کیا گھبرا جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا - حبیب الرحمن

اس وقت مہنگائی کی جو صورت حال ہے وہ عمران خان کے علم میں یقیناً پہلے روز سے ہی تھی لیکن عوام سے جو وعدے وعید کئے گئے تھے وہ سراسر جھوٹ، مکر اور فریب پر مبنی تھے۔ عمران خان خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ جس سیج کو وہ پھولوں کی سمجھ رہے ہیں ۔

وہ کانٹوں کی ہے اور جن راہوں کا انتخاب انھوں نے کیا ہے اس پر نرم و گداز قالین بچھے ہوئے نہیں بلکہ سنگلاخ چٹانیں اور نوکیلے پتھر بچھے ہوئے ہیں لیکن اقتدار کا نشہ ہوتا ہی ایسا ہے کہ اس کیلئے انسان اتنا پاگل ہوجاتا ہے کہ دین دھرم کا خیال کئے بغیر وہ ہر جائز اور ناجائز راستہ اختیار کرکے تخت سلطنت پر براجمان ہونا چاہتا ہے خواہ اس کے بعد تختہ دار پر ہی کیوں نہ جھولنا پڑ جائے۔

قوم کو عمران خان کا پہلا خطاب کبھی نہیں بھولنا چاہیے جس میں انھوں نے صاف صاف الفاظ میں قوم کو آگاہ کردیا تھا کہ "گھبرانہ نہیں"۔ ان الفاظ کے استعمال سے پہلے جو بات انھوں کہی تھی وہ یقیناً ایسی تھی کہ قوم واقعی نہ گھبرانے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو گئی تھی بلکہ اب بھی ان کے چاہنے والے گھاس پھوس کھانے پر مجبور ہو جانے کے باوجود بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں، وہ یہ تھی کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک سے "بھیک" نہیں مانگیں گے اور اگر ایسی نوبت آئی تو وہ مرجانا پسند کریں گے۔

یہ وہ صورت حال تھی جس کیلئے ان کے مخالفین تک نے کمر ہمت کس لی تھی کیونکہ قوم کا ایک ایک فرد نہ صرف قرض سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا بلکہ اِس کیلئے اپنے پیٹ پر پتھر تک باندھ نے کیلئے تیار تھا۔ ظاہر ہے جب کسی بھی ملک یا عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے کشکول نہیں پھیلایا جائے گا تو ملک کو چلانے کیلئے نہ صرف ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا بلکہ اشیائے ضروریہ کی ہر شے کے دام میں اضافہ کرکے اس کمی کو پورا کیا جائے گا ۔

جو قرض نہ لینے کی وجہ سے پیدا ہو جائے گی۔ قوم کو یہ بھی توقع تھی کہ جہاں حکام بالا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کریں گے وہیں اپنے ذاتی اخراجات، جس میں تنخواہیں اور مراعات بھی شامل ہیں، میں نہ صرف واضح کمی لائیں گے بلکہ سرکاری فضول خرچی کا خاتمہ کرتے ہوئے گورنر ہاؤسز، وزرائے اعلیٰ، صدر اور وزیر اعظم کے زیر استعمال رہائش گاہیں بھی حسب وعدہ تعمیری مصرف میں لاتے ہوئے سادگی کی ایک ایسی اعلیٰ مثال پیش کریں گے کہ وہ پوری دنیا کے لئے ایک روشن مثال بن جائے گی۔ وائے حسرت کہ قوم کے سامنے بلند و بانگ دعوے کرنے والے چٹانوں کی طرح مضبوط عمران خان صاحب ریت کی دیوار بھی ثابت نہ ہو سکے۔

