نامحرم (افسانہ) - محمد اویس حیدر

قبر کی خشک مٹی کو پانی سے گیلا کرنے کے بعد اپنی مٹھی میں رکھی گلاب کی پتیوں کو سیف نے قبر پر پھیلا دیا۔ دو ایک اگر بتیوں کو قبر کے سرہانے کتبے کے پاس لگا کر وہ فاریہ کی قبر کے دہانے زمین پر رکھی اینٹ پر بیٹھ گیا۔

سیف ادھیڑ عمر آدمی تھا جس کے بال سفید ہو چکے تھے اور چہرے پر بھی چھوٹی سفید داڑھی تھی۔ ماتھے پر گہری شکنوں کا ایک جال بن چکا تھا اور گزرے وقت کے نقوش چہرے پر جھریوں کی صورت میں نمایاں تھے۔ فاریہ کے فوت ہو جانے کے بعد وہ کئی سالوں سے اسی طرح ہر ایک دو ماہ بعد اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آتا۔ بوڑھا ہو جانے کے باوجود اس نے قبر کو بے نشان ہونے نہیں دیا تھا۔

قبر کو دیکھتے ہوئے اس کے دماغ کے پنہاں خانوں میں دفن اپنی نوجوانی کے دھندلے مناظر چلنے لگے۔ جب متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیف کی آنکھوں میں مستقبل کے کئی خواب بھی زندہ ہوا کرتے تھے۔ وہ دسویں جماعت کا ایک ہونہار طالب علم تھا۔ خاموشی، کم گوئی اس کے مزاج کا حصہ تھی۔ اس کے شب و روز گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر اور پھر گھر کے ایک کمرے میں پڑے آئندہ روز کے لیے اسکول کے کام کی تیاری میں گزر جاتے۔

اپنا بچپن اور زندگی کے کئی برس ایک محلے میں گزارنے کے باوجود بھی وہ محلے میں ایک اجنبی کی حیثیت سے ہی پہچانا جاتا تھا۔ بستہ کندھے پر ڈالے نظریں جھکائے اسے سکول جاتا اور آتا دیکھنا ایک ایسا منظر تھا جو محلے کے لوگوں کو روزانہ اس خاموشی سے دکھائی دیتا کہ ان کا دماغ اسے محفوظ کرنے سے معذور ہی رہ جاتا۔ اسی لیے سیف کا آشنا چہرہ سب کے لیے ہمیشہ ناآشنا ہی رہا۔

پھر ایک دن وہی ہوا جسے شائد نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایک روز سکول جاتے وقت اپنی جھکی نظروں سے گلی میں کسی نو وارد قدموں کو دیکھ کر اس کی نگاہیں اچانک پیروں سے اٹھ کر چہرے پر آن پڑیں۔ پھر سیف نے محسوس کیا کہ اس اجنبی چہرے کی نگاہیں تو پہلے سے ہی سیف پر اٹکی ہوئی تھیں۔ جب دونوں کی نگاہیں ٹکرائیں تو اس تصادم کی خراشیں دونوں نے اپنے دلوں پر محسوس کیں۔ سیف فوراََ وہاں سے پیچھے دیکھے بغیر یوں آگے بڑھا جیسے وہ کوئی بلا تھی جسے اگر پیچھے مڑ کر دیکھ لیا جائے تو غائب ہو کر آگے آ جاتی ہے۔

سیف اپنے تیز تیز قدموں سے سکول تو پہنچ گیا مگر آج اس کا دل پڑھائی پر نہیں لگ رہا تھا۔ کوئی نیا سا جذبہ تھا جو اس کے اندر انگڑائی لینے لگا تھا مگر یہ کیا تھا سیف خود بھی نہیں جانتا تھا لیکن آج پہلی مرتبہ اس نے اپنے ہم جماعت دوستوں کی ان باتوں پر غور کیا جو فلموں اور ٹی وی ڈراموں کے متعلق ہوتی تھیں۔ سکول میں بریک کے وقت جب اس کے ایک دوست جسے گانے کا خاصہ شوق تھا جب کلاس کے خالی کمرے میں گانا شروع کیا تو سیف کو یوں لگا جیسے گانے میں پروئے تمام رومانوی الفاظ آج اس پر اپنے معنی آشکار کر رہے ہوں۔

