عصری تعلیمی ادارے ، تہذیبِ اسلامی کی قتل گاہیں - علی عمران

عنوان بظاہر بہت دہشت ناک ہے، مگر حقیقت کچھ اس سے مختلف بھی نہیں ہے۔اس بات کو چھوڑئے بھی کہ ہمارے عصری تعلیمی ادارے کن اداروں کی بھینٹ دے کر کھڑے کئے گئے ہیں۔اس بات کو بھی چھوڑئے کہ ان کے قیام کا مقصد کس تہذیب کو فروغ دینا بتایا گیا۔

اس بات سے بھی صرفِ نظر کیجئے، جو لارڈ میکالے کے حوالے سےزبان زد عام ہے۔اس بات کو بھی نظرانداز کیجئیے کہ سرسید مرحوم قوم کو مغرب کے معاشرتی علوم ہی پڑھانے کے قائل تھے اور ان کا سمجھنا یہ تھا کہ مغربی ٹیکنالوجی کی تعلیم سے پہلے ضروری ہے کہ ہم مغربی تہذیب اور معاشرت کو سیکھ لیں اور اختیار کرلیں، تاکہ اس ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرسکیں..نا معلوم کہ یہ کونسی منطق تھی، جس کی بدولت مرحوم کا یہ ماننا تھا۔

ان ساری چیزوں کو چھوڑیے..تاریخ کے اس جبر کو اگر ہم نے کھول لیا، تو بہت سارے حضرات حیران وپریشان رہ جائیں گے..سو ان کو کوہ کھاتے حوالہ کر کے تھوڑا سا آگے بڑھتے ہیں..اور معاملہ کسی نامعلوم فلسفے پر بھی معلق نہیں کرتے، کچھ ذاتی مشاہدوں اور متعلقہ احباب کے بیانات ہمارے اس مدعیٰ کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظم ہماری اسلامی تہذیب کا گلا گھونٹ رہا ہے..اور یہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں، جس کے ثبوت کے لئے لمبے چوڑے بیانات کی ضرورت پڑے۔

ہوا یوں کہ ایک مرتبہ حاجی عبدالوہاب صاحب نے ایبٹ آباد میں بیان کیا اور اس میں یہ فرمایا کہ عصری اداروں میں پڑھنے سے انسان (فکری طور پر) مرتد ہوجاتاہے ..ہمارے تبلیغی حلقے میں یہ بات بڑے اچھنبے سے سنی گئی! یہاں تک کہ خود استادِ محترم مولانا طارق جمیل صاحب نے حاجی صاحب محترم سے جاکر عرض کیا کہ حضرت! یہ بات کچھ زیادہ ہی سخت نہیں ارشاد فرمائی! حاجی صاحب نے فرمایا، "دیکھو منے! مجھے یہ بتاؤ کہ اللہ تعالٰی نے اس دنیا کو کس لئے پیدا فرمایا؟

اسی لئے نا کہ اپنی قدرت، طاقت، عطا اور دہش کے خزانے لٹائے؟" مولانا نے عرض کیا جی ہاں ..تو فرمایا کہ اللہ نے تو دنیا بنائی اسلئے کہ اس کی ذات سے فائدہ اٹھایا جائے اورتمہاری سائنس ، تمہاری بیالوجی، تمہاری کمیسٹری اور تمہاری فزکس کہہ رہی کہ فلاں مخلوق کے یہ فوائد ہیں، فلاں مخلوق کے یہ فوائد ہیں..اللہ کو بھول کر مخلوق میں لگنا ہی تو دہریت ہے!" حاجی صاحب کی بات تو اپنی جگہ ایک حال کا بیانیہ ہوسکتی ہے، مگر کالج اور یونیورسٹی سے گزرنے والا ہر ایک آدمی یہ بات ضرور جان سکتا ہے کہ اس کی زندگی سے خدا کے وجود کی ضرورت گم ہوتی جاتی ہے.ہر چیز کو کاز و ایفیکٹ کی روشنی میں پرکھنے والا بھول جاتا ہے کہ کوئی اور بھی ہستی ہے۔

جو اس کاز و ایفیکٹ کے پورے نظم کو کنٹرول کررہی ہے..اس نظم میں سے گذرنے سے بندہ خدا سے بےنیاز ضرور ہوتا ہے، تاہم باقی دنیا کی ہر چیز کا محتاج بن جاتا ہے۔ ہم جو خود ان سارے مراحل سے گذر چکے ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس نظم سے گذر جانے سے، خدا کی ذات مناطقہ کے خدا سے زیادہ نہیں رہتی، جو کائنات کو پیدا کرکے فارغ ہوگیا...اور اب بس تمہارے اوپر اور تمہاری مادہ کے لئے لگن کے اوپر ہے کہ تم کتنا اور کیسا سٹیٹس اپنے لئے زندگی کا منتخب کرتے ہو.. وہ خدا کہ جس کی شان کل یوم ھو فی شان ہے، جو ہر لمحہ کام میں لگا ہوا، کسی کو اٹھا رہا، کسی کو گرا رہا، کسی کو دے رہا، کسی سے لے رہا، کسی کو مار رہا، کسی کو جِلا رہا۔

