کیا یہ کرونا وائرس کی کہانی تھی؟

واشنگٹن : ہالی ووڈ فلم ‘آوٹ بریک’ میں 25 برس قبل ہی ووہان سٹی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی پیش گوئی کی گئی تھی، جبکہ 2011 میں بننے والی فلم ‘کونٹیجیئن’ میں کرونا جیسے وائرس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے انڈسٹریل شہر ووہان سے پھیلنے والے مہلک ترین کرونا وائرس جس نے ابتک سیکڑوں انسانوں کی جان لےلی ہے کی نشاندہی برسوں پہلے ایک ہالی ووڈ فلم میں کردی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1995 میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ فلم ‘آوٹ بریک’ میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے ایک مہلک ترین وائرس کی نشاندہی کی گئی تھی۔1995 میں ریلیز ہونے والی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص جنگلی بندر کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اس دوران بندر اسے بندر کے پنجے لگنے کے باعث جراثیم منتقل ہوجاتے ہیں۔

سنہ 2011 میں بننے والی فلم کونٹیجیئن میں بھی کرونا جیسے وائرس کی نشاندہی کی گئی ہے، فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک خاتون کو کھانسی ہوتی ہے اور پھر اس کے منہ سے نکلنے والے جراثیم دوسرے انسانوں بھی بیمار کرنا شروع کردیتے ہیں۔

انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے مہلک ترین وائرس کے باعث ایک ماہ کے دوران پوری دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد ہلاک کردیتا ہے۔

کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور انسانوں سے بھی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جس کے باعث نزلہ و زکام جیسی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور بروقت و مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ چین میں کروناوائرس سے 259 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 12 ہزار افراد متاثر ہوئے، چین کے مختلف شہروں میں نظام زندگی مفلوج ہے ، چودہ صوبوں میں چھٹیاں اور لوگ گھروں میں محدود ہیں جبکہ چین کی معشیت کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