پہلے دنیا بھر میں کشکول گھمایا گیا، پھر سارے حکومتی عہدیداروں کے محل دوبارہ دلہنوں کی طرح سجائے گئے، اپنے ذاتی اخراجات، مراعات اور تنخواہوں میں زبردست اضافہ کیا گیا اور سڑکوں کو شاہوں تو شاہوں، ان کے گماشتوں کیلئے بھی گھنٹوں بند کرکے نہ ختم ہونے والی سرکاری گاڑیوں کے گزارنے کیئے بند کیا جانے لگا اور خود بادشاہ سلامت سرکاری گھر سے اپنے ذاتی محل تک ہیلی کواپٹر سے آنے جانے لگے۔ ان تمام عیاشیوں اور وعدہ خلافیوں کے بعد بھی ٹیکسوں میں ہوشربا اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی ہر شے کی قیمتوں میں آسمانوں کی بلندی تک اضافہ کرنے دینے کے باوجود بھی اپنی ہر تقریر میں عوام کو یہی درس دیا گیا کہ "گھبرانا نہیں"۔

صابر شاکر قوم بھی وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق پیمانہ صبر لبالب بھرجانے کے باوجود بھی اسے چھلکنے سے روکتی رہی لیکن چینی اور اس کے بعد آٹے جیسی چیز کی مہنگائی اور مارکیٹ میں عدم دستیابی کی وجہ سے اس درجہ پریشان ہو گئی کہ ضبط کے سارے بندھن ایک ایک کرکے ٹوٹنے کے قریب جا پہنچے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے خود خان صاحب جو قوم کو "گھبرانہ نہیں" کا درس دیا کرتے تھے سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئے۔ یہ گھبراہٹ اس وقت مزید اختلاج قلب کا باعث بنی جب ان کے علم میں یہ بات آئی کمین گاہوں میں بیٹھ کر ذخیرہ اندوزی کے تیر چلانے والے جتنے بھی چہرے ہیں وہ سارے کے سارے ان کے اپنے دوستوں کے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ "عوام کو ریلیف دینے کے لیے جو بھی کرنا پڑا کریں گے، مہنگائی میں کمی کے لیے ہر حد تک جائیں گے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متعلق اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے آٹا، گھی، چینی، چاول اور دالوں کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایات کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے واضح طور پر ہدایات دیں کہ کچھ بھی کریں عوام کوریلیف دیں،عوامی ریلیف کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے کریں، قیمتوں میں کمی کے لیے ہر حد تک جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم غریب کی بہتری کے لیے ہی حکومت میں آئے ہیں،غریب کا احساس نہیں کر سکتے تو ہمیں حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے"۔

یہ وہ پریشانیاں ہیں جس کا اظہار وزیر اعظم نے جس انداز میں اپنے مصاحبوں، جن میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، جہانگیر ترین، شہباز گل، ثانیہ نشتر، وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی اور چیئرمین یوٹیلیٹی اسٹورز شامل تھے، کے سامنے کیا۔ اس اجلاس کے اندر کی کہانی اس خبر سے کہیں زیادہ مختلف ہے کیونکہ عمران خان کے نزدیک اس ساری صورت حال کے اصل ذمہ دار یہی چند لوگ ہیں جو ملک میں آٹے چینی اور دالوں کے مصنوعی بحران کے اصل ذمہ دار ہیں لیکن جس انداز میں عمران خان نے ان سب کے خلاف کارروائیاں کرنے کی بجائے ہاتھ جوڑنے کے سے انداز میں مہنگائی کم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انھیں حکومت تو دیدی گئی ہے لیکن اقتدار ابھی تک ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔

قوم کو یاد ہوگا کہ چند دن قبل ٹماٹر کا شدید بحران آیا ہوا تھا اور بازار میں ٹماٹر 4 سو روپے کلو تک جا پہنچا تھا۔ گزشتہ کل یہ عام مارکیٹ میں 40 روپے کلو مل رہا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں ٹماٹر کی اچانک بے پناہ کمی اور پھر اچانک بے پناہ اضافہ کیسے ہو گیا؟۔ کون تھے سپلائی روک لینے والے اور کون تھے جنھوں نے ذخیروں کے سارے دروازے کھول ڈالے۔ اسی طرح اب آٹے، چاول، دال اور گھی کے ذخیرہ اندوز کون ہیں اور کون ہیں جو قیمتیں بڑھ جانے کے بعد ذخیروں کے سارے دروازے کھول کر انھیں بازار میں مہنگے داموں فروخت کرنے کیلئے فراہم کرنا شروع ہو جائیں گے؟۔ ایسے سازشی اور ذخیرہ اندوزوں کیلئے سزاؤں کا حکم سنایا جانا چاہیے تھا یا ان کے آگے گھٹنے ٹیک کر گزارش کرنی چاہیے تھی کہ "میں کچھ نہیں جانتا، جس طرح بھی ہو مہربانی کرکے نہ صرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کرو بلکہ ان ساری اشیا کو وافر مقدار میں بازار میں پہنچاؤ"۔