اس لڑکی کا نام فاریہ تھا جو سیف کی طرح دسویں جماعت کی ہی طالبہ تھی اور اسکول سے چھٹیاں لے کر اپنی خالہ کے اصرار پر ان کے ہاں کچھ دن رہنے کے لیے آئی تھی۔ لیکن یہ کچھ دن اس کی زندگی میں کیا اہمیت اختیار کر جانے والے تھے وہ اس بات کی اہمیت سے ابھی لاعلم تھی۔ اسکول سے واپس آ کر سیف نے آج جب غیر متوقع طور پر گھر سے باہر پھرتے ہوئے نگاہیں اٹھا کر گلی کا جائزہ لیا تو اسے دکھا کہ اس گلی میں کئی گھر اپنی حالت بدل چکے ہیں۔

کچھ گھروں پر خستہ حالی کی صورت میں بڑھاپا امڈ آیا ہے جبکہ کئی ایک منزلہ گھروں نے جوانی کی اٹھان پکڑتے ہوئے اپنا قد دراز کر لیا ہے۔ اپنے دراز قد کے ساتھ اب وہ با آسانی دوسرے گھروں میں تانک جھانک بھی سکتے ہیں اور اپنے اس غرور کو چھپانے کے لیے انہوں نے اپنی پیشانیوں پر ماشااللہ یا پھر ھذا من فضل ربی کی تختیاں بھی لگا رکھی ہیں۔ گلی کے اس جائزے کے دوران اچانک ایک دروازہ کھلا اور وہ پری چہرہ فاریہ وہاں سے برآمد ہوئی۔ شائد وہ اپنی خالہ کے ساتھ کہیں بازار جا رہی تھی۔ صبح کی متصادم نگاہوں سے دل پر پڑی پہلی خراشیں ابھی مٹ نہیں سکی تھیں کہ نگاہوں کے اس دوسرے تصادم نے اب دل کے چور خانوں کو بھی چھیل کر رکھ دیا۔

سیف چکرا کر رہ گیا کہ اس کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ وہیں کھڑا کھڑا جیسے پتھر کا بن گیا لیکن بھلا ہو فاریہ کا جس نے اسے کوئی بلا نہ سمجھتے ہوئے پلٹ کر سیف پر ایک مسکراہٹ بھری نگاہ ڈالی جس کی تیزی نے سیف کے گرد بنے پتھر کے ہالے کو پاش پاش کر کے اسے یوں سرشار کیا جیسے کسی بچے کے خالی ہاتھ پر اچانک کسی نے ٹافی رکھ دی ہو۔ سیف کے قدم نہ چاہتے ہوئے بھی فاریہ کے پیچھے آہستہ آہستہ چلنے لگے گویا اب مزید کوئی ٹافی ملنے کا متمنی ہو۔

پھر روزانہ اسکول جاتے وقت سیف دھیمے دھیمے قدم اٹھاتا آڑھی نظروں سے اس دروازے کو دیکھتا جو جھاڑو کی دھیمی دھیمی آواز کے ساتھ کھل جاتا۔ پھر اسی جھاڑو کی دھیمی آواز میں دبی فاریہ کی ہنسی سنائی دیتی جس کی شرارت بھری نظریں دیکھ کر سیف کا دل مچل سا جاتا اور بدلے میں وہ بھی اسے مسکراہٹ کا تحفہ دے کر آگے بڑھ جاتا۔ پھر اسی طرح اسکول سے واپسی پر بھی فاریہ اس کے استقبال میں کبھی دروازے تو کبھی چھت پر کھڑی ہوتی۔ بالآخر اسکول سے لی فاریہ کی چھٹیاں ختم ہو گئیں اور وہ لینے آئے اپنے والدین کے ساتھ واپس اپنے گھر چلی گئی۔ جس کے چلے جانے کے بعد سیف کو گلی کا موسم خاصہ اداس لگنے لگا۔

