ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا - آصف محمود

راولپنڈی کے مضافات میں اپنے دوست راجہ فہد کی شادی تھی ۔ لالہ عطا ء اللہ عیسی خیلوی بھی آئے ہوئے تھے ۔ سارا گاؤں انہیں سننے امڈ آیا تھا ۔ہنستی مسکراتی محفل کے بیچ اچانک لالے نے گائوں کو موضوع بنایا اور وجود میں اداسی سی اتر گئی۔تھیں جن کے دم سے رونقیں ، شہروں میں جا بسے ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا۔

کافی وقت گزر گیا ، اس لمحے کی اداسی ابھی تک نہیں گئی۔ کوئی دکھ سا دکھ تھا جس نے گرفت میں لے لیا۔رات گئے واپسی پر میں یہی سوچتا رہا کیا سارا قصور انہی کا ہے جنہوں نے گاؤں کو چھوڑ دیا اور اب ہر موسم کی پہلی بارش میں اداس بیٹھے گاؤں کی مٹی سے اٹھتی سوندھی خوشبو کو یاد کر رہے ہوتے ہیں، جاڑے کی اولین کپکپاہٹ میں بھی جنہیں پیپل کے جھولے یاد آتے ہیں۔ جو تلاش روزگار کے لیے ملک چھوڑ گئے اور اب چاندراتوں میں بیٹھے سوچ رہے ہوتے ہیں ۔

گاؤں کے نیم کے اس درخت کے اوپر چودھویں کا چاند اب کیسا ہو تا ہوگا ، اکیلا ہی آتا ہے یا بادل کی ٹکڑیاں اب بھی اس کے ہمراہ ہوتی ہیں۔کالی گھٹائیں آتی ہیں تو گاؤں میں نہر کی سمت سے سفید کبوتروں کی ٹولی اب بھی بادلوں کو چھونے جاتی ہے یا وہ بھی شہروں کو چلی گئی۔

یہ تو پھر برداشت کر لیتے ہوں گے گاؤں کی ماؤں کا کیا حال ہوتا ہو گا چوکور کی طرح جن کی خوشی ہی ان کا غم بن جاتی ہے، جیسے ہی بچے بڑے ہوتے ہیں شہروں کو چل پڑتے ہیں۔
چکور خوش ہیں کہ بچوں کو آ گیا اڑنا
اداس بھی ہیں کہ دن آ گئے جدائی کے

گاؤں کی یہ ہجرت کب رکے گی؟ یہ ہجرت تاریخ کے جبریا ارتقاء کا نام نہیں یہ ہماری نا اہلی اور بد اعمالی کا تاوان ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم اپنے دیہاتوں کو سنوار نہیں سکے ، وہاں معیشت کے تازہ امکانات کی دنیا آباد نہیں کر سکے ، وہاں بنیادی سہولیات نہیں دے سکے اور دیہی اکانومی کو ہم نے آج تک سنجیدہ نہیں لیا توان چکوروں کا کیا قصور جو اڑنا سیکھتے ہی گھونسلہ چھوڑ دیتے ہیں؟ قصور تو اہل اقتدار کا ہے جنہوں نے گاؤں اور اس سے جڑی معیشت کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا اور پوری ایگرو اکانومی چند سرمایہ داروں کے قدموں میں ان کی سیاسی خدمات کے خراج کے طور پر ڈال دی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب ،قرنطینہ - حسین اصغر

واردات نہیں ، ایک واردات مسلسل ہے۔ فصل تیار ہوتی ہے تو قیمتیں گر جاتی ہیں۔ سرمایہ کار کے گودام بھر جاتے ہیں تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ سرمایہ دار گنا خرید کر بھی کسان پر احسان کرتا ہے۔وزن میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے اور قیمت کی ادائیگی بروقت نہیں ہوتی ۔سرمایہ دار پہلی واردات کسان کے ساتھ کرتا ہے، دوسری عوام کے ساتھ۔ پہلے جنس بیرون ملک بیچ کر مال بناتا ہے پھر اس کا بحران پیدا کر کے بیرون ملک سے خرید کر قومی خزانے کو برباد کر کے وہی چیز مہنگے داموں واپس لائی جاتی ہے۔کسی کی جرأت نہیں اس کارٹل پر ہاتھ ڈالے۔

کوئی سوچنے کو تیار نہیں کہ سرمایہ دار جب سیاسی جماعتوں کے خرچے اور ناز نخرے اٹھاتا ہے تو یہ بے سبب نہیں ہوتا۔ یہ سرمایہ کاری ہوتی ہے۔سرمایہ کاری کا منافع قائد محترم کی بجائے عوام کو ادا کرنا پڑتا ہے۔قلم فروش اور گداگران سخن اس واردات کی تاویلات بیان کرتے ہیں اور گاہے فضائل بھی۔

