کو رونا وائرس۔۔ سنگاپور نے اورنج الرٹ کا اعلان کردیا - اعظم علی

اورنج یا نارنجی رنگ کسی بھی ایمرجنسی کا آخری سے نچلا درجہ ہے۔آخری درجہ سُرخ ہے۔ اب ہرشخص کو اس قومی مصیبت سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انتہائی محتاط رہتے ہوئے اپنی زندگی کو عمومی طریقے سے گذاریں۔ وزیر صحت کا بیان مریضوں کی تعداد ۳۳ ہو گئی ۔اسکولوں کی آؤٹ ڈور کھیل دیگر سر گرمیاں مارچ کی چھٹیوں تک معطل ۔

تمام دفاتر میں کارکنان کا دن میں دو مرتبہ درجہ حرارت لیا جائے گا کسی کو نزلہ زکام اور بخار کی شکایت ہو تو فوری طور گھر بھیج دیا جائےگا فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرے (میری ایک عزیزہ کو صرف کھانسی کی بناء پر دفتر سے گھر بھیج دیا گیا )۔ تمام دفاتر کسی بڑی وباء کی صورت میں اپنے انتظامات کریں تاکہ کاروبار زندگی جاری رکھا جاسکے۔ ان انتظامات میں کارکنان کو زیادہ تر آن لائن کام کرنے کی اجازت اور چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں کام کرنا شامل ہے۔ آگر کسی ایسے گاہک کا سامنا کرنا پڑے جو بیمار لگے تو اسٹاف کو یہ ہدایت تو اسے فوری طور پر واپس جاکر ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرے۔ تمام اسکولوں کے لیے ہدایت ہے کہ صبح کی اسمبلی ختم کردی جائے، اسکول کے درمیانی وقفے کو بھی مختلف گروپوں کی صورت میں دئیے جائیں ۔اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جائے۔ پری اسکول اور بوڑ ھے لوگوں کے اداروں کے لئے ہدایت ہے کہ ملاقاتیوں کی تعداد محدود کردی جائے۔ تمام اسپتالوں کے داخلی دروازوں پر درجہ حرارت اور دیگر علامات کو سختی سے مانیٹر کیا جائے۔ نمونیا کے مریضوں کو دیگر مریضوں سے الگ کر کے ڈیل کیا جائے۔ تمام اداروں بشمول کاروباری اپنے غیر ضروری پروگرامات جن میں زیادہ افراد کی حاضری متوقع ہو ملتوی یا منسوخ کردیں جائیں۔

کسی بھی پروگرام کا مقام ہوادار ہو اور اسمیں ہاتھ دھونے کی کافی سہولتیں اور عام استعمال کے ایریا کو مسلسل صفائی کا اہتمام کیا جائے۔ ایونٹ آرگنائزروں کے لئے ہدایت ہے کہ اپنے شرکاء کو یاددہانی کرائیں کہ اگر کسی نے چین کا سفر کیا ہے تو پروگرام میں شرکت نہ کریں بلکہ جہاں تک ممکن ہو ہر شخص سے اسکے سفر کے بارے میں ڈیکلیئریشن حاصل کیا جائے۔
تمام شرکاء کی فہرست حتی الامکان تیار کی جائے۔ انفرادی طور پر یہ سارے اقدامات اسی صورت میں کار آمد ہوں گے اگر ہر شخص اس وائرس کے پھیلاؤ سے روکنے میں اپنیُ ذمہ داری بنھائے۔
جو بیمار ہوں و اپنے گھروں میں رہیں اگر ڈاکٹر کے پاس جانا بھی ہو تو ماسک پہن کر جائیں اور دوسرے لوگوں سے دور رہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کھانسی اور نزلے کے چھینک سے اُڑنے والے ذرّات کے ذریعے، اگروہُ ذرّات ہاتھوں میں لگے ہوں تو انکے ذریعے، اگر یہ ذرّات کسی چیز پر لگے ہوں تب بھی دوسروں کو لگ سکتے ہیں۔ اگر عام وباء کی صورت میں بھی اس جراثیم کو پھیلنے سے روکنے کا سب سے بہتر طریقہ اچھی صفائی، ہاتھوں کو بارہا صاف صابن اور پانی سے دھونا ہے۔ اپنے چہرے پر غیرضروری طور پر ہاتھ لگانے سے احتراز کریں بالخصوص اس صورت میں جب ہاتھ صاف نہ ہوں .