سیف اب وی سی آر پر موویز بھی دیکھنے لگا تھا جنہوں نے اسے محبت کے نت نئے طریقے سکھا دیے پھر انہیں طریقوں سے اس نے فاریہ کے گھر کا پتہ بھی معلوم کر لیا جبکہ دسویں کے امتحانات کے اختتام کے ساتھ ہی فاریہ کی آگے مزید پڑھائی سے بھی جان چھوٹ چکی تھی۔ لہذا اسے رہ رہ کر اپنی خالہ کا خیال ستانے لگا۔ بلکہ اسے شائد اب اپنی خالہ میں اپنی ماں اور اس کی دو بیٹیوں میں اپنی حقیقی بہنیں نظر آنے لگیں تھیں تبھی تو کسی نہ کسی طرح آئے روز وہ اپنی خالہ کے گھر رہنے کے لیے آن پہنچتی۔

ایک ہی گلی میں رہتے ہوئے سیف بھی اس کی خالہ کے گھر جانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال لیتا تھا۔ اس بہانے کو نکالنے کے لیے سیف کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ فاریہ کی خالہ کی اپنی دو بیٹیاں تھیں اور انہیں سیف میں اپنی بیٹی کے حوالے سے داماد کی شبیہ نظر آنے لگی تھی اسی لیے انہیں سیف کا اپنے گھر آنا اچھا بلکہ خوشگوار لگتا تھا جبکہ سیف کے دل کی خوشیاں تو فاریہ کی مسکراہٹ سے وابستہ تھیں۔ فاریہ سیف کو گھر میں سب کے درمیان دیکھ کر نظر بچاتے ہوئے چپکے سے ناک چڑھاتی پھر سیف بھی بدلے میں یہی کرتا۔

وہ اکثر مالٹے اور سیاہ رنگ کی قمیض شلوار پہنے ہوتی۔ بالوں کی درمیان سے مانگ نکال کر کمر پر لمبی سی چٹیا جس پر لباس کے رنگ کی مناسبت سے پراندہ پڑا ہوتا، اجالے کی مانند روشن اور دودھیا سفید چہرہ، روئی کے جیسی نرم اور خوبانی کی مانند گلابی گلابی سی گالیں، سیاہ کالی آنکھیں، لمبی پلکیں اور خم کھاتی باریک دہاریوں کی مانند ابرو جو گفتگو کے دوران چہرے کے زاویے کے مطابق بل کھانے لگتے۔

جب مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلتی تو ایک گال پر معمولی سا ڈمپل اور آنکھوں کے کناروں پر چھوٹی چھوٹی اور باریک باریک سی لکیریں پڑ جاتیں۔
کمرے میں پڑے ٹی وی پر کوئی ڈرامہ چل رہا ہوتا، سب کی نگاہیں اور توجہ اس پر جبکہ اسی دوران سیف اور فاریہ کے درمیان نظروں ہی نظروں میں محبت کے طویل قصے پڑھے اور پڑھائے جا رہے ہوتے۔ سوال بھی ہوتے اور جوابات بھی دیے جاتے مگر زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہ ہوتا۔ خاموشی کی یہ لہریں ہوا میں دھنک کے رنگ بکھیر دیتیں اور دونوں کی روحیں ان رنگوں میں بھیگتی چلی جاتیں۔ پھر نور کا ایک ہالہ بن جاتا جس میں داخل ہو کر دونوں کسی دوسرے جہاں میں جا پہنچتے۔

خوشبو کا لباس پہنے فاریہ شرماتی سمٹتی سیف کے سامنے ہوتی، سیف اس کا ہاتھ تھامتا تو اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ جاتی اور ہاتھ کپکپانے لگتا اور اس کپکپاتے ہاتھ کا بوسہ سیف کے لبوں کو شہد کی مٹھاس سے تر کر جاتا۔ پھر دونوں اسی دنیا میں واپس آن پہنچتے لیکن کوئی بھی نہ یہ جان پاتا کہ دونوں زمان و مکاں سے آزاد کن وسعتوں میں پھیل کر پھر مٹی کے پتلوں میں سمٹ گئے ہیں۔ سیف بی اے کے پہلے سال میں تھا جب فاریہ کا رشتہ طے ہو گیا۔ سیف پر یہ خبر بجلی بن کر گری تھی جس نے اس کی حالت دیوانوں کی سی کر دی۔ گھر میں پیدا ہوتی مستقبل کی زمہ داریاں اس کے گرد گھیرا ڈال رہی تھیں جبکہ آمدن کا ابھی تک کوئی ذریعہ نہیں تھا سوائے والدین پر انحصار کے۔ نوکری کا ابھی دور دور تک کوئی چانس نظر نہیں آ رہا تھا اور ہنر کوئی اس کے ہاتھ میں نہیں تھا بس اب اس کے پاس رہ گئی تھی تو صرف بے بسی۔

ادھر فاریہ کے والدین کو اپنے سر سے بیٹی کے بوجھ کو جلد اتار دینے کی فکر کھائے جاتی تھی تبھی انہوں نے کم عمر میں ہی ناصرف اس کا رشتہ طے کر دیا بلکہ شادی کے لیے چھ ماہ کی مدت بھی رکھ دی۔ سیف کے بس میں فی الحال کچھ اور تو تھا نہیں لہذا وہ پکا نمازی بن گیا۔ رب سے سجدوں میں فاریہ کو مانگنے لگا مگر ان مطلب کے سجدوں سے شائد رب کو بھی کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ مجاز کے بےبس عشق کی آگ میں سلگ رہا تھا جس نے اسے شدید خود غرض بنا دیا تھا وہ دعا بھی مانگتا تھا تو فاریہ کو پانے کی یا پھر اس کے مر جانے کی کیونکہ اس کے علاوہ سیف کو کچھ قبول ہی نہ تھا۔ مگر پھر بقول شاعر

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کے مصداق وہ دن بھی آن پہنچا جب فاریہ دلہن بنے اپنے گھر سے کسی اور کے گھر رخصت ہو گئی۔ دلہن بنے جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی تو سیف بھی وہاں آن پہچا۔ وحشت زدہ پھٹی آنکھوں سے سیف نے جب اسے سرخ لباس میں ملبوس دیکھا تو اس کی آنکھیں ابلنے لگیں۔ دونوں کے درمیان پھر گہرا سکوت قائم تھا اور پھر فاریہ کی ساکت آنکھیں قطرہ قطرہ رسنے لگیں۔ ان میں سوال ہی سوال ابھرتے چلے جا رہے تھے لیکن سیف کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ سیف کے اندر دہکتی آگ نے اسکے وجود کا سارا پانی خشک کر دیا تھا یہاں تک کہ اس کا حلق کانٹوں کی مانند آپس میں رگڑ کھانے لگا اور اسے لگا کہ اس وجود پر دراڑیں پڑتی جا رہی ہیں۔

فاریہ کی سوال آنکھیں اب بھی سیف پر اٹکی ہوئی تھیں جو پوچھ رہی تھیں کہ جس وجود پر صرف تمہارا حق تھا کیا وہ اسے کسی اور کو سونپ دے ؟؟؟ سیف اس زور کا چیخا کہ فضا میں اس بے آواز چیخ سے چار سُو سناٹا ہی سناٹا پھیل گیا کیونکہ چیخ اس کے حلق سے باہر کو نہیں بلکہ قلب کی طرف پلٹ گئی تھی۔ وہ وہاں سے پلٹ کر اندھا دھند بھاگا اور جب ہوش آیا تو اپنے گھر میں پڑا تھا۔ اس نے اپنے ناخنوں سے گھر کی دیواریں کھرچ ڈالیں لیکن اپنی قسمت پر لگی بے بسی کی تہہ کو نہ کھرچ سکا۔

