غربت اور دانشوری - آصف محمود

جیسے ڈگری ڈگری ہوتی ہے ، جعلی ہو یا اصلی ، اسی طرح رئیس رئیس ہوتا ہے بھلے وہ کوئی روایتی رئیس ہو یاکوئی دانشور رسول بخش رئیس ہو۔

جناب رسول بخش رئیس کا روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہونے والا ایک’’ فکر انگیز‘‘ انٹرویو میرے سامنے رکھا ہے اور اس کے مندرجات نے مجھے واقعی فکر میں مبتلا کر دیاہے۔ عوامی مسائل اور محرومیوں کے بارے میں اگر ان جیسے صاحب علم کی بے نیازی کا یہ عالم ہے تو اہل اقتدار سے کیسا شکوہ اور کاہے کا گلہ؟

احمد اعجاز صاحب نے یہ انٹر ویو کیا ہے اور چونکہ ان کی بنیادی دلچسپی کا میدان سماج ہے اس لیے اس انٹرویو کا مرکزی نکتہ بھی سماج اور اس کی محرومیاں ہیں۔ وہ سوال پوچھتے ہیں : آپ نے لوگوں کی معاشی زندگی میں بہتری کی بات کی ۔آپ کہتے ہیں کہ گذشتہ بیس پچیس برس سے لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کا معیار زندگی بھی بہتر ہوا۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ دس پندرہ بیس اور پچیس برس پہلے گھر میں ایک آدمی کام کرتا تھا اور باقی سب کی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں۔آج جو معاشی بہتری نظر آ رہی ہے تو گھر کا ہر فرد کام کرتا ہے اور سب مل کر گھر چلاتے ہیں جس کی وجہ سے معیار زندگی میں بہتری بھی دکھائی دیتی ہے؟

اب ذرا جواب ملاحظہ فرمائیے: ایسا نہیں ہے۔ اگر گھر کے آٹھ بندے کام کرتے ہیں تو فی بندہ آٹھ سو اجرت لیتا ہے ۔ شام کو یہ لوگ اگر کھانا خود بنائیں تو دو سو روپے میں یہ کھانا کھا سکتے ہیں۔احمد اعجازسوال کرتے ہیں: یعنی دو سو روپے میں کھانا تیار ہو سکتا ہے تو جواب ملتا ہے: جی بالکل یہ کھانا اتنے پیسوں میں تیار ہو سکتا ہے۔

اب میرے جیسا طالب علم ایک صاحب علم کی یہ جمع تقسیم سامنے رکھ کر سر پکڑ کر بیٹھا ہے کہ اس سماج کا کیا بنے گا ، حکمران تو ایک امتحان ہیں ، یہاں تو دانشور ی بھی پورا مسئلہ فیثا غورث بن چکی ہے۔ آدھی عمر بیرون ملک گزار کر ، بہترین یونیورسٹیوں سے بہترین پیکج حاصل کر کے دارالحکومت کے مضافات میں قائم اپنے کسی فارم ہائوس میں بیٹھ کر اب اہل دانش غریبوں کے مسائل پر عالمانہ بحث فرماتے ہیں تو باقاعدہ گدگدا دیتے ہیں۔

میں نے جب سے یہ انٹرویو پڑھا ہے یہی سوچ رہا ہوں کیا آٹھ لوگوں کے لیے کھانا دو سو روپے میں تیار ہو سکتا ہے؟ کیا فاضل پروفیسر کے نزدیک ایک مزدور دو ٹانگوں والا جانور ہے جس نے میدے کی ایک روٹی کے اوپر سرسوں کے چارپتے رکھ کر کھا لینے ہیں ۔اگلے روز سڑک کنارے قائم ایک کھوکھے سے میں نے ادرک اور چار لیموں لیے تا کہ قہوہ بنا یا جائے اور ساتھ میں تھوڑا سا لہسن بھی لے لیا کہ چیسٹ انفیکشن کافی شدید ہو چکا تھا ۔اس کا بل مبلغ ایک سو ساٹھ روپے بنا ۔ میں یہی سوچتا رہ گیا کہ عزت مآب پروفیسر صاحب آٹھ بندوں کا کھانا دو سو روپے میں کیسے تیار فرما رہے ہیں؟

