حافظ کی بعد فارسی میں چوتھی مؤثر ترین تصنیف مولانا کی مثنوی ہے اور یہ حددرجہ مسرت کی بات ہے کہ ان چار لازوال کتب میں پانچویں تصنیف علامہ اقبال کا جاوید نامہ قرار دی گئی ہے جو مطالب، معانی، مقاصد اور فنی اوصاف میں کئی ارباب علم و ادب کے نزدیک ان سب سے ارفع ہے۔ بہرکیف کو فارسی میں قرآن کا درجہ دیا گیا ہے۔ مولانا جامی نے کہا ہے:

مثنوی و مولوی و معنوی

ہست قرآن در زبانِ پہلوی

ہمیں چاہئے کہ ہم نیکی کو فروغ دیں اور برائی کا قلع قمع کرتے ہوئے برے رسم و رواج ثقافت ، تہواروں کا ختم کریں۔ تاکہ قیامت والے دن ہم کامیاب لوگوں میں شامل ہوں ا ور سرور دوجہاں۔ امام الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ خدا ہمیں برائی سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین اگر اس تحریر میں کہیں بھی کسی قسم کی کوئی بھی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں معافی کا طلب گار ہوں۔