ہے کوئی نجات دہندہ - سرورصدیقی

روتے روتے اس کے آنسو خشک ہوگئے گھرمیں کھانے کو بھی کچھ نہ تھا خاوندکو بیماری نے عاجزکرکے رکھ دیا وہ بچوں کو تسلیاں دیتے دیتے تھک گئی توپڑوسن سے کچھ روپے مانگ کرلائی چھوٹے کو ساتھ لیاجتنا آٹا دال آسکتی تھی لے آئی گھرکی حالت دیکھ کر دل بھر آیابیماری،غربت اور بھوک کا آنسوئوں سے شاید گہرا ناطہ ہے کہ یہ خود بخود امڈتے چلے آتے ہیں ۔

وہ سوچنے لگی نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے اچھاخاصانظام چل رہا تھا کہ گھرکے واحد کفیل کو ہیپا ٹائیٹس نے آلیاابھی مریض سنبھلا بھی نہ تھا کہ گردوںکے درد نے بے حال کرڈالا ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ سب آلودہ پانی پینے کے سبب ہوا ہے رہی سہی کثر عطائی ڈاکٹروںنے پوری کردی بیماری کے باعث کاروبار میں خسارے نے مقروض کردیا دکان، مکان بکنے کے بعد گھر کے برتن بیچنے کی نوبت آن پہنچی اب خاوند خلائوں میں تکتا رہتا بیوی روتے روتے چپ یا چپکے چپکے روتی رہتی۔

بچے ہر وقت ڈرے ڈرے سہمے سہمے رہنے لگے رشتہ دار یا محلے والے ترس کھا کر کچھ دے دیتے تو گذارا ہوتا۔وہ سوچتی رہتی آخر کب تلک؟ یہ کہانی صرف ایک گھر تک محیط نہیں ہر گلی محلے میں اس سے ایک ملتا جلتا کردار ضرورموجود ہے کیونکہ پورے ملک میں کسی بھی شہرمیں عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں،علاج معالجہ کی سہولتوں کا فقدان ہے عوام سوچتے اور کڑھتے ہیں کہ مشرف کی آمریت ختم ہوئے کئی سال بیت گئے ۔

اوریکے بعد دیگرے دو تین جمہوری حکومتوں کے قیام کے بعد بھی وہی مسائل،وہی محرومیاں عوام کا مقدر ٹھہریں اس دوران کچھ نہ بدلاکبھی حکمرانوںکی ہوشربا کرپشن نے عوام کو ہلا کررکھ دیا تو ناقص حکومتی پالیسیوں کے سبب کبھی ناجائز منافع خوروں نے اربوں روپے کما لئے ،کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ،اووربگنگ اوربجلی و گیس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر بجلی بن کر گرتا ہے اورکبھی آٹے کا بحران ،کبھی ٹماٹر کبھی پیاز کبھی چینی بحران بن کر غریبوں کو مزید خون کے آنسو رولاجاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   نجات دہندہ - قرة العین

کبھی دہشت گردی کے واقعات خوف وہراس کا باعث بنتے ہیں اوراس کے نتیجہ میں عام آدمی ہی متاثرہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی اکثریت زندگی کی بنیادی سہولتوں سے یکسرمحروم ہے۔ابلتے گٹر،ٹوٹی سڑکیں اور مسائل در مسائل نے جینا عذاب بنا دیا،آلودہ پانی کے مسلسل استعمال سے بیماریوں میںخطرناک حد تک اضافہ ہو گیا،دہشت گردی،بیروزگاری اورمہنگائی سے لوگ عاجز آگئے۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میںمزید ایک کروڑ سے زائدافرادغربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہوگئے ہیںپاکستان میںغربت کی بنیادی وجہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس کے سبب امیر،امیرترین اور غریب ،غریب ترہوتا جا رہاہے،بدقسمتی سے کسی بھی گورنمنٹ نے غر بت ختم کرنے کیلئے حقیقی اسباب پر غور کرنا ہی گوارہ نہیں کیا۔اس کے علاوہ دہشت گردی سے ملکی معیشت مفلوج ہوتی جارہی ہے۔

احتجاجی ریلیوں اور ہنگاموں سے بھی عام آدمی ہی متاثر ہوتاہے بجلی یاگیس کی لوڈشیڈنگ سے بھی عام طور پر غریب ہی کو فرق پڑتا ہے پاکستان میںغربت کی ایک اور وجہ عدم سیاسی استحکام اور آئے روز کے بحران در بحران ہیںجس سے بے چینی میں مسلسل اضافہ ہونا ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ہر شہری کے لئے بلا امتیازیکساں مواقع کی فراہمی سے غربت میں کمی آسکتی ہے۔بدامنی ، ڈکیٹی کی وارداتیں، چوری اور دیگر سماجی مسائل نے بھی عوام کو پریشان کررکھاہے ہماری حکومتیں بلند بانگ دعوے کرتی رہتی ہیں۔

کبھی کوئی فخر ِ ایشیا ء اقتدار میں آجاتاہے تو کبھی شیر ِپنجاب حکومت میں ہوتاہے یہاں خادم اعلیٰ بھی برسر ِ اقتدار رہے ، نیاپاکستان بنانے کے دعوے دار بھی موجودہیں پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہنے والے بھی ہزاروں ہیں،ہم ساری دنیا کے ٹھیکیدار بن کر پرائی جنگ میں بلا جواز کودپڑتے ہیں یہاں لوگ بھوک کے مارے خودکشیاں کررہے ہیں لیکن جب تک ہمارے حکمران عوام کی فلاح بہبودکیلئے عملاً کچھ نہیں کرتے لوگ ہیپا ٹائٹس کا شکارہوتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   نجات دہندہ - قرة العین

عطائی اورقصائی ڈاکٹروں کا کاروبار یونہی پھلتا پھولتا رہے گاغریب غربت کے ہاتھوں مجبورہوکراپنے ہی جسم کے اعضاء اور اپنے لخت ِ جگر فروخت کرتے رہیں گے۔ سوچ سوچ کر دماغ پھٹاجارہاہے کہ میری قوم کا مستقبل کیاہے؟۔ حکمران ہمیں یونہی طفل تسلیاں دیتے رہیں گے۔

جبکہ ہمارے بچے کئی دنوںسے بھوکے ہیں مائیں ہنڈیا میں پتھر ابال کرانہیں دلاسے دیتی ہیں کہ کھاناتیارہورہاہے۔ہے کوئی ہمارا نجات دہندہ؟