میا ں، بیوی - خدیجہ برجیس

میا ں بیوی دونوں انسانی زندگی کے دو پہیوں کی مانند ہیں یہ گاڑی بڑی خوش اسلوبی سے اسی وقت رواں دواں رہتی ہے جبکہ دونوں پہیے اپنی اپنی جگہ درست حالت میں ہوں ۔اسلامی تعلیمات میں بیوی اور شوہر کی باہمی موافقت،موانست اور بہتر تعلقات پر جتنا زور دیا گیا ہے ۔

کسی اور معاملے پر کم ہی دیا گیا ہو گا ۔ کیونکہ یہ صرف ایک گھر کی ایک کنبہ کی مسرت وشادمانی کامسئلہ نہیں ہے بلکہ مستقبل کی کامرانیاں اور مسرتیں بھی اسی سے وابستہ ہیں جب تک میاں بیوں میں موافقت نہیں ہو گی اولاد کی خاطر خواہ تربیت نہیں ہو سکے گی۔ اور دراصل یہی موافقت مغرب کو ہضم نہیں ہوتی اسی لیے اسنے ہمارے میڈیا کو اپنے قبضے میں کر لیا ہے ہماری نوجوان نسل کو خصوصاً اپنا ہدف بنا لیا ہے تاکہ ان بیہودہ ڈراموں کے زریعے ہمارے خاندانی نظام کو تباہ وبرباد کر دے۔ رسولؐ نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت سے کہتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے کہاں یہ پیارا حکم اور کہاں صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے پیسوں کی لالچ میں اپنے شوہر اور اولاد کو چھوڑ کر کسی اور کے مرد کے پاس بغیر نکاح کے رہنا۔

کیا یہ مصنفیں خاندانی نظام کو مضبوط بنانے پر اپنے ڈرامے نہیں بنا سکتے ۔کوئی بھی ڈرامہ دیکھ لیں مقصد ایک ہی ہے کہ خاندانوں کی تباہی، اپنی نسل کو بے راہ روی کے سپرد کرنا اور رشتوں کی پامالی۔ بحثیت ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی ایک التجا ہے کہ اپنے ڈراموں میں مثبت کردار ڈالیں تاکہ یہ معاشرہ خوبصورت نظر آئے منفی رویہ پیش کرنے سے یہ معاشرہ بدبودار اور تعفن زدہ نظر آتا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی ہے اور ہر رشتے سے اعتبار اٹھ جاتا اور یہ معاشرہ تباہ ہونے لگتا ہے۔
اپنے قلم کا حق ادا کریں ہماری نسلوں اور رشتوں کو تباہ وبرباد ہونے سے بچا لیں ان طاغوتی قوتوں کو بتا دیں کہ ہر لکھاری بکنے والا نہیں ہوتا