اطلاعات کے مطابق لاکھوں ٹن گندم اور چینی ان ہی مصاحبوں کے گوداموں میں پڑی ہے اور ان کی ملی بھگت سے لاکھوں ٹن آٹا اسمگل کیا جاچکا ہے۔ آٹے کا افغانستان میں اسمگل ہوجانا تو کسی حد تک سمجھ میں اس لئے آتا ہے کہ ہماری اور افغانستان کی زمینی سرحدیں ملی ہوئی ہیں لیکن سمندری راستے سے سری لنکا اور دیگر ممالک میں آٹا اسمگل ہونا ایک ایسی تشویشناک بات ہے جس کا نہ صرف نوٹس لینا ضروری ہے بلکہ اس کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن بنا کر تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہڑے میں لاکر کھڑا کرنا بھی حکومت کے فرائض میں آتا ہے۔ آٹا یا چینی کوئی ایسی چیز نہیں جو افراد کی جیبوں میں بھر کر اسمگل کیا جاسکتا ہو۔ کنٹینرز کے کنٹینر بحری راستوں سے باہر چلے جانا ہنسی مذاق کا کام نہیں۔

عمران خان نے کل جو اجلاس طلب کرکے اور قومی مجرموں کو اپنے سامنے بٹھا کر جس فریادانہ انداز میں احکامات جاری کئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ سپہ سالار نے ان سب کے سامنے اپنی عزت و آبرو گروی رکھ کر یہ اعتراف کر لیا ہے کہ وہ تخت حکومت کی اس کرسی پر ضرور بٹھا دیئے گئے ہیں جو ٹائروں والی ہے، جو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے جہاں چاہے لائی اور لیجائی جاسکتی ہے لیکن جس نے بھی اُنھیں اِس کرسی پر بٹھایا ہے اُس نے اِس کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہی پاس رکھا ہے۔

یہاں تک کے ان کی ٹیم میں جتنے بھی مہرے ہیں وہ سارے مہرے ان کی نہیں، "شاطر" کی مرضی سے چلتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ساری کالی بھیڑوں کو جان لینے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ میں "اپنے اندر کی ساری کالی بھیڑوں کو جانتا ہوں لیکن ان کا نام فی الحال نہیں بتا سکتا"۔

ایک حاکم سب کے مکروہ چہرے پہچانتا بھی ہو لیکن کسی کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لا سکتا ہو تو واقعی اسے اقتدار میں رہنے کا ذرہ برابر بھی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ لگتا ہے کہ اب اپنے بے دست و پا ہونے کا احساس عمران خان کو نہایت شدت سے ہونے لگا ہے اسی لئے انھوں نے اپنے مصاحبوں سے صاف صاف کہہ دیا ہے کی "ہم غریب کی بہتری کے لیے ہی حکومت میں آئے ہیں،غریب کا احساس نہیں کر سکتے تو ہمیں حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے"۔

کاش ان کے مصاحب ان کے اس درد بھرے جملے اور لب و لہجے کی گہرائی کو سمجھ سکیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اقتدار کے ایوانوں کی بنادیں تک ہلا کر رکھ دے اور قوم کا سالار نہایت مایوسی کے عالم میں عین گھمسان کے رن میں اپنی تلوار میدان جنگ میں توڑ ڈالنے اور راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */