اے کشمیر ہم شرمندہ ہیں - ریان احمد حمزہ

اگر انسان کے جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ بلکل اسی طرح اگر کسی مسلمان کو دنیا کے کسی حصے میں تکلیف پہنچے، تو ساری مسلم دنیا اس تکلیف کو محسوس کرتی ہے۔ 5 فروری 1990 سے یہ دن، کشمیریوں کے ساتھ منصوب ہے۔

جس کا مقصد کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اُن کے غم میں شریک ہونا ہے۔ ہر سال 5 فروری کو کئ سیمینار، تقریبات، تقریریں، جلسے، جلوس اور مختلف پروگرامات منعقد ہوتے ہیں۔مگر افسوس کے ساتھ ہمارے یہ سیمینار، جلسے اور پروگرامات میں صرف دکھ و رنج کا اظہار ہی ہوتا ہے۔ یہ اظہار اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر کچھ نہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی کے ساتھ یکجہتی کرنی ہے، تو اس کے کوئی نہ کوئی عملی تقاضے بھی تو ہوتے ہوں گے۔ ہم ایسی کیا غلطی کر رہے ہیں جو پاکستان کی آزادی کے ستر سال بعد تک کشمیر آزاد نہ ہو سکا؟

جبکہ بھارت کشمیر مخالف اور پاکستان مخالف ہر اقدام اٹھا رہا ہے۔ پہلے بھارت نے کشمیر سے بہتے دریاؤں میں ڈیم اور بیراج بناکر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی۔ مگر کشمیریوں نے بھرپور مزاحمت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے نریندر مودی کا الیکشن جیتنا نيک شگون قرار دیا اور ٹویٹر پر نریندر مودی کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد بھی دی۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس الیکشن میں بھارتی جنتا پارٹی کے منشور میں آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 کا خاتمہ شامل ہے۔ پھر 5 اگست کا سیاہ ترین دن آیا۔ جب بھارتی حکومت نے عملی طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ پرچم اتارا گیا اور قانون معطل کردیا گیا۔ جس کے جواب میں پاکستان نے مقننہ کا مشترکہ اجلاس بلایا اور متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے آپ کو دنیا کے لیے کشمیر کا صفیر کہا۔

جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں صرف ایک تقریر کے علاوہ اور کچھ نہ کرسکے۔ بلکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کو مستقل رکن بنانے کے حق میں ووٹ دیا اور تو اور کشمیر کے لئے تیار کردہ قرارداد پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی کیونکہ پاکستان کے پاس قرارداد پیش کرنے تک کے ووٹ موجود ہی نہ تھے۔ اِن سب ناکامیوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد ائیر پورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جوسمجھ سے بالا تر ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کو خارجہ امور میں ناکامی برداشت کرنا پڑی۔ ملائیشیا اور ترکی کے علاوہ کسی اسلامی ملک نے پاکستان کے حق میں بیان نہ دیا۔ سعودیہ نے بھی اس متعلق نپاتلا بیان دیا۔ ملائشیاء پام آئل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی نو، نصف صدی کا تسلسل، تازہ شمارے کا جائزہ - سہیل بشیر کار

ملائیشیا نے کشمیر کی خاطر بھارت سے اپنی تجارت بند کرتے ہوئے ایک ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ جبکہ ترکی نے مسلم ممالک کا ایک ٹی وی چینل اور مسلم دنیا کی ایک کرنسی کی شاندار تجویز کوالالمپور سمٹ میں دی۔ پھر پاکستان ایک سعودی دھمکی کے دباؤ میں آکر یہ فیصلہ کیا کہ وزیراعظم ملائشیاء نہیں جائیں گے۔ لیکن پھر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی طرف سے کوئی سرکاری وفد کوالالمپور سمٹ میں شرکت ہی نہیں کرے گا۔ اُس سعودیہ کی خاطر، جس نے مسئلہ کشمیر کے باوجود بھارت سے مزید اچھے تعلقات بنائے، اُن کو مضبوط کیا اور تجارت میں بھی مزید اضافہ کیا۔جبکہ پاکستان نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے بیان پر افاقہ کیا۔ خان صاحب یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ٹرمپ ثالث نہیں ہوسکتا۔ خاص طور پر ہیوسٹن کے جلسے کے بعد، وہ تو خود فریق ہے۔

