ترک صدرکی بات سچ ثابت،مسجد اقصیٰ کے نیچے “تھرڈ ٹیمپل” کی تعمیر شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے مل کر فلسطین کے لیے امن منصوبہ پیش کیا، جسے ڈیل آف دی سنچری کا نام دیا گیا ہے۔ترکی اور پاکستان نے کھل کر اس کی مخالفت کی ہے جبکہ باقی مسلم ممالک خاموش ہیں۔ عرب ممالک نے مسلم امہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اس ڈیل کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب فلسطین نے اسرائیل کو آگاہ کیا ہےکہ وہ اوسلو معاہدے سے نکل کر اسرائیل کے ساتھ مزید کسی معاہدے پر قائم نہیں رہ سکتا۔

الجزیرہ چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں فلسطین کے شہری امور کے وزیر حسین الشیخ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے اوسلو معاہدے سے نکلنے کے بعد فلسطینی انتظامیہ نے اس کے ساتھ معاہدے تحلیل کردیئے ہیں۔ اسرائیل کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ مزید باہمی معاہدوں کی پابند نہیں ہے۔

فلسطین میں عربی زبان میں ایک کلپ جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے نیچے کنسٹرکشن ہوچکی ہے اور اس کے بعد ایک ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ یونیسکو کے مطابق یہاں یہودیوں کی تاریخ کا کوئی بھی حصہ شامل نہیں، جس کے باوجود یہودی کہتے ہیں کہ یہاں ہماری مقدس چیزیں ہیں۔

واجح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی ایک فورم میں تقریر کے دوران ایک یہودی مذہبی رہنما نے کہا کہ آپ “تھرڈ ٹیمپل” کی بات کریں جو ہم نے بنانا ہے جس پر نتیتن یاہونے خاموشی اختیارکی اور کچھ نہیں بولے۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکی صدر نے اپنا ایک سفیر اسرائیلی یہودی مذہبی رہنما کے پاس بھیجا اور کہا کہ بتائیں مسیحا کب آرہا ہے، جس پر یہودی ربی نے کہا کہ کیا آپ نے مسیحا کی آمد کیلئے تیاریاں کی ہیں جو ہم سے پوچھ رہے ہیں۔لہٰذا اب جو ڈیل آف دی سنچری ہوئی ہے وہ اسی تیاریوں کاحصہ ہے۔