ایک سال بعد فاریہ کے گھر بیٹی پیدا ہوئی۔ جب سیف کو یہ معلوم ہوا تو وہ بھی کسی طرح ہسپتال جا پہنچا۔ بچی کو گود میں اٹھا کر اسے جیسے اپنے باپ ہونے کا احساس ہوا اس نے ننھی گڑیا کی کھلی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھا تو وہ سیف کی آنکھوں کے مشابے نیلی تھیں جنہیں دیکھ کر سیف زیر لب مسکرایا مگر پھر ساتھ ہی اسے اس گڑیا کے چہرے میں فاریہ کے شوہر کا چہرہ دکھنے لگا جس نے پھر سیف کے بدن میں آگ لگا دی۔ اس نے فوراََ بچی کو بیڈ پر رکھا اور وہاں سے بھاگ پڑا اور اندھا دھند بھاگتا ہی چلا گیا، اب کی مرتبہ جب ہوش آیا تو وہ ٹی وی ڈراموں کا ایک اداکار بن چکا تھا۔ جوانی اس پر ٹوٹ کر آئی تھی۔

دراز قد، کشادہ سینہ، دبلا جسم، گھنے بال، سفید رنگت پر نیلی آنکھیں، ہلکی ہلکی بڑھی بھوری بھوری سی داڑھی، ماتھے پر تیوری چڑھی ہوئی، گلے میں سونے کی چین، کلائی پر ٹائٹن کی گھڑی اور چہرے پر موجود دوسروں کو دیکھتی ایک حقارت کی سی لہر، اپنے سین کی ٹیک دینے کے بعد کیمرے سے پرے ہٹ کر وہ سیگریٹ کے کش سے دھوئیں کے چھلے بنانے لگتا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے گرد اداکارہ بننے کی خواہشمند لڑکیوں کا جمگھٹا اکٹھا ہونے لگا۔

جو اس کےساتھ وقت بے وقت فری ہونے کی کوشش کرتیں خود کو اس کے سامنے مختلف طریقوں سے نمایاں کرتیں پر وہ اپنے قریب آنے والی ہر لڑکی میں فاریہ ہی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگتا لیکن فاریہ کی پاکیزگی اور معصومیت کی پرچھائی بھی اسے کسی میں دکھائی نہ دیتی، یوں سیف کو ان سے گھن آنے لگتی۔

پھر ایک روز شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر سیف فاریہ کے گھر کے دروازے پر جا پہنچا یعنی اس کے سسرال، کھڑکی سے فاریہ نے جب سیف کو دیکھا تو چونک گئی۔ لیکن اسے یوں اپنے گھر کے آگے دیکھ کر اس میں منہ موڑنے کا بھی حوصلہ نہ تھا اور نہ سیف کے قریب جانے کی ہمت۔ سیف جانے کتنے گھنٹے یونہی اس کے گھر کے سامنے کھڑا اور چکر کاٹتا رہا۔ بالآخر فاریہ بھی سر اور چہرے پر چادر ڈالے اپنی گھر کی دہلیز کو عبور کر کے اس تک آ گئی۔

فاریہ اور سیف دراصل بجلی کی تار کے نیگٹو پازیٹو بن چکے تھے۔ جن میں ایک ساتھ ایک ہی کرنٹ دوڑتا ہے مگر یہ دونوں تاریں ساتھ ساتھ رہنے کے باوجود مل نہیں سکتیں لیکن جدا بھی نہیں ہو سکتیں۔ جدا ہوں تو اکیلے کسی تار کی کوئی حیثیت نہیں رہتی نہ کوئی کردار لیکن اگر جڑ جائیں تب بھی دھماکے کے ساتھ شارٹ سرکٹ ہی ہو گا۔ لہذا ایک ہی کرنٹ کو بائی پاس کرتی یہ تاریں نہ جڑ سکتی تھیں اور نہ ہی جدا ہو سکتی تھیں۔

