ڈاکٹر،ڈاکو اور ڈاکیا ۔ عبدالخالق بٹ

موسم آیا تو نخل دار میں میؔر
سرِ منصور ہی کا بار آیا
یہ شعر اردو زبان کے مقبول اشعار میں سے ایک ہے۔اس شعر میں ’منصور‘ ایک نام نہیں ایک علامت ہے۔ ’حق‘ کہنے اور اُس کی پاداش میں جاں سے گزرجانے کی علامت۔مگر جس ’منصور‘ کا ذکر ہمیں مطلوب ہے وہ علامت یا استعارہ نہیں بلکہ محبت کا حوالہ ہیں۔آپ ہمارے دوست ’منصور احمد‘ہیں۔
اکہرا بدن، کشادہ پیشانی، چہرے پر داڑھی، موٹے شیشوں کی عینک اور اُس پر سے جھانکتی گھنی بھویں، بال کنگھے کے تکلفات سے یکسر نہیں تو اکثر بے نیاز، مگر خود سراپا ناز بلکہ مایہ ناز ہیں۔مطالعے کے شوقین اور اردو ادب کے شیدائی ہیں۔کوچۂ ساہوکاراں میں ڈیرہ ہے مگر گاہے صحافت کی گلی میں آ نکلتے ہیں کہ ’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘۔
ہمارے ممدوح کو شائد ہمارا امتحان مطلوب ہے، پوچھتے ہیں’ریشۂ خطمی‘ کسے کہتے ہیں؟ اور محاورہ ’ آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ میں ’آؤ اور تاؤ‘ سے کیا مراد ہے؟۔۔۔’ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا‘۔
خیر جہاں تک ہم جان سکے ہیں’ریشۂ خطمی‘ دو لفظوں ’ریشہ‘ اور’خطمی‘ سے مرکب ہے۔ لفظ ’ریشہ‘ کے معنی میں پٹھے ، باریک تار، رگ یا نس، رُواں، رونگٹا، بال اور درخت کی باریک جڑ وغیرہ شامل ہے۔اسی رعایت سے داڑھی ’رِیش‘ ، داڑھی والا ’بارِیش‘ اور بنا داڑھی والا ’ بے رِیش‘ کہلاتا ہے۔ میر انیسؔ کے مرثیے کا ایک شعر ہے:
تھی آنسوؤں سے رِیش مبارک تمام نم
فرط بکا سے خاک پہ جھکتے تھے دَم بہ دَم
جب کہ ’خطمی‘ عربی میں ایک پھول دار پودے کا نام ہے جسے فارسی میں ’گُلِ خطمی‘ اور اردو میں’گُل خیرو‘کہتے ہیں۔ریشۂ خطمی(خطمی کی جڑ) کو حکیم دواؤں میں اور اہلِ زبان محاورے میں استعمال کرتے ہیں۔وہ یوں کہ بہت ہنسنے اور جلد ریجھ جانے والے کو کنایۃً ’ریشۂ خطمی‘ کہاجاتا ہے۔اسی طرح جب کوئی کسی پر لٹو ہوجائے، مارے خوشی کے آپے میں نہ رہے یا چاپلوسی پر اتر آئے تو ایسے موقع پر ’ریشۂ خطمی ہونا ‘بھی کہا جاتا ہے۔دیکھیں سعادت حسن منٹو کے افسانے ’پڑھیے کلمہ‘ کا ایک کردار کیا کہہ رہا ہے:
’ ۔۔۔ مرد سالے بھی کم نہیں ہوتے۔بس، کسی عورت کو دیکھا اور ریشۂ خطمی ہوگئے‘۔
ہمیں چھان پھٹک کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خطمی کی جڑ (ریشہ) سے ریجھنے کا کیا تعلق ہے۔جب کہ اس کی جڑ دکھنے میں دوسرے پودوں سے کسی طور بھی مختلف نہیں ہوتی۔
یہی کچھ معاملہ ’ زعفران‘ کے ساتھ ہے کہ جس کے کھیت کو ہنسنے ہنسانے بلکہ قہقہے لگانے سے نسبت دی جاتی ہے۔محاورہ ’محفل زعفران زار یا کِشت زعفران بن جانا‘ اسی سے متعلق ہے۔
’فرہنگ آصفیہ‘ والے مولوی سید احمد دہلویؒ کے مطابق ’۔۔۔اس (زعفران) کے کھیت کی نسبت لوگوں کا خیال ہے کہ اُس میں جاکر آدمی ہنسے بغیر نہیں رہتا ‘۔مولوی صاحب نے بھی ’خیال‘ ہی ظاہر کیا ہے یقین سے کچھ نہیں کہا۔ اور کہتے بھی تو کیونکر کہ یہ بات بھی ریشۂ خطمی‘ کی طرح مشاہدے کے خلاف ہے۔
جہاں تک مشاہدے کی بات ہے تو ہم ’بالچھڑ‘ کا ذکر کریں گے۔جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے یہ بالوں کی نشوونما سے متعلق اور ایک خوش بو دار گھاس ہے، اس کا رنگ سبزسیاہی مائل ہوتا ہے۔اس کی خوش بو بلی کو بہت مرغوب ہوتی ہے اور وہ اس کے گرد خوب لَوٹیں لگاتی ہے، چنانچہ اس لَوٹنے کی نسبت سے ’بالچھڑ‘ کو ’بلی لوٹن‘ بھی کہتے ہیں۔یقین نہ آئے تو گھر کی بزرگ خواتین یا پنساری سے پوچھ لیں۔
