انوکھی شادی - نسیم غازی فلاحی

آج ایک انوکھی شادی میں شرکت کا موقع ملا۔ اس شادی میں نکاح بھی مجھے پڑھانا تھا۔ دراصل یہ ایک ہدایت یافتہ نوجوان کی شادی تھی، جس نے چند سال قبل قبول حق کیا تھا۔ یوپی کے ایک معروف شہر کا رہنے والا یہ نوجوان اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔

جب اس نے اپنے قبول حق کا تذکرہ اپنے والدین سے کیا تو وہ بہت پریشان ہو گئے۔ بیٹے کو سمجھایا بجھایا اور اسے اس اقدام سے باز رہنے کو کہا۔ مگر جب بیٹے نے استقامت دکھاتے ہوئے اپنے عزم کا اظہار کیا اور والدین نے سمجھ لیا کہ اسے اس کے فیصلے سے ہٹانا ممکن نہیں ہے تو انھوں نے ایک دانش مندانہ فیصلہ کیا۔

اس کے والدین نے سوچا کہ اگر ہم اپنے بیٹے کے فیصلے کی مخالفت کرکے اسے اپنے سے جدا کریں گے تو اس صورت میں وہ خود بھی پریشان رہے گا اور ہم لوگ بھی۔ چنانچہ انھوں نے اپنے بیٹے کو اپنے سے جدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے اپنے پسندیدہ دین پر عمل کرنے کی اجازت دے دی۔

جب اس نوجوان کی شادی کا مسئلہ درپیش ہوا تو اس کے والدین نے اس کے سامنے اپنی برادری کے کئی رشتے پیش کیے لیکن اس نے ان سب کو مسترد کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے کسی مسلم لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ اس کے والدین نے سوچا کہ شاید کسی مسلم لڑکی سے شادی کرنے کی وجہ سے اس نے یہ اقدام کیا ہے اور یہ اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جب اس نوجوان نے اس بات کا سرے سے انکار کردیا تو انھیں اب کسی مسلم لڑکی سے شادی کی فکر ہوئی۔

ایک روز میرے پاس اس نوجوان کے والد کا فون آیا اور انھوں نے اپنے بیٹے کے لیے مناسب مسلم رشتے کی درخواست کی۔ میں اپنے ایک ساتھی محمد جاوید کے ساتھ ان سے ملاقات کے لیے نیز ان کے حالات و ماحول کا جائزہ لینے کے لیے ان کے گھر گیا۔ اس نوجوان سے ملاقات کرکے اور اس کا گھر بار دیکھ کر ہمیں اطمینان قلب ہوگیا۔ پھر ہم نے اس کے لیے مناسب رشتے کی تلاش شروع کردی۔ اللہ کے فضل سے مسلم خاندان کی ایک لڑکی سے رشتہ طے ہو گیا۔

آج وہ مبارک موقع تھا جب اس نوجوان کا نکاح ہونا تھا۔ یہ شادی جنوبی دہلی کے ایک ہوٹل میں رکھی گئی تھی۔ میں اپنے احباب برادر محترم وارث حسین صاحب اور محمد جاوید صاحب کے ہم راہ ہوٹل پہنچ گیا۔ چند منٹ کے بعد ایک بس کے ذریعے بارات بھی پہنچ گئی۔ بارات کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں تقریبا 45 افراد شامل تھے، جن میں اس نوجوان کے علاوہ سب لوگ ہندو تھے۔ مردوں کے علاوہ کچھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ اس مسلم نوجوان نے اپنے بہت سے اعزہ و اقارب کو اس موقع پر شرکت کی دعوت دی تھی اور وہ سب بخوشی اس کے لیے راضی ہو گئے تھے۔

مسلم لڑکی کے گھر والوں نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ سب لوگ بہت خوش تھے۔ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔ خواتین بھی خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ اس نوجوان کے والد والدہ کا بھی یہی حال تھا۔ ہندو مسلم کا یہ اجتماع باہم اس طرح مل جل رہا تھا گویا ایک خاندان کے لوگ ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر وہاں موجود ایک مسلم نوجوان نے مجھ سے کہا کہ دیکھیے باہر کیا ماحول ہے اور یہاں ہوٹل کے اندر کس قدر خوش گوار ماحول ہے۔ کسی نے کہا یہی اصل ہندوستان ہے جو ہوٹل میں نظر آ رہا ہے۔

اب نکاح کا موقع آ گیا۔ اسٹیج پر دولہا، اس کے والد اور بعض دیگر اعزہ بیٹھ گئے۔ میں نے نکاح کا خطبہ پڑھا، مہمانوں کا استقبال کیا۔ پھر اسلامی توحید کی مختصر تشریح کرتے ہوئے اسلام کا تعارف کرایا نیز خطبے میں مذکور قرآنی آیات کی نہایت آسان زبان میں تشریح کی اور بتایا کہ سارے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ پھر دیگر تعلیمات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سبھی لوگوں کے حقوق ادا کرنے اور صلہ رحمی کرنے کی خاص طور سے شادی کے موقع پر قرآن نے نصیحت کی ہے۔

قرآن نے اس موقع پر زبان کے صحیح استعمال کا حکم دیا ہے۔ اسی زبان کے ذریعے نکاح کا یہ رشتہ وجود میں آتا ہے۔ ازدواجی اور گھریلو زندگی میں ناخوش گواری زبان کے غلط استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ زبان کا صحیح استعمال گھر اور سماج کو جنت نما بنا سکتا ہے۔ آخر میں آخرت کی ضرورت اور حقیقی کامیابی کیا ہے اس پر گفتگو کی۔ پھر نکاح کی رسم ادا ہوئی اور خیر و بھلائی کی دعا کی گئی۔ شرکاء مجلس ایک دوسرے کے گلے ملے اور مبارک باد دینے لگے۔

وہاں شریک کئی ہندو بھائیوں نے کہا کہ یہ حسین باتیں پہلی بار سننے کو ملی ہیں جن سے ہم لوگ بہت متاثر ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمارے یہاں آئیں اور وہاں بھی لوگوں کو یہ باتیں بتائیں۔

یہ اپنی تنگ ظرفی ہے کہ ہم خود بھی نہیں اپنے

زمانہ اپنا ہوجاتا اگر آ غوش وا کر تے