کچھ ہی مہینوں میں ٹرمپ بھارت کا دورہ کریں گئے جس میں کئ نئے معہدوں پر دستخط ہونگے۔ جس دروازے کو ہم کھٹکھٹا رہے ہیں، وہ کوئی اور پہلے سے کھلوا چکا ہے۔ حکومت سمجھ رہی ہے کہ افغانستان کی کنجی ہمارے پاس ہے۔ اس لیے امریکہ ہم سے بنا کر رکھے گا۔ مگر کوئی نہیں سوچ رہا کہ پاکستان کو بھارت کی دباؤ میں لاکر افغانستان کا حل نکلوایا جا سکتا ہے۔ مگر خان صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت ضدی ہیں۔ اتنی آرام سے نہیں مانتے۔ اسی لیے وہ ٹرمپ سے پُر امید ہیں۔ بہر کیف اقوام متحدہ کو کشمیر پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جیسے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے مابین ادا کیا تھا۔

مسئلہ کشمیر پر جماعت اسلامی کی کاوشوں کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ جماعت اسلامی نے 5 اگست کے بعد پاکستان بھر میں مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ تقریبا ہر شہر جاکر جلسے جلوس منعقد کیے۔ یہ قاضی حسین احمد صاحب کی جدوجہد ہے، کہ جس کی بنا پر 5 فروری کشمیریوں کے ساتھ موصوم ہے۔ کوالالمپور سمٹ میں صرف جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماء و ناظم اعلی رابط المدرس الاسلامیہ پاکستان، شیخ القرآن و الحدیث، مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے ہر جمعے والے دن، دن بارہ بجے سے لے کر ساڑھے بارہ بجے تک کھڑے رہ کر احتجاج کرنے کا وعدہ کیا۔ تین جمعوں کے بعد حکومت یہ وعدہ بھی بھول گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   قومیانے سے نجکاری کی سعی و جہد تک - حبیب الرحمن

آج کل میڈیا کا دور ہے۔ ففتھ جنریشن وار اسی کو کہتے ہیں۔ یہ کافی اہمیت کی حامل ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب ایک تقریب میں تقریر کر رہے تھے، جیسے ہی موجودہ حکومت کی مسئلہ کشمیر پر نالائقیوں پر تنقید شروع کی، تو نشریات معطل کر دی گئی۔ ایک مرتبہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے سلیم صافی صاحب کو انٹرویو دیا جو آن ائر نہیں ہونے دیا۔ 5 اگست سے کشمیر میں کرفیو نافز ہے۔ 180 روز سے جیتے جاگتے انسانوں کو قید کر کے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔

بچے تعلیم سے محروم ہیں، بزرگ دواوں سے محروم ہیں اور ہر کوئی غذا کی قلت کا شکار ہے۔ لیکن ہمارے حکمران گھوڑے گھدے بیچ کر سوے ہوے ہیں۔ بھارت کے ساتھ نہ سفارتی تعلقات ختم ہوئے، نہ تجارتی تعلقات ختم ہوئے اور نہ ہی پاکستانی فضائی حدود بند کی گئی۔

بحیثیت پاکستانی، آے کشمیر میں شرمندہ ہوں۔

اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرنے کے لیے مجھے ای میل کریں

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • زبردست! بهت خوب ماشاء الله ! اللہ تعالی آپ کے قلم میں مضبوطی دے اور آپ کو استقامت دے اور آپ کی حفاظت فرمائے۔ ۔۔. آمین۔
    ‎بارك اللّٰه فيك!