سمجھوتے کی شادیاں - عابد محمود عزام

ہمارے معاشرے کے بیشتر گھرانوں میں والدین، اولاد کی شادی کے معاملے میں ان کی رائے پر اپنی مرضی مسلط کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اپنے مقام و مرتبے کا حوالہ دے کر اولاد کو اپنا فیصلہ ماننے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ ان رویوں سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ قابل اصلاح رویے ہیں۔

کچھ دن پہلے فیس بک کے ایک لکھاری دوست نے اپنے نکاح کے معاملہ میں بے بسی کا اظہار کیا تھا۔ والدہ کی ناراضی کے خوف سے ان کے مسلط کیے اس رشتے کو قبول کیا، جو انہیں بالکل پسند نہیں تھا۔ کچھ عرصہ قبل بھی ایک لکھاری دوست نے بتایا تھا کہ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی والدین کا حکم مان کر اس رشتے کو قبول کرنا پڑا، جو انہیں پسند نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے میں والدین اولاد کی شادی کے لیے جس کا انتخاب کرتے ہیں، اولاد کو اس سے شادی کرنا پڑتی ہے۔

کئی گھرانوں میں لڑکے سے تو رشتے کے معاملے میں کسی حد تک اس کی مرضی پوچھ لی جاتی ہے، لڑکی سے تو یہ پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی جاتی، بلکہ اسے تو بتایا ہی تب جاتا ہے، جب اس کا رشتہ پکا کردیا جاتا ہے، اسے یہ رشتہ پسند آئے یا نہ آئے، ہر حال میں اسے والدین کا انتخاب زندگی بھر کے لیے قبول کرنا پڑتا ہے۔ لڑکی تو خیر انکار کا سوچ بھی نہیں سکتی، اگر لڑکا بھی والدین کی مرضی سے کیے رشتے سے انکار کرے تو بھی اسے والدین کی نافرمانی اور گستاخی قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے قطعا انکار نہیں کہ والدین کے اولاد پر بہت سے حقوق ہیں، ان کا رتبہ بہت بلند ہے۔

ایک کے پاؤں نیچے جنت تو دوسرا جنت کا دروازہ ہے۔ اولاد اپنے والدین کی خدمت میں دن رات مصروف رہیں تو بھی ان کی خدمت کا حق ادا نہیں ہوسکتا، لیکن اس سب کے باوجود والدین کو اولاد کی زندگی کے فیصلوں کے معاملے میں ایک حد تک ہی اختیار ہے۔ شادی کا معاملہ زندگی کا اہم ترین معاملہ ہوتا ہے، شریعت نے شادی کے معاملے میں مکمل اختیار والدین کو نہیں دیا کہ وہ اپنی پسند اور نا پسند کو اولاد پر مسلط کریں، بلکہ لڑکا ہو یا لڑکی، شادی میں ان کی رضامندی ضروری ہے۔

اگر کسی شادی میں لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضامندی شامل نہیں تو شریعت کی نگاہ میں وہ معتبر نہیں ہے، شاید اسی لیے نکاح سے پہلے دونوں کا ایک دوسرے کو قبول کرنا ضروری ہے۔ اسلام نکاح کے معاملے میں مرد اور بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کو تو فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے اور کنواری لڑکی کی شادی بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ حدیث میں ہے کہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، بلکہ ایک دفعہ ایک عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح فسخ کردیا تھا۔

لڑکا ہو یا لڑکی، شادی کے معاملے میں ان پر اپنی مرضی مسلط کرنا غیر معقول بات ہے۔ شادی ان کی زندگی کا معاملہ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ والدین ان کی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلہ کریں۔ والدین بہتر مشورہ ضرور دے سکتے ہیں، اس ضمن میں اولاد کی رہنمائی کرسکتے ہیں اور انہیں سمجھا بھی سکتے ہیں، لیکن ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے۔ بعض اوقات اس قسم کے رشتے کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، مگر کم ہی ایسا ہوتا ہے، بلکہ زبردستی اور سمجھوتوں کی زیادہ تر شادیوں کے نتائج اچھے نہیں نکلتے۔

ہمیشہ کی ناراضگیاں اور لڑائی جھگڑے حصے میں آتے ہیں اور کئی بار تو یہ رشتے طلاق پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ جن رویوں کے نتائج اتنے بھیانک نکلتے ہوں، ایسے رویوں کی اصلاح ضروری ہے، خاص طور پر دینی شخصیات کو اس حوالے اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور معاشرے کو شریعت کے احکام سے آگاہی دینی چاہیے۔