پسند کی شادی اور لبرلز - محمد عاصم حفیظ

شادی پسند کی ہے دونوں بہت خوش بھی ہیں تصاویر خوب وائرل ہیں لیکن سوشل میڈیا پر چند لبرلز کی چیخ و پکار جاری ہے۔ مذاق اڑانے کی کوشش کی جارہی ہے تصاویر پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ دراصل ان کا غصے سے لال پیلا ہونا بنتا ہے کیونکہ انہیں شادی ہی سے تو اصل تکلیف ہے۔

بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے جوانی کی دہلیز چڑھتے ہی نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کے مقدس بندھن کا سوچیں ۔ یہ تو گویا انہونی ہو گئی کہ اٹھارہ اٹھارہ سال کے ہم عمر نمرہ اور اسد نے افئیر چلانے ۔ چھپ چھپ کر اور ڈیٹنگ کرنے کی بجائے شادی کا فیصلہ کر لیا ۔ بھلا ماڈرن زمانے میں یہ کیونکر ممکن ہو گیا ؟؟ لڑکا لڑکی خوش بھی ہیں تو کیا ہوا ۔ لبرلز تو خوش نہیں ۔ ان کا تو سوچ سوچ کر برا حال ہے ۔ سوشل میڈیا پر پریشانی دیکھائی دیتے ہیں اور تبصرے کر کر کے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں ۔

دراصل والدین کی باقاعدہ رضامندی سے شادی ہو جانے سے ہی تو تکلیف ہوتی ہے ۔ اگر یہ جوڑا گھر سے بھاگ جاتا کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا تو ضرور این جی اوز والے ان کی مدد کو آتے میڈیا پر تماشا بھی لگتا ہمدردی بھی ملتی۔ لیکن جب والدین کی مرضی سے شادی کر لی تو گویا گناہ کبیرہ ہی کر ڈالا ۔ لبرلز کی دم پر گویا پاؤں آ گیا ۔

معاشرے میں افئیرز کی بجائے ۔ خفیہ تعلقات کی بجائے نکاح عام ہونے لگے تو انہیں تکلیف تو ہو گی نہ ۔ یہی تو ایک کاوش ہے کہ نوجوان نسل کو کریئر اور دیگر الجھنوں کی نام پر نکاح سے دور کرکے باقی سب کچھ کرنے کےلئے ماحول فراہم کیا جائے اور اسی سے ایک خاص قسم کی معاشرت بنائی جا رہی ہے۔

اس جوڑے کا گناہ یہ ہے کہ لڑکے نے اپنی پسند کا اظہار والدین سے کر دیا ۔ انہوں نے بخوشی لڑکی کے والدین سے بات کی ۔ دونوں خاندانوں نے رضامندی سے شادی کرا دی ۔ یہی وہ لبرل روایات کی گستاخی ہے جو اس طبقے کو ہضم نہیں ہو رہی ۔

حالانکہ خاندانوں کی باہمی رضامندی سے جلد ہونیوالے نکاح ہمارے ہاں جنم لینے والے بے پناہ معاشرتی مسائل کا بہترین حل ہیں ۔ اس روایت کو عام ہونا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ بچوں کی جائز ضروریات کا بروقت خیال کریں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com