گاؤں سے جڑی معیشت کو کبھی دیکھیے تو سہی، اس کا حجم کیا ہے۔ زراعت آج بھی آپ کی جی ڈی پی کا 25 فیصد ہے۔آپ کی کل ایکسپورٹ ویلیو کا 70 فیصد۔ 17 ملین لوگ اس سے جڑے ہیں۔( یاد رہے ایک ملین دس لاکھ کا ہوتا ہے)۔ ملک کی لیبر فورس کا 44 فیصد اس سے وابستہ ہے ۔لیکن ہمارا احساس کمتری یہ ہے کہ وطن عزیز میں آج بھی ’’ پینڈو‘‘ کو بطور طعنہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اراکین پارلیمان کا ایک تعارف کچھ سال پہلے پلڈاٹ نے چھاپا دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پوری پارلیمان میں چند ہی لوگ تھے جنہوں نے زراعت کو پیشہ یا شوق لکھا۔ شاید انہیں ڈر تھا انہیں پینڈو نہ سمجھ لیا جائے۔زرعی اکانومی آپ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ حکومت کی ترجیح میں زراعت کہاں ہے؟

عمران خان نے انڈوں کی بات کی تو ان کا مذاق ڑایا گیا ۔ افسوس مگر یہ ہے انہوں نے بھی حسب روایت صرف بات ہی کی۔کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دی گئی۔ہر سال ہم پاکستانی 2250ملین کلوگرام برائلر مرغی اور 18ہزار ملین برائلر انڈے کھا جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نوجوانوں کو خود کش بمبار نہ بنائیں - حبیب الرحمن

کچھ معلوم نہیں ان میں سے کتنے ہزار ملین انڈے چین کے تیار کردہ مصنوعی انڈے ہوتے ہیں۔کھا کھا کر پھر ہم بیمار ہوتے ہیں تو اپنی بچت فارما سوٹیکل کمپنیوں پر لٹا دیتے ہیں لیکن یہ خیال نہیں آتا کہ خالص دیسی مرغی اور دیسی انڈے پیدا کرنے کا کوئی بندوبست کر لیا جائے۔ ایک زرعی ملک اپنے ہی ملک میں اتنی بڑی مارکیٹ کو کیسے اور کیوں نظر انداز کیے بیٹھا ہے؟

گاؤں اور دیہاتوں کو کیا چاہیے ؟بس ذرا سی توجہ۔ یونین کونسل کی سطح پر اچھے تعلیمی ادارے،صحت کی بنیادی سہولیات،اچھی سڑکیں ،گلوبل ولیج سے جڑنے کے لیے معیاری انٹر نیٹ،رورل اکانومی میں تھوڑی سی جدت ، ایک مربوط زرعی پالیسی اور استحصال کاخاتمہ ۔پھر دیکھتے ہیں گاؤں چھوڑ کر شہروں میں کون جاتا ہے۔

گاؤں چھوڑنا کوئی آسان ہوتا ہے کیا؟ ہر ساون میں خشک وجود پر اداسی برستی ہے۔ حکومت کی غفلت اور سرمایہ دار کے کارٹل کے عذاب سے نجات مل جائے توگاؤں کی زندگی تو ایک نعمت ہے۔لوگ گائوں چھوڑ کر شہروں میں آتے ہیں اور جب آسودہ ہوتے ہیں تو ایک بار پھر مضافات میں فارم ہاؤس بنانے نکل پڑتے ہیں۔ پھر مرغیاں پالتے ہیں ، بکریاں رکھتے ہیں اورسبزیاں اگاتے ہیں ۔یہ کیا ہے؟ یہ گاؤں سے محبت ہے جو لہو میں دوڑتی ہے۔

بنیادی سہولیات اور بنیادی معاشی امکانات اگر گاؤں تک پھیلا دیے جائیں تو گائوں سے ہجرت بند ہو جائے ، ہجرتی لوٹنا شروع ہو جائیں ، بڑے شہروں میں بھی کچھ سکون ہو جائے۔ شہروں میں تو ہمارے بچے مٹی سے کھیل بھی نہیں پاتے اور مٹی سے کھیلنا اور ہاتھ اور کپڑے گندے کر لینا میرے نزدیک بچوں کا بنیادی انسانی حق ہے۔

منیر نیازی نے نظم لکھی تھی : میں اور بادل ۔ لیکن میں شاعر نہیں ہوں۔میں تو بس ایک پینڈو ہوں جسے اپنا گاؤں آج بھی نہیں بھولا۔ گاؤں جس کی کہر سے اٹی پگڈنڈیوں اور کینو کے باغ میں چہکتی بلبلوں کے پاس کہیں میرا بچپن سو رہا ہے۔ ہاں میں شاعر ہوتا تو ضرور لکھتا : میں اور گاوں. میں جو شاعرکبھی ہوتا ،گاؤں کا سہرا کہتا۔ ٭٭٭٭٭

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.