کسی کو عزت کے سنگھاسن پر بٹھا رہا اور کسی کو ذلتوں کے ہار پہنا رہا، وہ تو گویا سکرینِ حیات سے بالکل ہی آوٹ کردیا گیا ہے.. ہاں جب ساری امیدیں فیل ہوجائیں اور ساری کوشیشیں لاحاصل ٹھہریں، تو پاکستان کے بےاختیار صدر کی طرح آخری اپیل کے طور پر اس کی طرف بھی دیکھ ہی لیتے ہیں۔ وہ خدا جو محبتوں سے لبریز، قوتوں کا حامل، طاقتوں کا سرچشمہ ـــــــ دل جسکا محل اور مقام ہے، وہ اس منظر نامے میں نہ صرف یہ کہ دِکھتا ہی نہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے فٹ بھی نہیں بیٹھتا.. آخر خدافراموشی کی تہذیب سے جنم لینے والی علمیات اس کے سوا کچھ اور دے بھی سکتی ہیں! خیر! یہ تو کچھ زیادہ ہی اوپر لیول کی بات ہے۔

جس کو ہمارے علامے آج ہاتھ لگانے کو بھی تیار نہیں،نظام تعلیم اور تعلیمات کا باب تو ہمارے ہاتھوں سے کب کا نکل چکا اور اب تو اس کی اصلاح اور دینی فکر کا حامل بنانے کا خیال بھی ایک خیال لگنے لگا ہے، مصیبت مگر یہ ہے کہ جو چیز ہمارے قابو میں تھی اور جس پر کنسنٹریٹ کرکے ہم اس نامناسب نظام تعلیم کے اثرات سے خود بھی بچ سکتے تھے اور پنے بچوں کو بھی بچا سکتے تھے، ہم مگر اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں.بلکہ کچھ اس رفتار سے ان بنیادوں کو بگاڑ رہے کہ شاید کسی نظریاتی قوم کے تصور میں بھی نہ ہوگا کہ یوں بھی ہوگا اور وہ ہے نظام تربیت ...نصاب افراد نے پڑھانے ہوتے ہیں..نصاب چاہے جتنا بھی بدبودار ہو، مگر بیدار مغز اور حمیت ِدینی کا حامل شخص اس کے اندر سے موتیاں نکال کر قوم کےسپوتوں کی تربیت کرسکتاہے ۔

ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح خالص مادی، دہری اور الحادی تعلیمی نصاب کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اسلامی تہذیب کی طرف مثبت ترقی جاری رکھی ہے..یہ سب کچھ ان افراد کی وجہ سے ممکن ہوسکاہے، ان کے دئے ہوئے ماحول کی وجہ سے ممکن ہوسکاہے ...ان کی دی ہوئی تربیت کی وجہ سے ممکن ہوسکاہے ۔ ہمارا مسئلہ یوں ہے کہ وہ ادارے جو اپنے طلبا کو ایک عمدہ ماحول، اخلاقی نظم اور اچھی تربیت فراہم کرکے اس تہذیبی جنگ میں ایک اچھا خاصا بریک تھرو نہ بھی سہی سپیڈ بریکر کا کام تو باسانی دے سکتے تھے، آج مگر یہ خود ہی دوسری طرف پر کھڑے دِکھ رہے اور وہ کچھ خرابیاں جو محض تعلیمی نظم سے آسکتی تھیں۔

ان سے دوچند ان کے اندرونی ماحول کی وجہ سے اگتی جارہیں۔ لاہور کی یونیورسٹی میں طالبہ کو دوپٹہ اوڑھنے پر نکالا جانا ہو، بیکن ہاوس کی لڑکیوں کے حیض والے پیڈز سرعام لٹکانے کی بات ہو، فیصل آباد کی یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی کےسٹوڈنٹ کو محض اس وجہ سے نکالنا ہو کہ اس نے فحاشی کی ایک محفل پر فیس بک پر تنقید کی تھی، یونیورسٹیز کے اندر اسلامیات کے ڈیپارٹمنٹس ختم کرنے کی بات ہو یا کل پرسوں میں ہماری محترم بہن ام الہدیٰ کے ساتھ کینیرڈ کالج میں بدترین اختصاصی سلوک ہو، یہ سب اس تربیت اور ماحول کا اشارہ دیرہے۔ جو ہماری تعلیم گاہیں دے رہی ہیں. اور تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ بگڑتا جارہا۔

