روپیہ کی کہانی - ُ پروفیسر جمیل چودھری

برصغیر پاک وہند میں روپے کالفظ ہزاروں سال سے استعمال ہورہا ہے۔سنسکرت میں اس کامفہوم چاندی کاسکہ ہے۔آجکل بھارت ،پاکستان،سری لنکا،نیپال،انڈونیشیاء میں کرنسی کایہی نام ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک افغانستان میں بھی کرنسی کانام یہی تھا۔

اب افغانستان نے اپنی کرنسی کانام افغانی رکھا ہے۔کبھی خلیج فارس کی ریاستوں میں بھی سکے کا یہی نام تھا۔بنگلادیش نے بھی کچھ عرصہ پہلے نام تبدیل کرلیاہے۔تقسیم سے پہلے Reserve Bank of Indiaکرنسی شائع کرتاتھا۔پاکستانی علاقوں میں استعمال ہونے والے نوٹوں پر پاکستان کی سٹیمپ لگاکر مخصوص کیاگیاتھا۔تقسیم کے فارمولے کے تحت بھارت نے ہمارے حصے کے کروڑوں نوٹ اوردیگر بہت سے اثاثے روک لئے تھے۔

گاندھی نے اس زیادتی کے خلاف بھوک ہڑتال کردی تھی۔گاندھی چاہتے تھے کہ پاکستان کے حصے کے اثاثے فوراً پاکستان کے حوالے کئے جائیں۔اس صورت حال کودیکھتے ہوئے پاکستانی مالیاتی ماہرین نے جلد ہی سٹیٹ بنک آف پاکستان کے نام سے اپناادارہ کھڑا کرلیاتھا۔ڈاکٹر انور اقبال قریشی اورزاہد حسین اس کام میں پیش پیش تھے۔زاہد حسین ہی کوسب سے پہلے بنک کا گورنر مقرر کیاگیا۔بنک کے افتتاح کے لئے قائد اعظم زیارت سے کراچی آئے تھے۔انکی اس موقع پر کی گئی تقریر بڑی اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس میں مالیاتی نظام سود کے بغیر چلانے کاکہاگیا تھا۔لیکن قائداعظم کے بعد حکمرانوں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔اورہم اب تک سودی نظام سے ہی وابستہ ہیں۔شروع میں ایک ڈالر کے بدلے صرف3.3روپے اداکرنے پڑتے تھے۔ایک دفعہ بھارت کے تجارتی حالات خراب ہوئے تو اسے اپنے روپیہ کی قدر کم کرنی پڑی تو اس نے پاکستان کو بھی سکے کی قدرگھٹانے کاکہا لیکن پاکستان نے صاف انکار کردیا۔تب انڈیا اورپاکستان کے درمیان تجارت بڑے پیمانے پرہوتی تھی۔بھارت کو اس انکار سے کافی نقصان ہواتھا ۔جنگ کوریا نے پاکستان کوبڑا فائدہ پہنچایا تھا۔

شروع میں روپیہ سولہ آنوں پر مشتمل تھا۔ہرآنہ 12پائیوں پرمشتمل تھا۔یکم جنوری1961ء سے پاکستان میں اعشاری نظام قائم ہوا اور ایک روپیہ نئے100پیسوں پر مشتمل تھا۔1994ء تک پاکستان میں پیسے والے سکے بنائے جاتے رہے۔پیسوں کی مقدار میں سکے پہلے پہل صرف1,5,10کی شکل میں تھے۔پھر2پیسے اور25پیسے کے سکے تیار کئے گئے۔1996ء میں پیسوں کی شکل میں سکے بنانے بند کردیئے گئے۔کیونکہ پاکستانی کرنسی کی قدرکم ہونے سے پیسوں کی شکل میں کچھ بھی نہیں آتاتھا۔بچوں کو عیدی کسی زمانے میں پیسوں کی شکل میں ہی ملتی تھی۔ان سے قلفی یاٹافی خریدی جاسکتی تھی۔2013ء میں آکر پیسوں کی شکل میں لین دین قانوناً بندکردیاگیا۔

اورپھر صرف روپیہ کی شکل میں سکے آگئے۔1,2,5اور اب10روپے کی شکل میں آپ سکہ دیکھ رہے ہیں۔جوں جوں پاکستانی کرنسی کی قدرکم ہوتی چلی گئی ۔ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے سکے جوپیسوں کی شکل میں تھے ختم ہوتے چلے گئے۔جب نئے نئے پیسے سکوں میں ڈھلنے شروع ہوئے تھے۔تو ایک پیسے کے لئے ٹیڈی پیسہ کا لفظ زبان زد عام تھا۔سرکاری سکولوں میں فیسیں بھی کسی زمانے میں آنوں اورپیسوں کی شکل میں اداکی جاتی تھیں۔تب ایک روپیہ کی قدرکافی زیادہ تھی۔

یحیٰ خان کے زمانے میں ایک ڈالر4.70روپے کے برابر ہوگیاتھااور جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔تو پاکستان پرعالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے کرنسی کی قدرگھٹانے کامطالبہ کیاگیا۔کیونکہ ہمارا رقبہ وسائل اور جی۔ڈی۔پی کم ہوگئی تھی۔مجھے یاد ہے کہ مئی1972ء میں ایک ڈالر11۔روپے کے برابر ہوگیاتھا۔پاکستانی سکے کی قدر120فیصد کم ہوگئی تھی۔1971ء تک پاکستانی کرنسی نوٹ قیمتی دھات میں بدلے جاسکتے تھے۔لیکن اب یہ سہولت ختم ہوگئی ہے۔1971ء تک ہمارا روپیہ ڈالر سےPeggedتھا۔اب یہ آزاد ہے۔

اسی دہائی میں کئی پاکستانی نوٹ تبدیل کئے گئے۔کیونکہ مشرقی پاکستان کے کرنسی نوٹوں کومغربی پاکستان میں پھیلانے کی کوشش زوروشور سے جاری تھی۔ان دنوں میں کئی فقیروں کی جھگیوں سے بھی نوٹوں کے تھیلے برآمد ہوئے تھے۔کچھ حضرات اپنی رقومات کوتبدیل کرانے کے لئے بنکوں میں خوف کی وجہ سے نہ لائے۔اور اس طرح انکی دولت ضائع ہوگئی۔1982-83ء میں سکے کی قدر38۔فیصد کم ہوئی۔اور2008ء میں آکر ایک ڈالر79روپے کاہوگیا۔

اسکی وجہ بڑا تجارتی خسارہ تھی۔ایک دفعہ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر2۔ارب ڈالرتک بھی آئے لیکن جلد ہی صورت حال بہتر ہوئی۔لیکن یہ بہتری غیرملکی قرض کی وجہ سے آئی تھی۔پھرروپیہ کی قدرگرتی ہی چلی گئی اور26۔جون2019ء کو روپیہ کی قدرریکارڈ کم ہوئی اور161.50روپے کے برابر ایک ڈالر ہوگیاتھا۔اس وقت9.2.2020کو شرح تبادلہ 154.39روپیہ ہے۔کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں سکے کاایک ہی نام چلتا ہے۔جیسے ڈالر امریکہ کے علاوہ اور بھی کئی ملکوں کے سکے کانام ہے۔

ایسے پونڈ کالفظ بھی کئی ممالک میں رائج ہے۔یورپی یونین کے15ممالک ایسے ہیں جہاں نیاسکہ یورو استعمال ہوتا ہے۔ان ممالک نے اپنے اپنے سکوں کے نام استعمال کرنے اب ختم کر دیئے ہیں۔دنیا میں تجارت کے لئے یورو،ڈالر اور پونڈ زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔اب چین اپنے سکے یوآن کوتجارت کے لئے آہستہ آہستہ متعارف کروارہا ہے۔ایشیاء میں اس کے سکے کااستعمال جلد ہی بڑھنے کاامکان ہے۔جوملک برآمدات کے لئے زیادہ اشیاء تیارکریگا ۔

اسکے سکے کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔پاکستان رقبہ اور آبادی کے لہاظ سے توبڑا ہے لیکن اشیاء بہت کم تیار ہوتی ہیں۔اسی لئے سکہ کی قدر بھی کم ہے۔سکے کی قدر اگرزیادہ ہوگی توملک کی اہمیت بھی بڑھتی ہے۔ہمارے سکے کی قدرصرف50ء اور60ء کی دہائیوں میں بہتر تھی۔تب ہم کافی اشیاء پیداکرکے برآمد کرتے تھے۔بعدکی دہائیوں میںروپیہ کی قدر کم ہوتی چلی گئی کیونکہ ہماری پیداوار اوربرآمدات بھی نہیں بڑھیں۔دنیاکے تجارتی لین دین میں اب چینی سکہ یوآن کافی استعمال ہوناشروع ہوگیا ہے۔اب یوآن Top tenسکوں میں شمارہوتا ہے۔

مغرب کے ہیڈ کواٹر لندن میں اب چین کے 8بنک کام کررہے ہیں۔انہی کے ذریعے یوآن کااستعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔جوں جوں ہماری پاکستانی پیداوار اوربرآمدات بڑھیں گی تو پاکستانی سکے کی قدر میں بھی اضافہ ہوتاجائے گا۔ابھی آپ نے3.30روپے برابر ایک ڈالر سے شروع ہونے والی کہانی کاانجام154.39 روپے برابر ایک ڈالر سنی۔پاکستان بننے کے شروع کے 24سال مالیاتی لہاظ سے مستحکم تھے۔اس لئے سکے کی قدر بھی زیادہ تھی۔

ان ابتدائی سالوں میں عوام کومہنگائی بھی محسوس نہ ہوتی تھی۔چند روپوں سے ہم ضروریات زندگی خرید لیتے تھے۔لیکن اب ایک ہزار کانوٹ بھی جلد ہی ٹھکانے لگ جاتا ہے۔کبھی100روپے کا سرخ نوٹ جیب میں رکھنا قابل فخر سمجھا جاتاتھا۔لیکن اب5۔ہزار کانوٹ بھی بہت زیادہ اشیاء اپنے بدلے میں حاصل نہیں کرسکتا۔اصل فائدہ روپیہ کی قدر میں اضافے کاہے۔روپوں کی مقدار کے بڑھنے کافائدہ نہیں ہوتا۔

شروع کے سالوں میں حکومتیں سٹیٹ بنک یادیگرمالیاتی اداروں سے قرض نہیں لیتی تھیں۔لیکن آجکل پرنٹنگ کارپوریشن کی مشینیں بہت تیزی سے نوٹ چھاپتی رہتی ہیں۔جب روپے کی مقدارزیادہ ہوتی ہے تو قدرکم ہوجاتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com