جھوٹے ضمیر کا بوجھ - رقیہ اکبر

تف ہے ایسے رشتوں پر۔ چوٹی زیریں کے جوان صدام خان کا آخری وڈیو پیغام جہاں ہر درد مند دل کو رلا گیا وہاں اپنے پیچھے کتنے ہی سوال چھوڑ گیا۔ایک سہاگن کا سہاگ اور ایک معصوم بچے کی چھت اس کے سر سے چھن گئی کچھ بےحس اور خود غرض خونی رشتوں کی وجہ سے۔

کیا چھوٹے بہن بھائیوں کو کما کر کھلانا اس جوان کی ذمہ داری تھی؟ والدین کی بلیک میلنگ اس جوان کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہوتی ہے۔اس کا بار بار یہ کہنا کہ اگر میں پیسے بچا رہا ہوں تو مجھے قبر میں عذاب ملے گا اللہ مجھے جہنم کی آگ میں ڈالے گا کیونکہ اس کی دانست میں وہ چھوٹے بہن بھائیوں کا حق کھائے گا پیسے بچا کر۔ اف۔۔۔کس بدبخت نے اس کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی کہ اس کی حق حلال کی کمائی پر اس کے بہن بھائیوں کا بھی حق ہے؟یہ کوئی وراثت کا حصہ نہیں تھا جو وہ اتنا خوفزدہ تھا اللہ کے قہر و غضب سے۔مانا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ اپنی اولاد کو سکھاو کہ کسی کا حق نہیں مارنا مگر حق کہتے کسے ہیں یہ بھی تو بتاو؟کس نے کہہ دیا کہ اس کی باپ کی ساری اولاد کی ذمہ داری اب اس کے کاندھوں پر بحیثیت فرض عائد کر دی گئی ہے۔
جہنم میں جائیں گے وہ والدین جو پیدا کر کر کے چھوڑ دیتے تھے ۔ارے بدبختو کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو اور جب پیدا کر لیا تو ان کا نان نفقہ پورا کرنا تمہاری اپنی ذمہ داری ہے ناں کے بڑے بھائی کی۔اس کی زمہ داری اپنی بیوی اور بچہ اور صرف ماں باپ تھے ماں باپ کی بقیہ اولاد نہیں۔

ایک تو اس معصوم کو اپنی بیوی اور بچے سے دور کر دیا پھر دہری ذمہ داری ڈالی کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ چھوٹے بہن بھائیوں کے اخراجات بھی پورے کرے جو وہ اپنی جان کو مصائب و مشکلات میں ڈال کر اوکھے سوکھے پوری کرنے میں لگا ہوا تھا مزید اس پر "ضمیر کا جھوٹا بوجھ" بھی ڈال دیا کہ گویا اگر اس نے رقم بچائی تو وہ عذاب الہی کا مستحق ٹھہرے گا۔استغفراللہ۔حالانکہ ناں یہ کوئی وراثت تھی جس پہ وہ کوئی قبضہ کر کے بیٹھا تھا اور ناں ہی بہن بھائیوں کے حصے کی کوئی زمین بیچ کر یہاں تک پہنچا تھا۔ اس کا صرف یہ فرض تھا کہ اپنی بیوی اور بچے کا خرچہ پورا کرے اور اگر کچھ پس انداز کرنے کی پوزیشن میں ہوتا تو حق تھا کہ اپنے لئے یا اپنی بیوی بچے کیلئے کچھ رقم جوڑتا مگر اسے تو الٹا ضمیر کا قیدی ہی بنا دیا۔
جو زندگی اس نے گزاری وہ کس کسمپرسی کی تھی وہ اس کے لباس سے ظاہر ہے مجھے تو یہ دکھ ہی اذیت دے رہا ہے کہ اس نے جو زندگی گزاری وہ صرف غربت کا بوجھ نہیں ضمیر کے بوجھ تلے بھی دبا دیا گیا۔ایسا بوجھ جو اس کے دل پہ ہونا ہی نہیں چاہئیے تھا۔انسان کے کاندھوں پہ ضمیر کا بوجھ ناں ہو تو شاید غربت میں بھی ہنسی خوشی گزر بسر کر سکے وہ مگر یہ ضمیر کابوجھ تو اف اللہ۔

وہ جو روکھی روٹی پہ گزارا کر رہا تھا کبھی اس خوف سے ایک لقمہ بھی اچھے کھانے کا ناں کھایا ہو گا کہ یہ شاید میرے بہن بھائیوں کا حق ہے اور مجھ پر حرام ہو گا یہ ایک نوالہ بھی۔۔گویا زندگی میں بھی دہرا عذاب۔ اور بعد از موت وہ صرف دو لوگوں کی زندگی کو جیتے جی جہنم میں جھونک گیا۔ ایک اپنی بیوہ اور دوسرا اپنا تین سال کا معصوم بیٹا۔سوائے ان دو کے کسی کا کیا بگڑا بھلا؟جو والدین بیٹے کی زندگی اتنی جہنم بنا سکتے ہیں کہ اس نے بھری جوانی میں موت کو گلے لگا لیا سوچیں اس کی بیوہ کا کیا حشر کریں گے؟
انہیں تو بس پیسے سے غرض تھی اور اب بیٹے کی لاش کے بدلے جو دو لاکھ درہم ملیں گے اس کو اکیلے ہڑپ کرنے کیلئے وہ بہو اور پوتے کے وجود کو بھلا کیسے برداشت کرے گا۔ایسے والدین اولاد کو یہی طعنہ دیتے ہیں کہ وہ شاید اپنی بیوی کو چوری چھپے رقم بھجواتے ہیں اور اپنی اولاد کیلئے پس انداز کر رہے ہیں جو کہ وہ کر بھی نہیں رہے ہوتے حالانکہ اصولا کرنا چاہیے۔اب ایسے میں کوئی بہت بہادر اور سمجھدار ہوا تو یقینا اپنے اور اپنے عیال کیلئے ضرور سوچے گا وگرنہ دوسری صورت میں یا بیوی بچوں کو چھوڑ دے گا بےآسرا یا پھر خود جان گنوا بیٹھے گا جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔

بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے مردوں کی اکثریت ایسی ہی اذیت ناک مشکلات سے دو چار ہوتی ہے۔ پیچھے والوں کی ضرورتیں اور خواہشیں پوری کرتے کرتے اپنی جوانی حتی کہ زندگی کو بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔سب کو اپنی ضروریات پوری کرنی کی دھن ہوتی ہے۔ ایک کمانے والا اور دس بیٹھ کر کھانے والے جو سب اسے صرف پیسہ کمانے کی مشین سمجھتے ہیں لیکن اس کمانے والے کے بارے میں تو شاید کوئی سوچتا ہی نہیں۔اس کی کیا ضرورت ہے کیا خواہش، اس طرف کوئی بھی دھیان نہیں دیتا تو پھر یہی انجام ہوتا ہے۔
کہیں اس جوان کی طرح کوئی مرد اپنی جان سے جاتا ہے تو کہیں کوئی بیوی شوہر سے دوری سسرال کی زیادتیوں سے دل برداشتہ ہو نفسیاتی اور جسمانی الجھنوں کا شکار ہو کر جیتے جی برباد ہو جاتی ہے۔صرف والدین کی جھوٹی انا ،خودغرضی اور خوشی کیلئے۔موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کوئی اتنا آسان تو نہیں ہوتا ناں۔
اس سے پہلے کتنی ہی بار اس مظلوم نے اپنے والدین کے سامنے اپنی بےبسی ظاہر کی ہو گی۔کئی بار تڑپ کر رویا ہو گا تو کیا کسی کو بھی اس کے ذہنی دباو اور مایوسی نظر نہیں آئی ہو گی؟ مایوسی جو اس کی بھیگی آنکھوں سے صاف ٹپک رہی تھی بےبسی اور لاچاری جو اس کے چہرے سے عیاں تھی کیا اس کے باپ کو نظر نہیں آئی ہو گی کبھی؟
میں روزی روٹی کے مسئلوں میں الجھ گیا ہوں
میرا مقدر ہی کھا گئے ہیں۔۔۔۔ یہ بانجھ رشتے
وہ میرے خون جگر کو پی کر نکھر گئے ہیں
مجھے تو کھنڈر بنا گئے ہیں یہ بانجھ رشتے