آدمی آسودہ حال ہو تو بے نیازی ادا ٹھہرتی ہے لیکن اے دل بر خوش قیامت ، ایسی بھی کیا بے نیازی صاحب ۔ یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ خود دریا کنارے بیٹھا ہو تو اسے اس پیاسے کی تشنگی کا کوئی احساس نہیں ہوتا جسے ہر پہر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا پڑے لیکن یہ بھی کیا بھولا پن کہ آدمی ہاتھ نچانے لگے: صاحب یہ پیاس کیا ہوتی ہے؟

پورے احترام کے ساتھ چند مزید سوالات پوچھے جانے چاہییں تھے ۔ پوچھا جاتا جناب محترم آپ نے آخری بار اشیائے خوردو نوش کی خریداری کب کی؟ پوچھاجاتا، جناب کیا آپ کو کچھ خبر بھی ہے ایک سال میں چیزوں کی قیمتیں کتنی بڑھیں اور کتنی مرتبہ پڑھیں؟ پوچھا جاتا، جناب آپ کو کچھ خبر ہے سب سے گھٹیا کوالٹی کا گھی اس وقت مارکیٹ میں کتنے کا مل رہا ہے؟ پوچھا جاتا ،سب سے گندے معیار کی سرخ مرچ کی قیمت کا آپ کو کچھ اندازہ ہے؟ پوچھا جانا چاہیے تھا سب سے غیر معیاری آٹے کے بھائو کی آپ کو خبر ہے؟ اور ایک کاغذ اور قلم سامنے رکھ کو سراپا سوال ہو جانا چاہیئے تھا عالی جاہ دو سو روپے میں آٹھ بندے کیسے کھانا کھا سکتے ہیں ذرا اس نسخہ کیمیا کا فارمولا یہاں لکھ دیجیے تا کہ سند رہے اور رہتی دنیا تک غریبوں کے کام آئے۔

غریب اگر گھاس بھی پکا کھائے گا تو گیس کا بل تو دے گا؟ مرچ کے دو چمچ اور تھوڑا سا گھی تو ڈالے گا ۔میں وہ مینیو جاننا چاہتا ہوں جس کی روشنی میں آٹھ مزدور دو سو روپے میں کھانا کھا سکتے ہیں۔ یہ خدمت خلق ہو گی اگر اس طلمساتی نسخے کی تفصیل سے قوم کو فیض یاب فرمایا جائے جس کے تحت آٹھ مزدور دو سو روپے میں کھانا تیار کیا کریں گے ۔

ہسپتالوں کی حالت زار کی بات ہوئی تو صاحب نے فرمایا؛’’میں نے یہ دیکھا ہے کہ لوگوں کے پاس پیسہ بہت ہے۔میرے ایک دوست یہاں کے نجی ہسپتال میں داخل رہے تو میں عیادت کے لیے گیا ۔اس ہسپتال میں ایک رات کا کرایہ اکیس ہزار روپے تھا۔ روزانہ کا خرچ ان کا خرچ ایک لاکھ روپے ہو رہا تھا۔جب کہ رش کا یہ عالم تھا کہ وہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی‘‘۔

یعنی اگر آپ کے جاننے والے آسودہ حال ہیں تو کیا آپ اس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ملک میں اب لوگوں کے پاس پیسہ بہت آ گیا ہے؟کیا آپ کبھی ایسے بیمار لوگوں سے بھی ملے جن کی ماہانہ آمدن بھی اکیس ہزار نہ ہو اور جنہوں نے زندگی بھر ایک لاکھ اکٹھا نہ دیکھا ہو۔دلیل کا یہ کون سا پیمانہ ہے آپ کے دوست اپنی صحت پر یومیہ ایک لاکھ خرچ کر سکتے ہیں تو اس سے آپ یہ نتیجہ اخذ کر لیں اب ملک میں لوگوں کے پاس پیسہ بہت آ گیا ہے۔

میری پریشانی صرف یہ نہیں کہ ہمارا دانشور عام آدمی کے مسائل سے یکسر بے خبر ہے۔پریشانی یہ بھی ہے ہمارے اہل دانش جب ایران توران کی خبر لاتے ہیں اور دنیا بھر کے معاملات پر ہماری رہنمائی فرما رہے ہوتے تو کیا اس وقت بھی ان کے تجزیوں میں دلائل کا معیار ایسا ہی ہوتا ہے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.