دونوں آمنے سامنے جب ہوئے پھر چاروں طرف سناٹے کے بادل چھا گئے۔ لفظ اپنی شناخت بھول کر فنا ہو گئے اور خاموشی کی لہریں دھنک کے رنگ بکھیرنے لگیں۔ نور کا ہالہ نمودار ہوا اور دونوں اس میں داخل ہو کر زمان و مکاں کی قید سے پرے نکل گئے فاریہ کی آنکھیں شبنم کے قطروں سے وضو کرنے لگیں اور بدن میں کپکپاہٹ طاری ہو گئی، پھر وہ اپنا سر سیف کے سینے پر رکھ کر اس کی تپش سے خود کو گرمانے لگی ہی تھی کہ نیگٹو پازیٹو کے ملنے سے سناٹے کے بادلوں میں یکایک ارتعاش پیدا ہوا اور وہ گرج اٹھے۔ دونوں واپس مٹی کے پتلوں میں سمٹ گئے اور فاریہ تیزی سے اپنے گھر کو پلٹ گئی۔ جبکہ سیف جیسے بے جان مجسمے کی مانند زمین پر گر کر پاش پاش ہو گیا۔

روز بروز فاریہ کی زندگی اس پر وزنی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی روح ہمہ وقت سیف کے گرد محوِ طواف رہتی اور روح سے خالی جسم کسی اور کی خدمت میں جتا رہتا۔ روح اور جسم کی اس تقسیم نے اس کی زندگی سالن کی ہنڈیا میں ابلتے شوربے کی مانند بنا دی تھی۔ وہ ایک پھول تھی ۔۔۔۔۔ مگر ایسا پھول جو کیکٹس پر کھلا ہوا ہو۔ ڈپریشن اس کے اعصاب کو مفلوج کرتا چلا جا رہا تھا۔ ادھر سیف خود پر اندھیروں کو اوڑھ کر روشنیوں سے دور بھاگنے لگا تھا۔

اسی لیے ٹی وی پر شروع ہونے والے اپنے چکا چوند کیرئر کو اس نے اپنے ہاتھوں ہی سے کسی اندھیری قبر میں دفنا دیا اور پھر خود کسی گمنام جنگل میں گم ہو کر اپنی محبت کی تپسیا کرنے لگا۔ پھر ایک روز جنگل اڑتی کسی انجان ہُدہُد نے اسے خبر دی کہ فاریہ مر چکی ہے۔ اس کی روح اپنے وجود کے کرب کی قید سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو کر اس جہاں سے دور سکون کی کسی وادی میں چلی گئی ہے۔

وقت گزرتا گیا، سیف کی مجرد جوانی کب بڑھاپے میں بدل گئی اسے خود بھی پتہ نہ چلا۔ عشق کا دیا تو اس کے اندر نوعمری سے ہی سلگ چکا تھا، فاریہ کی موت کے بعد اسی دیے کی روشنی نے آہستہ آہستہ اس کے قلب کو بھی روشن کر دیا اور وہ مجاز کی راہ سے گزرتا ہوا حقیقت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ محبت سے سرشار روح کی سمت اس کے علاوہ اور ہو بھی کیا سکتی تھی۔ آج فاریہ کی قبر پر بیٹھا وہ اپنے خیال کی لہر میں بہتا ماضی کے مناظر سے بنی فلم دیکھتا چلا جا رہا تھا۔

پھر اس کی نظر قبر کے کتبے پر پڑی جہاں فاریہ کے نام کے ساتھ اس کے شوہر کا نام لکھا تھا۔ یکایک اس کی آنکھیں سکڑنے لگیں ماتھے کی شکنیں اور گہری ہو گئیں اور اس نے سوالی نگاہیں اٹھا کر آسمان کو دیکھا گویا پوچھ رہا ہو کہ کسی کے نکاح میں رہ کر مر جانے والی سیف کی محبت ۔۔ کیا اب ہمیشہ نامحرم ہی رہے گی ؟