اب بات ہوجائے ’ آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ کی۔اس محاورے کا صاف اور سادہ مطلب ہے ’بغیر سوچے سمجھے کام کرنا‘۔مولوی فیروز الدینؒ نے اپنی لغت میں ’آؤ تاؤ‘ کے معنی ’رنگ ڈھنگ‘ بیان کیے ہیں مگر کوئی مثال یا محاورہ بطور سند درج نہیں کیا۔بہرحال ہم زیر بحث محاورے میں ’آؤ تاؤ ‘ کو ’رنگ ڈھنگ‘ پر قیاس کرتے ہوئے ’موقع و محل‘ کا مترادف بھی کہہ سکتے ہیں۔واللہ اعلم
اسے حسن اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک اور صحافی دوست فرحان محمد خان نے’ڈاکیا اور ڈاکو‘ کے لفظی یکسانیت کے پیش نظر ’معنوی اشتراک‘ کے بارے میں پوچھا ہے۔گویا
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیؔر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
سچی بات تو یہ ہے کہہ کہ اس مختصر سوال کا جواب تفصیل طلب ہے۔پھر بھی اس دریا کو کوزے میں بندھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
لفظ ’ڈاکو‘ اور ’ڈاکیا‘ دونوں ہندی لفظ ہیں۔ڈاکیا لفظ ’ڈاک‘ سے مشتق ہے۔’ڈاک‘ کے معنی میں ’ڈاک خانہ‘، لیٹر بکس اور خطوط کے علاوہ ’گھوڑوں کی چوکی‘ اور ’سفر کے لیے گھوڑوں کا سلسلہ وار انتظام‘ بھی شامل ہے۔دوسری طرف اردو لغات میں ’ڈاکو‘ کی ’ڈاک‘ سے کوئی نسبت بیان نہیں کی گئی۔تاہم غور کیا جائے تو یہ تعلق بیان کیا جاسکتا ہے۔
سرکاری اور نجی خطوط کے علاوہ قیمتی اشیائ کی تیز ترین ترسیل (گھوڑوں والی)’ڈاک‘ کے ذریعے ہوتی تھی۔ایسے مسافر جو منزل پر جلد پہنچنا چاہتے تھے وہ بھی اسی ’ڈاک‘ میں سفر کرتے تھے۔ اپنی اسی برق رفتاری کی وجہ سے ’ڈاک‘ کا لفظ تیز رفتاری کا مترادف ہوگیا تھا۔دیکھیں شاعر کیا کہتا ہے:
بہت جلدی لیے جاتے ہیں کیوں میرے جنازے کو
مسافر ’ڈاک‘ میں جاتا ہے کیا شہر خموشاں کا
انگریزوں کے دور میں ’ڈاک‘ سے سفر کرنے والے مسافروں سے مطبوعہ اقرار نامے پر دستخط کروائے جاتے تھے کہ حادثے کی صورت میں محکمہ ڈاک ذمہ دار نہ ہوگا۔علامہ اقبال کے دیرینہ دوست ’غلام بھیک نیرنگ‘ ایسی ہی ایک ڈاک میں سفر کرتے ہوئے گھوڑوں کے بدک جانے پر حادثے سے دوچار ہوگئے تھے۔
اب بذریعۂ ’ڈاک‘ قیمتی اشیائ کی ترسیل اور ’ڈاک‘ بمعنی تیز رفتاری سے دو باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ اول یہ کہ جو لوگ قیمتی اشیائ لیجانے والی ڈاک لوٹ لیتے تھے وہ ’ڈاک‘ کی نسبت سے ’ڈاکو‘ کہلائے۔وہ یوں کہ لفظ ’ڈاکو‘ کا آخری لفظ ’واؤ‘ نسبت یا صفت کو ظاہر کرتا ہے۔جیسے پیٹ سے’پیٹو‘ یا ہند سے ’ہندو‘ وغیرہ۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈاک لانے والا ’ڈاکیا‘ اور ڈاک لوٹنے والا ’ڈاکو‘ ہوگیا۔
دوم یہ کہ اگر ’ڈاک‘ کو گھوڑوں اور تیز رفتاری کی نسبت سے سمجھا جائے تو ممکن ہےکہ گھوڑوں پر سوار لوٹ مار مچانے اور تیزی سے فرار ہوجانے والے ‘ڈاکو‘ کہلائے۔تاہم دونوں صورتوں میں ڈاکو کی نسبت ’ڈاک‘ہی سے جڑتی ہے۔واللہ اعلم
ویسے ڈاکو اور ڈاکیا کا ہم آواز ایک لفظ ’ڈاکٹر‘ بھی ہے۔یوں تو ڈاکٹر انگریزی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ڈاکو یا ڈاکیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔تاہم بہت سے ڈاکٹروں کے ’پیشہ ورانہ‘ طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ : ’ میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم یافتہ ایسا شخص جس نے ڈھاٹے کی جگہ ماسک سے منہ چھپایا ہو اور جو خنجر کے بجائے نشتر دکھا کر مریض سے بھاری رقم بطور فیس ہتھیا لے اُسے ڈاکو نہیں کہتے ڈاکٹر پکارتے ہیں‘۔
اس پہلے کہ ڈاکو یا ڈاکٹر ہمارے خلاف ہوجائیں ہمیں اجازت دیں کہ ’ کام اور بھی ضروری ہیں اس زمانے میں‘۔اللہ حافظ

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */