کشمیر بنےگا پاکستان - رافع خان

آج جمعہ کا دن تھا رافع اور اس کے سارے دوست صاف ستھرے کپڑے پہنے مسجد میں نماز کے لیے جمع تھے نماز کے بعد سب بچے آنے والی پانچ فروری کی چھٹی کی وجہ سے بہت پرجوش تھے ہر ایک نے پلاننگ کی تھی کہ وہ اس چھٹی میں بہت مزہ کریں گے بلال کہنے لگا کے ہاں بھئی اب بتاؤ کہ اس چھٹی میں کیا ارادہ ہے ۔

ارادہ کیا بس فٹ بال کا ٹورنامنٹ رکھیں گے اور کیا عظیم نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے ابراہیم اور جاوید نے خوش ہو کر کہا اور پھر سب اپنے اپنے مشورے دینے لگے کہ ٹورنامنٹ میں کیا کیا ہوگا ۔رافع چپ چاپ کھڑا ان سب بچوں کی باتیں سن رہا تھا بلال پوچھنے لگا رافع تم کیوں خاموش ہو کیا تمہیں فٹبال پسند نہیں ہے۔ نہیں یار ایسی تو کوئی بات نہیں رافع نے جواب دیا ۔

ارے مجھے پتا ہے اس کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا ہے ابراہیم چڑانے والے انداز میں بولا رافع نے اسے گھورا تو وہ بولا چلو ہمیں بھی بتا دو اگر اچھا لگا تو ہم سب وہی کریں گے جو تم کہو گے۔ہاں ہاں بتاؤ سب دوست رافع سے اصرار کرنے لگے ۔اچھا یہ بتاؤ پانچ فروری کو چھٹی کیوں ہوتی ہے رافع نے پوچھا ۔

لو تمھیں یہ بھی نہیں پتا بھائی پانچ فروری کو کشمیر ڈے منایا جاتا ہے اس لیے حکومت کی طرف سے عام تعطیل ہوتی ہے ابراہیم ہنسنے لگا ،پتا ہے جبھی تو پوچھ رہا ہوں بےوقوف ! اچھا یہ بتاؤ کشمیر ڈے کیوں مناتے ہیں ھم؟ کشمیری ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں تسلی دیتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں جاوید نے بتایا ۔رافع کہنے لگا کے اچھا یہ بتاؤ اگر ہمارا کوئی بھائی مصیبت میں ہو اور ہم خوشیاں منائیں تو ہمارے بھائیوں کو کیسا لگے گا ؟

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا پیغام دنیا کے نام - حافظ نعیم

بہت برا لگے گا یار سب بولے ۔ہاں میں بھی یہی سمجھانا چاہ رہا ہوں کہ کشمیر ڈے تو کشمیر سے یکجہتی کا دن ہے وہاں کس قدر ظلم ہورہاہے ہم روز کوئی نہ کوئی ویڈیو نیٹ پر دیکھتے ہیں ان کی وجہ سے چھٹی ہو اور ہم اس دن ان کے ساتھ یکجہتی کے بجائے فٹ بال کھیلتے کیا اچھے لگیں گے ؟یہ بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے ابراہیم سوچتے ہوئے کہنے لگا اچھا تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ہم تو بچے ہیں اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں تم ہی بتاؤ نا۔

اگر ہم بچے ہیں تو کیا ہوا وہاں پر بھی تو بچوں کو مارا جا رہا ہے میں نے سوچا ہے ہم اس دن گلی محلے میں ریلیاں نکالیں گے اور لوگوں کو بتائیں گے کہ ہمیں بھی کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے وہ اکیلے ہیں پریشان ہیں اور انہیں ہماری ضرورت ہے ۔بالکل ٹھیک ہم سب اس دن یہی کریں گے ان شاء اللہ ۔مگر یار ریلی کے لئے تو ہمیں جھنڈا بھی چاہیے ہوگا وہ کہاں سے آئے گا جاوید سوچ میں پڑ گیا ۔

ھممم۔۔۔۔رافع سوچنے لگا پھر اچانک بولا ۔یہ تم مجھ پر چھوڑ دو جھنڈے کا انتظام میں کر لوں گا ۔اور کارڈ شیٹ پر نعرہ میں لکھ لوں گا بلال بولا ۔چلو پھر ڈن رہا سب دوست ریلی کی تیاری کیلئے گھروں کو چل دیئے ۔اتنا بڑا جھنڈا یہ تو بہت مہنگا آیا ہوگا یار ہاں میں نے روز کی اپنی جیب خرچ جو امی ابو دیتے ہیں جمع کی اور اسے خرید لیا رافع ہوا میں جھنڈا لہرانے لگا اور خوش ہوتے ہوئے جواب دیا۔گلی کے اور بھی بچوں نے ان بچوں کو اتنا بڑا جھنڈا لہراتے اور نعرے لگاتے دیکھا تو وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے کشمیر بنے گا پاکستان ، کشمیر ہماری شہ رگ ہے ، لے کہہ رہیں گے آزادی دلوا کے رہیں گے آزادی ۔

یہ بھی پڑھیں:   بات تو سمجھنے کی ہے - نائلہ شاہد

بچوں نے جب گلیوں میں یہ نعرے لگائے تو گلے کے تمام افراد حیرانی اور خوشی سے بچوں کو دیکھنے لگے ایک انکل نے پوچھا کہ بیٹا آپ کے یہ نعرے کون دیکھ رہا ہے کیا ان سے کشمیر آزاد ہو جائے گا ؟بچے جوش سے بولے کے کوئی دیکھے نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے نہ وہ ہماری گواہی لکھ لے گا کہ ہم اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ تھے ان کے دکھ میں برابر کے شریک تھے ۔

بچوں کے اس جواب سے انکل بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کشمیر ہمارا بھی ہے اور ہم کشمیر کے ہیں کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور پھر موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے بولے آپ کی یہ آواز ہم پوری دنیا میں پہنچائیں گے اور بتائیں گے کہ کشمیری اکیلے نہیں ھیں ہم ان کے ساتھ ہیں ۔

پھر بچوں نے دیکھا کہ ان کی چھوٹی سی ریلی بہت بڑی بن گئی ہے جس میں بڑے بھی شامل تھے اور نعرے لگ رہے تھے ۔لے کے رہیں گے آزادی، کشمیر ہماری شہ رگ ہے ، کشمیر بنے گا پاکستان ، ان شاء اللہ