یہ چند واقعات محض ٹیسٹرز ہیں..یہ کام شروع دن سے ہورہا ہے..آج تو دو ہزار سترہ ہے ، مگر یہ کوششیں پرانی ہورہی ہیں.. میں پشاور میں سی اے (c.a) کررہا تھا.وہاں پر تبلیغی سرگرمیوں میں جڑنا شروع ہوا اور آہستہ آہستہ دینی رجحان بڑھتا گیا.. بالآخر یہ ہوا کہ کالج میں داڑھی اور شلوار قمیص کیساتھ آنے لگا اور پائنچے بھی اٹھے ہوتے تھے۔ ہماری ایڈمن ایک خاتون تھی..ایکدن انہوں نے مجھے بلایا اور سختی سے ڈانٹا کہ میں ایسا لباس پہن کر نہ آیا کروں..میں نے حیرت سے پوچھا، مگر کیوں؟ انہوں نے بتایا کہ کالج کی ڈیپوٹیشن خراب ہوتی ہے اس سے.! میں چند لڑکیوں کےنازیبا کپڑوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ان کے بارے میں آپ کیا فرماتی ہیں ؟

بڑے رسان سے فرمایا کہ ان سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں.یہ تو ہمارے ماحول کا حصہ ہے . میں نے کہا کہ کالج کی شرائط میں وردی کا ذکر تو تھا نہیں کہ ہم اس کو لازمی پہنیں گے، لہذا اگر کوئی کچھ اور پہنتا ہے، تو مجھے بھی اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق ہونا چاہیئے . وہ غرائی، میں نے کہا نا کہ بس نہیں پہنوگے، تو نہیں پہنوگے۔ وہ تو خیر میں نے دوسرے ذرائع سے گلو خلاصی کرائی، مگر یہ واقعہ ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول دکھانے کے لئے بہت کافی ہے جبکہ یہ آج سے بارہ سال پہلے کی بھی بات ہے، تو موجودہ احوال کا اندازہ کرنا مشکل نہیں. میرا ایک شاگرد عمر خان ہے۔

امریکہ میں پلا بڑھا ہے اور ابھی امریکہ میں ایڈمیشن کرکے آیا ہے، مگر ہمارے ایک سالہ دینی کورس کی وجہ سے رکا ہوا ہے ..کہتا ہے کہ یہ پڑھ کر جاؤنگا. بہت ہی خوبصورت اور کیوٹ سا بچہ ہے، اوپر سے داڑھی اور پگڑی باندھتا ہے۔ مجھے بتانے لگا کہ میں روٹس میں پڑھتا ہوں یہاں اسلام آباد میںــــــ امریکہ میں رہا ہوں..مگر پاکستان میں سنت پر چلنا امریکہ کے مقابلےمیں بہت زیادہ مشکل ہے.کلاس میں ساتھی لڑکے، لڑکیاں ــــــ یہاں تک کہ استاد اتنا تنگ کرتے ہیں کہ جاں کو آجاتے ہیں. ہمارے ایک بہت ہی محترم بتانے لگے کہ میرا آفس عین اس بلڈنگ کے سامنے ہے، جس میں روٹس کا کیمپس واقع ہے..ہ مخرب اخلاق مناظر ہوتے ہیں کہ دل دماغ ہولنے لگتے ہیں ۔

عرض یہ کرنی تھی کہ اس تہذیبی تباہی کو روکنا ہوگا..جن احباب کا اثر ورسوخ ہے، وہ ان اداروں کے ذمہ داران کو سمجھائے، جن کو مالی وسعت حاصل ہے، وہ دینی تعلیمات کے حامل عصری علوم کے ادارے کھول لیں.آج کل اس ترتیب کی بہت زیادہ حاجت ہے۔ اس زمانے میں کہ جب اعلیٰ تعلیم ہی باعزت پیشے کا ایک بنیادی ذریعہ رہ گئی ہے، خواہی نخواہی ـــــ لہذاقوم بچوں کو اس سے محروم بھی نہیں کرسکتی اور ان اداروں کے حوالے کرنے کو دل بھی نہیں کرتا، کہ جہاں پر سب سے پہلے ان کے ایمان اور تہذیب پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔

سو اس دور کا بہترین جہاد کم خرچ پر قوم کے بچوں کو ایسا تعلیمی ماحول مہیا کرنا ہے، جس میں قوم اپنے بچوں کو اس اعتماد کیساتھ بھیج سکیں کہ یہاں پر ان کے بچوں کا دین اور تہذیب محفوظ رہیگی. دو ہزار سترہ کی ایک پوسٹ، دو ہزار بیس میں۔