کورونا وائرس کے متاثرین کیلئے تعمیر کیا جانے والا اسپتال 8 دن میں مکمل

بیجنگ : کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کےلیے آٹھ دن میں تعمیر کیا جانے والا ہنگامی اسپتال مکمل ہوگیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین میں اس وقت کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ووہان شہر ہے جبکہ اب تک 14 ہزار سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہو کر اسپتالوں میں داخل ہوچکے ہیں۔

اس وائرس سے اب تک 361 افراد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔چینی حکومت نے چند روز قبل کرونا کے علاج کے لیے خصوصی اسپتال بنانے کا اعلان کیا تھا جو مکمل ہوگیا، مذکورہ اسپتال 1 ہزار بستروں پر مشتمل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسپتال کا نام فائر گاڈ ماؤنٹین ہاسپٹل رکھا گیا ہے، 269،000 مربع فٹ کی یہ عمارت دو نئے اسپتالوں میں سے ایک ہے جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے عالمی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد ووہان میں تعمیر کیا گیا ہے۔

چینی حکام کا کہنا تھا کہ اسپتال کو پری فیبری کیٹیڈ مٹیریئل یعنی پہلے سے تیار شدہ اشیا سے تعمیر کیا گیا ہے، جس کا ڈیزائن بیجنگ کے ایک اسپتال پر منبی تھا جو 2003 میں سارس وائرس سے نمٹنے کےلیے تعمیر کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس ہنگامی اسپتال کی تعمیر کےلیے ملک بھر سے اینجینئرز کو ووہان لایا گیا تھا تاکہ تیزی اسپتال تعمیر کیا جاسکے۔


چین کی فوج کو اسپتال کا کنٹرول سونپا گیا ہے، تقریبا 1400 فوجی ڈاکٹرز کو نئے اسپتال لایا گیا، ان میں سے بیشتر افراد نے 2002 اور 2003 میں پھیلنے والے سارس وائرس سے نمٹنے کےلیے رضاکارانہ کارروائیوں میں حصّہ لیا تھا۔

چین اس سے قبل بھی اسی طرح کی ریکارڈ مدت میں کی جانے والی تعمیرات کا ریکارڈ رکھتا ہے۔سنہ 2003 میں بھی سارس نامی وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک اسپتال بنایا گیا تھا جسے 4 ہزار افراد نے دن رات کام کر کے صرف 7 روز میں تیار کرلیا تھا۔

اب مذکورہ اسپتال کی تعمیر کے بعد امکان ہے کہ ملک بھر سے کرونا وائرس کے مریضوں کو یہیں لا کر علاج کیا جائے گا۔چین نے فلو کی طرح کے اس وائرس سے نمٹنے کے لیے سفری پابندیاں سخت کر رکھی ہیں اور ووہان سے باہر نکلنے یا شہر میں جانے پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے۔اب تک امریکا، جرمنی، جاپان، فرانس اور سنگاپور سمیت متعدد ممالک میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